اصغر خان کیس اور صدر کا حلف وفا

21 اکتوبر 2012

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ جس کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کر رہے تھے نے اصغرخان کیس پر 16 نکات پر مشتمل مختصر فیصلہ جاری کر دیا ہے جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں آئے گا۔ سپریم کورٹ کے موجودہ تین رکنی بنچ سے پہلے اس کیس کی آخری سماعت 12اکتوبر 1999ءمیں ہوئی تھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق سابق چیف آف آرمی سٹاف اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی فوج کی بدنامی کا باعث بنے۔ وفاقی حکومت ان کے خلاف قانونی اقدام کرے۔ رقوم کی تقسیم کی تحقیقات ایف آئی اے کرے۔ یونس حبیب کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایوان صدر میں 1990ءمیں الیکشن سیل قائم ہوا۔ 1990ءکے الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور سیاسی عمل آلودہ کیا گیا۔ صدر حلف وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے ریمارکس میںکہا ہے کہ وزیراعظم سربراہ حکومت ہوتا ہے۔ آئین صدر کو سربراہ ریاست کہتا ہے نہ کہ وزیراعظم کو۔ صدر بننے والا شخص الیکشن آفس نہیں بنا سکتا۔ صدر وفاق کی علامت ہے اس کو غیر جانبدار ہونا چاہئے۔ وطن عزیز کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت کی طرف سے فوج کے کسی سربراہ کے خلاف فیصلہ جاری کیا گیا ہے اس سے پہلے ایسا نہیں ہو سکا۔ تاہم اب وفاقی حکومت چونکہ پیپلزپارٹی کی ہے تو پیپلزپارٹی پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف قانونی اقدام کرے۔ 1990ءمیں اصغرخان کیس کے مطابق جو رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھی اس کے تحت پیپلزپارٹی کو انتخابات میں شکست سے دوچار کرنے کے لئے رقوم کی تقسیم کی گئی اور اب پیپلزپارٹی پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بابت اپنا کردار ادا کرے کہ جب سپریم کورٹ واضح احکامات جاری کر چکی ہے یا پھر پیپلزپارٹی ان احکامات پر بھی اپنی روایتی روش کو بروئے کار لائے گی اور جس طرح آج تک پیپلزپارٹی کی سابق چیئرمین اور پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بینظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں کوئی پیش رفت نہیں کی جا سکی۔ ایسے ہی اقدامات ہوں گے۔ قانونی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے عام رائے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پیپلزپارٹی سپریم کورٹ کے ان احکامات پر بھی عملدرآمد نہیں کرے گی اور اصغرخان کیس کا جو فیصلہ سامنے آیا اس پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں پیپلزپارٹی کی سیاسی ساکھ مزید متاثر ہو گی۔ ہمارے ملک میں سٹیبلشمنٹ خفیہ ایجنسیوں اور فوجی سربراہوں کی طرف سے سیاسی معاملات میں مداخلت کوئی نیا کھیل نہیں۔ تمام باخبر حلقے جانتے ہیں کہ اکثر سیاست دان جی ایچ کیو کی چوکھٹ پر دستک دیتے رہتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں براجمان اعلیٰ حکومتی شخصیات بھی اسٹیبلشمنٹ کے زیراثر رہی ہیں اور شاید پیپلزپارٹی کے بانی مرحوم ذوالفقار علی بھٹو اور مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف کا اپنے دوراقتدار کے دوران یہی قصور تھا کہ انہوں نے سٹیبلشمنٹ کی من مرضیوں اور سپرمیسی کو تسلیم کرنے سے انکاری ہوتے ہوئے اپنی من مرضی چلانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ایک وزیراعظم کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اور دوسرا وزیراعظم معزول ہو کر کئی سالوں تک جلاوطنی کی سزا بھگتتا رہا۔ اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی دائروں میں سفر اور اس کی کمانڈ جمہوریت کے لئے سب سے بڑا خطرہ رہی ہے اور ہمارے ملک میں اگر جمہوریت کبھی پنپ نہیں سکی اور جمہوری نظام بری طرح متاثر ہوتا رہا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری فوجی ڈکٹیٹروں کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ کے اس ظاہری اور پوشیدہ بھیانک کردار پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ملک میں اب تک چار فوجی آمر غاصبانہ اقتدار کر کے ملک کو ہر لحاظ سے نقصانات سے دوچار کرنے کے علاوہ کئی ایسے بحرانوںمیں دھکیل چکے ہیں جن سے نبردآزما ہونے کے لئے آج تک تگ و دو کا سلسلہ جاری ہے۔ کون نہیں جانتا کہ اسٹیبلشمنٹ حکومتوں پر حاوی ہونے کے لئے کیسے کیسے حربے استعمال کرتی رہی ہے اور آج بھی کرتی ہے اسی لئے تو پیپلزپارٹی کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وفاق میں ان کی حکومت ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی فوج کے ان سابق سربراہان کے خلاف سپریم کورٹ کے احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی کوئی اقدام نہیں کرے گی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے اصغرخان کیس کا فیصلہ جاری کرنا ملکی تاریخ میں ایک تاریخ ساز فیصلے کے طور پر جانا جائے گا۔ اسلم بیگ نے اس مرتبہ جب سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کرتے ہوئے ایک شعر داغا تھا تو اس پر سپریم کورٹ نے سخت برہمی کا اظہارکیا تھا اورماضی میں اسی سپریم کورٹ کے اندر جب اسلم بیگ پیش ہوئے تھے تو تب کیا صورتحال تھی اسے بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ گذشتہ روز ہی واضح کر چکی ہے کہ فوج کا سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا حلف کی خلاف ورزی ہے۔ اب واضح کیا گیا ہے کہ صدر وفاق کی علامت ہوتا ہے اور صدر کی طرف سے کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرنا حلف وفا کی خلاف ورزی ہے۔ ہمارے صدرمملکت آصف علی زرداری کے پاس دو عہدے یعنی پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور صدرمملکت کی حیثیت موجود ہے اس بارے میں لاہور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن زیرسماعت ہے۔ اصغر خان کیس کے مختصر فیصلے میں جبکہ سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ صدر اگر کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرے یا الیکشن سیل ایوان صدر میں قائم کیا جائے تو یہ حلف وفا کی خلاف ورزی ہو گی اس سے قانونی حلقوں کے اس نقطہ نظر کو بھرپور تائید حاصل ہوتی ہے کہ آئندہ لاہور ہائیکورٹ اس بارے میں کوئی فیصلہ جاری کرتے ہوئے اس سے بھرپور اور مضبوط معاونت حاصل کر سکتی ہے۔