شاخ سے ٹوٹے ہوئے پتے کی کیسی آبرو

21 اکتوبر 2012

 ماں کے پاس گھر میں دو ”بک“ گندم تھی۔ جو اس کرموں کی ماری نے معصوم بچوں کے لئے پیس لی۔ جو سب کے کھانے کے لئے انتہائی ناکافی ہے۔ بچوں کے ساتھ ساتھ ماں بھی رو رہی ہے کہ اب اور دانے کہاں سے آئیں کئی دن سے ہمسایوں اور دور نزدیک کے شریفوں سے مانگ تانگ کر سب کے پیٹ میں چند نوالے جا رہے ہیں۔ جوان پیٹ پوجا کر مایہ لگے پہن کر نکل جاتے ہیں۔ رات آدھی آتے ہیں اودھم مچاتے ہیں نہ جانے کہاں کہاں جاتے ہیں ہوٹلوں چائے خانوں اور دوستوں یاروں کی محفلوں میں گپ شپ کرتے اور کبھی کبھار دنگا فساد کرکے زخمی ہو کر اور کبھی زخمی کرکے‘ کبھی نشہ کی حالت میں اور کبھی تھکے تھکے آدھمکتے ہیں۔ باپ 1948ءمیں بیماری سے لڑتا لڑتا زندگی ہار گیا تھا۔ بعد میں اولاد نے باپ کی شرافت بیچ کھائی۔ مرحوم کے عزائم خاک میں ملا دئیے۔ اب اس دور کے فال فال رہ گئے ہیں جو شرمسار کرتے کہ کیا کرتے پھر رہے ہو۔ اپنے باپ کی محنت کی کمائی گنواتے پھر رہے ہو۔ کیا ساکھ تھی؟ کیا وقار تھا؟ جگ میں نرالی شان تھی ایک دنیا‘ دوست دشمن‘ دور نزدیک کے سب جانتے اور مانتے تھے۔ کیا کیا نہیں بنا کر دیا۔ روزگار کے وسائل‘ یقینی روزگار‘ عزت وقار‘ گھر ور‘ چھت‘ ساز و سامان سک اور دکھ اور خطرات سے نپٹنے کے لئے ضروری اسلحہ اور وسائل سب مہیا کرکے اولادوں کو احساس تحفظ فراہم کر دیا۔ زندگی گزارنے اور باہمی اتفاق و اتحاد اور نظم و ضبط کے مارے گر بنا دئیے۔ اپنے رب اور رب کے رسول کے بتلائے ہوئے راستے کی نشان دہی کرکے عالی شان راہ متعین کر دی۔ باپ کی جدائی کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے بھٹکنے سے بچانے کے لئے کچھ اپنے نیک بندوں کے ذریعہ جان و مال اور ایمان و آبرو کے تحفظ کا سامان کیا۔ ایک نمایاں دستور العمل دیا۔ ہر قسم کے فرقہ بندی اونچ نیچ اور ایمان و یقین کے دشمنوں سے بچانے کے لئے مختلف سوچ اور فکر و اعتقاد کے نمائندوں کو حکمت اور تدبر سے نوازا کہ وہ آپس کے سارے اختلافات بھلا کر مشترکات پر اکھٹے ہوں کہ باپ کا سرمایہ ضائع نہ ہو۔ اس تدبیر کے بعد ایک بہترین قرارداد عوامی اعتماد کے حامل نمائندوں کے ذریعہ منظور کرکے قوم کو دے دی کہ اب آئندہ کا دستور العمل اس کی روشنی میں اس کی متعین کردہ حدود و قیود میں رہ کر ہمیشہ مرتب ہو گا۔ کتنے سال بیت گئے۔ مستقبل کی تعمیر کا خواب دیکھنے والے اور خواب کے مطابق گھر ور اور چھت اور انفرادی خاندانی و اجتماعی زندگی گزارنے کے سارے وسائل مہیا کرنے والے کی جان جوکھوں کی کمائی شب و روز لٹ رہی ہے۔ بچے چیخ رہے ہیں شب و روز لٹ اور کٹ رہے ہیں باپ کی بتلائی ہوئی صراط مستقیم دھندلا رہی ہے۔ مائیں‘ بیٹیاں‘ بہنیں غیر محفوظ ہو رہی تھیں۔ بھوک‘ سروں پر منڈلا رہی ہے۔ کمزوری‘ لاچاری اور عزت و آبرو اور مستقلی کی تعمیر سے غفلت کو دیکھ کر غنڈے‘ شہدے‘ جان و ایمان کے دشمن اور باپ کے نظریات وژن اور اس کے اثاثے پر یلغار کرنے والے بڑھ بڑھ کر وار کر رہے ہیں۔ بے عمل اور بدعمل‘ بگڑے ہوئے ‘ عیاشی اور بے حمیتی کی زندگی پر قانع افراد دشمنوں کی جیبوں کی طرف للچائی ہوئی نظریں جمائے ہوئے ہیں اور ان کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ دشمن ہیں کہ مختلف حیلوں بہانوں اور لالچ اور دبا¶ سے اپنی گرفت مضبوط کرتے جا رہے ہیں۔ معصوم بچے ماں کے گرد بیٹھے کھانے کے لئے رو رہے ہیں۔ عزت دار بچیاں‘ بہن بیٹیاں عزت جان کے تحفظ کے لئے پریشان ہیں۔ روزگار کے وسائل نہیں ہیں۔ جن سے ادھار مانگ مانگ کر چولہے جلائے جاتے رہے وہ واپسی کے لئے تقاضے کر رہے ہیں اور غیر اخلاقی اور دبا¶ کی شرائط منوا رہے ہیں۔ ایک معصوم بیٹی کی صحیح سوچ کو دشمنوں اور ان کے ایجنٹوں نے اپنے مطلب کے لئے ڈھال لیا۔ اور اب لچ تل رہے ہیں۔ بظاہر ہماری ہمدردی کر رہے ہیں مگر اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں بگڑے ہوئے بڑے مایہ لگے لباس پہنے اپنی اپنی سواریوں پر اپنے اپنے اڈوں پر نکل جاتے ہیں۔ سارا دن گھل چھرے اڑانے اور دشمنوں کے آلہ کار بن کر ترک نازیاں کرتے ہیں۔ اب روز واویلا ہے کہ گھر میں دانے ہیں یا نہیں ہیں۔ بہنوں کے ہاتھوں میں مہندی لگے نہ لگے۔ کھیت کو پانی ملے نہ ملے۔ چار دیواری سیلاب کی نذر ہو‘ فصل اگے نہ اگے‘ ہمیں ہر ایک کے لئے الگ الگ کمرے ملنے چاہیں۔ اسی چار دیواری میں دیواریں کھینچنی ہوں گی۔ جو باپ دے گیا تھا اس کا آدھا بیچ کھایا اور صرف اپنی نمبرداری کے لئے اس کے علاوہ جس پر تسلیم شدہ حق تھا۔ وہ حصہ بھی نہیں حاصل کیا۔ جو بچا ہے اس گھر میں تقسیم در تقسیم ہو گی۔ دیواریں کھچیں گی۔ نفرتیں بڑھیں گی کدورتیں جنم لیں گی۔ دشمن لوگ صرف تماشہ ہی دیکھیں گے۔ جلتی پر تیل ڈالیں گے۔ غیرت شرم و حیا ایمان و یقین کی دولت سے تہی ہوتے جائیں گے۔ باپ کی روح بے چین اور اذیت میں مبتلا ہو گی۔ نافرمان‘ گستاخ‘ بے راہ رو اولادیں اسلاف کے دکھوں میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کی کمائی کو لٹاتی اور برباد کرتی ہیں۔
معصوم بچے اب بھی ماں کے پاس کھانے کے لئے رو رہے ہیں۔ جو دوچار ”بک“ گندم تھی وہ پیسی بیٹھی ہے۔ پکا کر دو دو نوالے دے چکی ہے اب اور گندم کہاں سے لائے۔ جن سے ادھار لی تھی وہ واپس مانگ رہے ہیں آگے باقی ہے تو ”سردار‘ وڈیرے‘ جاگیردار“ اپنی شرائط پر دیں گے۔ یہی امریکہ‘ یورپ IMF کی طرز روا ہے۔ نہ عزت رہے گی نہ گھر رہے گا نہ باپ کا مشن اور اثاثہ ساری اولاد دھڑوں‘ رواجوں اور غیروں کی تہذیب و تمدن کی رسیا ہو چکی ہے۔ پاکستان شکارگاہ بنا ہوا ہے۔ وائلڈ لائف کا سماں ہے۔ طاقتور کا پیٹ ہر وقت بھرا ہوا ہے۔ ہر وقت اس کے منہ کو خون لگا ہوا ہے۔ کمزور جانا بچاتا پھر رہا ہے مگر کٹ رہا ہے لٹ رہا ہے حل! صرف باپ کے مشن اور وژن پر عمل میں پوشیدہ ہے۔