غیبت

 
اسلام میں غیبت ایک گناہ کبیرہ ہے یہ ایک ایسی برائی ہے جس کی وجہ سے دوسری برائیاں بھی جنم لیتی ہیں ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے مکمل تفصیل کے ساتھ اپنے ارشادات میں مسلمانوں کو غیبت کے نقصانات سے آگاہ کیا اور اس سے بچنے کی تلقین فرمائی ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگوں تمہیں معلوم ہے کہ غیبت کیا چیز ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عرض کیا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے اپنے بھائی کا تذکرہ اس طرح کرنا کہ اگر وہ یہ بات خود سن لیتا تو اس کو نا پسند کرتا ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اگر وہ بات اس میں پائی جاتی ہو تو پھر تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ بات اس میں موجود ہو تو تو نے اس کی غیبت کی اور اگر موجود نہ ہو تو پھر تو نے اس پر بہتان باندھا ۔اللہ تعالیٰ سورة الھمزہ میں ارشاد فرماتا ہے : ” خرابی اور تباہی ہے اس کے لیے جو لوگوں کے منہ پر عیب جوئی کرے اور پیٹھ پیچھے برائی کرے “۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں غیبت کرنے والے کو وعید سنائی ہے جس شخص نے یہ کام کیا اس کو ذلت اور درد ناک عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :” اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا یہ تو تمہیں بہت ناگوار ہو گا اور اللہ سے ڈرتے رہو یقیناً اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والامہربان ہے “۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : غیبت بد کاری سے سخت تر ہے کیونکہ آدمی بدکاری کر کے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیتا ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بد کار شخص توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیتا ہے اور غیبت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اس وقت تک معاف نہیں فرماتا جب تک وہ شخص معاف نہ کر دے جس کی غیبت کی تھی ۔غیبت سے بچنے کے لیے زبان کی حفاظت بہت ضروری ہے ۔ کیونکہ آدمی کی دنیاوی حیات اور اخروی حیات میں اس کی تباہی اور ہلاکت کا باعث چغلی ، بہتان طرازی اور غیبت جیسی لغزشیں ہوتی ہیں اور اس کی وجہ زبان پہ قابونہ ہو نا ہے ۔حضور ﷺ نے فرمایا دو خصلتیں پشت پر ہلکی اور میزان پر بھاری ہیں ایک طویل خاموشی اور دوسری حسن خلق ۔

ای پیپر دی نیشن