بسنت کی حقیقت

21 مارچ 2009
مکرمی! عالم اسلام اس وقت پریشانیوں سے دو چار ہے بالخصوص پاکستان کے عوام بھوک وافلاس اور ضروریات زندگی کی کمیابی کی وجہ سے پریشان حال ہے۔ اس صورتحال میں پنجاب بھر میں پتنگ بازی کی اجازت دے دینا اور بسنت منانا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ ایک طرف یورپی ممالک حضور اقدسؐ کی عظمت مسلمانوں کے دلوں میں کم کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں دوسری طرف ہم خود بسنت منا کر گستاخ رسول کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ایں چہ بو العجبی است
جیسا کہ ہندو مورخ ڈاکٹر ایس بی نجار (Dr. S.B Nijjar) نے اپنی کتاب ’’پنجاب آخری مغل دور حکومت‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ حقیقت رائے باکھ مل پوری سیالکوٹ کے کھتری کا لڑکا تھا جس کی شادی بٹالہ کے کشن سنگھ بھٹہ نامی سکھ لڑکی کے ساتھ ہوئی حقیقت رائے نے نبی کریمؐ اور حضرت فاطمہؓ کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کیے اس جرم میں حقیقت رائے کو گرفتار کر کے عدالت کارروائی کیلئے بھیجا گیا اس واقعہ سے پنجاب کی ساری غیر مسلم آبادی کو شدید دھچکا لگا کچھ ہندو افسر ذکریا خان (1707-1759 گورنر پنجاب) کے پاس گئے حقیقت رائے کو معاف کر دیا جائے لیکن ذکریا خان نے کوئی سفارش نہ سنی اور سزائے موت کے حکم پر نظر ثانی سے انکار کردیا جس کے اجراء میں پہلے مجرم (گستاخ رسولؐ) کو ایک ستون سے باندھ کر اسے کوڑوں کی سزا دی گئی اس کے بعد اس کی گردن اڑا دی گئی جس پر پنجاب کی ساری غیر مسلم آبادی نوحہ کناں رہی اس کتاب کے صفحہ 279 پر لکھا ہے کہ پنجاب کا بسنت میلہ اسی حقیقت رائے گستاخ رسولؐ کی یاد میں منایا جاتا ہے حقیقت رائے کو 1747ء میں لاہور کے جس علاقے میں پھانسی دی گئی اس کا نام گھوڑے شاہ (باغبانپورہ) ہے چونکہ ہندوئوں کے نزدیک حقیقت رائے نے اپنے اوتاروں کیلئے اپنی جان کی قربانی دی تھی اس لیے ہندوئوں نے وہ دن جس میں حقیقت رائے کو پھانسی دی گئی تھی اس کی یاد میں رنگ بکھیرا اس کے علاوہ ہندو مرد زرد رنگ کی پگڑیاں باندھ کر اور ہندو عورتیں زرد رنگ کی ساڑھیاں پہن کر اس کے مندر پر حاضر ہوئیں اور پتنگ بازی کی اور اس تہوار کا نام بسنت رکھا اب ذرا اپنے گریبانوں میں جھانگ کر دیکھئے کہ مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم گستاخ رسولؐ کی یاد میں بسنت کا تہوار بنائیں؟
( صاحبزادہ محمد علی کریمی پرنسپل جامعہ کریمیہ فروغ علم قرآن باغبانپورہ لاہور 0333-4488014)