محفوظ پاکستان

21 مارچ 2009
مکرمی! پیارے ملک پاکستان کو ہمارے بڑوں نے بڑی محنت اور قربانیوں سے حاصل کیا تھا دور حاضر میں روزمرہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی قتل و غارت اغواء برائے تاوان چوری ڈاکے رہزنیاں دیگر جرائم میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ان جرائم سے بچنے کے لئے چند گذارشات ہیں جن پر سختی سے عمل کرتے ہوئے کافی حد تک مذکورہ بالہ جرائم کنٹرول کئے جا سکتے ہیں۔
(1) ملک پاکستان کو وی آئی پی کلچر سے پاک کرنا ہوگا۔ (2) تمام بڑی شاہراہوں اور اہم تنصیبات پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو اداروں کو بااختیار کیا جائے۔ (3) سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کسی بڑی شخصیت کی شکایت پر ایماندار افسروں سے آمنے سامنے بٹھا کر انکوائری کرائی جائے نہ کہ بنا حقیقت جانے معطل یا ٹرانفر کر دیا جائے یا گھر بھیج دیا جائے۔ (4) سکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی کے دوران انٹرویو کے مرحلے میں ماہر نفسیات کی موجودگی یقینی بنائی جائے تاکہ امیدوار کی ذہنی سطح کا اندازہ ہو سکے۔
(5) قانون سب کے لئے پانچوں اسمبلیوں، سینیٹرز ممبران بیورو کریسی اور دیگر بڑے افسران کو یہ باور کرایا جائے۔ صنعتکار، جاگیردار، ٹھیکیدار، چودھری، وڈیرے،پیر اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔
(6) خفیہ اداروں میں باکردار اور ایماندار نڈر لوگ تعینات ہوں جو نظر رکھیں کہ تھانوں میں تھانیدار کا علاقے میں کیسا رویہ ہے جرائم پیشہ لوگوں کو سلیوٹ اور شرفاء کی تذلیل تو نہیں ہوتی۔ اپنی ڈیلی رپورٹ مرتب کرے کہ تھانے میں کتنے کیس کس کس نوعیت کے آئے۔
(7) سکیورٹی اہلکاروں کو حقارت کی نظر سے مت دیکھیں یہ اسی معاشرے کے افراد ہیں مشکل حالات میں ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔ عیدین، محرم، جمعہ اور دیگر تہواروں کو جس دن لوگ چھٹی انجوائے کرتے ہیں یہ لوگ بھی کسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان کے بیوی بچے والدین بہن بھائی دوست احباب محلے دار سب کچھ ہوتا ہے۔ لیکن یہ ملک کی عزت و وقار اور حفاظت کے لئے بارش آندھی طوفان گرمی سردی کے موسموں کی شدت کا سامنا کرتے ہیں۔ ان سے تعاون کیجئے اور اچھا سلوک کیجئے یہ آپ میں سے ہیں۔
میری ارباب اختیار سے گذارش ہے کہ سکیورٹی اداروں بالخصوص ایئر پورٹس سکیورٹی فورس (A.S.F) کو بااختیار بنایا جائے اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوام میں قانون کی بالادستی کا پرچار کیا جائے میری ایک دفعہ پھر اپنے آپ کو سپریم اور سکیورٹی اہلکاروں کو حقیر سمجھنے والے حضرات سے گذارش ہے کہ قانون ہی سپریم ہے۔ یہ گورنمنٹ آف پاکستان کے ملازم ہیں اور ان کو حکومت پاکستان اپنے خزانے سے معاوضہ دیتی ہے۔ مندرجہ بالا گذارشات پر عمل پیرا ہو کر ہی وطن عزیز کر جرائم سے پاک محفوظ پاکستان بنایا جا سکتا ہے۔
صوبیدار(ریٹائرڈ) مختار احمد اعوان چونگی امرسدھو لاہور
بابائے قوم کی بے ادبی
مکرمی! بچوں کے کھیل کے طور پر پاکستانی کرنسی کو چھوٹے سائز پر چھاپ کر بابائے قوم حضرت قائد اعظمؒ محمد علی جناح کی بے ادبی اور توہین کی گئی کرنسی گلی محلوں میں پھینکی جاتی ہے گورنمنٹ سے گذارش ہے اس پر پابندی لگائی جائے اور چھاپنے والوں پر مقدمہ درج کرے تاکہ آئندہ کوئی جرات نہ کر سکے۔ شکریہ
شہباز احمد…مکان نمبر 543 جڑانوالہ
پاکستانی عوام سے اپیل
مکرمی! پاکستان ہمارا پیارا اور خوبصورت وطن ہے‘ یہ وطن بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا میری ہر پاکستانی سے اپیل ہے کہ پاکستان کی حفاظت اور سلامتی کیلئے (یا حفیظ) کا ورد اٹھتے بیٹھے‘ چلتے پھرتے جاری رکھا جائے۔
عابدہ اقبال…ٹائون شپ لاہور
لنگر
مکرمی، حضرت سید نعیم قادری صاحب لارنس روڈ پر قیام پذیر ہیں آپ حضرت سید فاضل الدین بٹالویؒ کے خاندان کے چشمہ وچراغ ہیں‘ آپ وقت کے ولی اللہ ہیں‘ آپ نے حقیقت آشنائی کے طویل سیاحت وریاضت کی اور ہم عصر بزرگوں سے ملاقاتیں کیں مزارات پر حاضری دی اور روحانی فیض حاصل کیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم دونوں بھائی سید شمیم حسین قادری مرحوم اور نعیم قادری ایک کار میں سفر کر رہے تھے راستے میں ایک درویش ملے جو سفید لباس میں ملبوس تھے ہم دونوں بھائیوں نے کار روک کر ان سے دعا کیلئے استدعا کی اس درویش نے فرمایا تعجب ہے آپ فاضل الدین بٹالوی کی اولاد کو بھی دعا کی ضرورت ہے؟
حضرت سید شمیم حسین قادری فرماتے ہیں میں نے اپنی وراثت میں ملنے والی رقم اللہ کے اس فرمان کے تحت لنگر میں خرچ کر دی ارشاد خداوندی ہے ’’جو کوئی مجھے قرض حسنہ دے گا میں اس کو دین و دنیا میں بے حساب عطا فرمائوں گا‘‘
آپ نے اپنی رہائش گاہ پر عرصہ چالیس سال سے لنگر جاری کیا ہوا ہے جو ہر غریب امیر کیلئے پیش کیا جاتا ہے۔ اپنی ساری پونجی لنگر میں خرچ کر دی اور اپنے آپ کو عرصہ چالیس سال سے اپنی رہائش گاہ تک محدود کر لیا۔ آپ اپنے حجرہ شریف سے صرف لنگر خانے تک تشریف لاتے ہیں آنے والے مہمانوں کی لنگر شریف سے تواضع کرتے ہیں اور ان کیلئے دعا فرماتے ہیں۔
راقم الحروف نے یہ کرامت دیکھی کہ جو کوئی حضرت کے لنگر میں حصہ لیتا ہے اس کی روزی فراخ ہو جاتی ہے۔
حضرت کی عمر اب اسی سال ہو گئی ہے لیکن عوام الناس ہر خاص وعام کی خدمت اور دعا کا سلسلہ جاری وساری ہے حضرت کاچالیس سال سے باہر نہ آنا اس کے باوجود لنگر شریف کا جاری رہنا ایک زندہ کرامت ہے۔ میری دعا ہے کہ حضرت کو اللہ تبارک وتعالیٰ عمر خضر عطا فرمائے اور آپ کا فیض اور لنگر یوں ہی جاری وساری رہے۔ آمین
سید مسعود عارف گیلانی چشتی نظامی لاہور03214276650

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...