16 مارچ کے ’’نرم انقلاب‘‘ کے بعد سیاسی منظرنامہ

21 مارچ 2009
پندرہ اور سولہ مارچ 2009ء کی درمیانی شب قومی سطح پر پاکستان کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر بعض بڑی طاقتوں کے دارالحکومتوں میں پاکستان کی جی ٹی روڈ پر لاہور اور گوجرانوالہ کے درمیان رواں دواں ’’لانگ مارچ‘‘ کے پاکستان میں جمہوریت پر منفی اثرات کے بارے میں شدید تشویش کے باعث رات بھر ایک بحرانی کیفیت ڈرامائی طور پر سولہ مارچ کی صبح پانچ بج کر پچاس منٹ پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے اس اعلان پر خاتمہ بالخیر تک پہنچی کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے دیگر برطرف کئے گئے ساتھی جج صاحبان کو فوری طور پر 2 نومبر 2007ء کی پوزیشن پر بحال کرنے کا حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے۔ تمام متعلقہ فاضل جج صاحبان بلاتاخیر اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکتے ہیں جبکہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے 22 مارچ 2009ء کے روز اپنے عہدہ سے ریٹائر ہونے کے فوری بعد جسٹس افتخار محمد چودھری سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد میں اپنے عہدہ جلیلہ کا چارج سنبھال لیں گے۔ اس مختصر لیکن تاریخ ساز اعلان کے ساتھ ہی میاں محمد نواز شریف قائد مسلم لیگ (ن) نے لانگ مارچ کے خاتمہ کا اعلان کرتے ہوئے وکلاء اور حزب مخالف کی مختلف جماعتوں کے احتجاجی عوامی سیلاب کا رخ موڑتے ہوئے واپس لاہور اور دیگر مقامات پر لوٹ جانے کا اعلان کر دیا۔ 2 سال قبل سے جاری وکلاء کی احتجاجی تحریک جس میں اب حزب مخالف کی مختلف سیاسی جماعتیں بھی شامل ہو کر ایک عوامی موومنٹ کا روپ دھار چکی تھیں اور جس کی قیادت عملی سطح پر اب مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کر رہے تھے ڈرامائی طور پر خاتمہ بالخیر کو پہنچی۔ وزیراعظم کے اعلان کے نتیجہ میں عوام کے اسلام آباد کی طرف رواں دواں احتجاجی سیلاب کا ریلا اچانک جشن فتح کے موج میلے میں تبدیل ہو کر اپنے اپنے چھوٹے بڑے شہروں کی طرف نعروں کی گونج اور آتش بازی کی رنگ رلیوں کے ساتھ اپنے اپنے چھوٹے بڑے شہروں کی طرف واپس لوٹتے ہوئے 16 مارچ کی شام چوبیس گھنٹے قبل 15 مارچ کی شام سے بالکل مختلف سیاسی منظر نامہ پیش کر رہی تھی اور اس کے بعد پانچ روز تک شب و روز جاری جشن کا منظرنامہ آج 21 مارچ تک اعداد و شمار کا حقیقت پسندانہ تجزیاتی بیلنس شیٹ پیش نہیں کر سکا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کی گارنٹی کے علاوہ دیگر کانٹے دار آئینی‘ سیاسی‘ وفاقی‘ پارلیمانی اور صوبائی مسائل کے حل کے بارے میں کوئی گارنٹی یا فارمولا حکومت اور اپوزیشن کے مابین طے پایا ہے یا اس بارے میں اصولی طور پر کچھ فیصلے اور معاملات کی ترجیحات پر رضامندی کے ایسے indicator یا پیمانے یا bench mark پر اتفاق رائے تحریری یا زبانی طے پا گیا ہے جس سے دیرینہ عدم اعتماد کی فضاء میں ایسی پیش رفت کا اندازہ ہو سکے کہ ماضی کی تلخیاں اور عدم اعتماد کو دفن کر کے اب حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی ہر دو قیادتیں اب مستقبل میں میثاق جمہوریت پر خلوص نیت سے عمل درآمد کرتے ہوئے مصالحت اور قومی مفاہمت کے نئے جذبات سے سرشار ہو کر ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے سر جوڑ کر ایک میز پر بیٹھنے کو تیار ہیں؟
15 مارچ کو برپا ہونے والا شہر لاہور کی سڑکوں اور گلی کوچوں سے برآمد ہو کر میاں نواز شریف کی کرشماتی قیادت کے تحت لاہور سے مریدکے تک کے عوامی سیل رواں کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن اس دوران اس عوامی سیلاب کو اسلام آباد کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لئے کونسے عوامل اور کون سی اندرونی و بیرونی طاقتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر حرکت میں آئیں اور وزیراعظم کے تاریخی اعلان کے پیچھے کس یقین دہانی نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور دیگر لانگ مارچ میں شریک حزب اختلاف کے قائدین اور وکلاء کی قیادت کونسی جادو کی چھڑی کے اشارے پر ایک ایسے لمحہ جب کہ لانگ مارچ کی عوامی قوت ایک متفقہ مقبول قیادت کے تحت اپنے نقطہ عروج پر تھی لیکن صرف چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے فوری نوٹیفکیشن کے زبانی یا تحریری یا وزیراعظم کے نشریاتی خطاب کی بناء پر اپوزیشن نے اپنے احتجاجی طاقتور غبارے کی تمام ہوا خارج کرنے پر فوری رضامندی کی متفقہ حامی بھر لی۔ اس اہم فیصلے کے پیچھے بہت سے نام لئے جاتے ہیں جن میں امریکہ‘ برطانیہ‘ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پاک فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے لیکن تازہ ترین اخباری اطلاعات کے مطابق میاں محمد نواز شریف کی طرف یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ کے اس بارے میں کسی کردار کے متعلق میاں صاحب کو کچھ علم نہیں ہے کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ صرف وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور بعض بیرونی طاقتوں کی یقین دہانی پر بھروسہ کرتے ہوئے 16 مارچ کی صبح 6 بجے لانگ مارچ کو دوسری بار منسوخ کر دیا گیا تھا جبکہ ایک بار پہلے بھی وکلاء مفاہمت کے سوراخ میں انگلی ڈال کر ڈسے جا چکے تھے۔ ایسے نازک اور حساس معاملات میں فول پروف گارنٹی اس لئے لازم ہوتی ہے کہ پاکستان کے تازہ ترین سیاسی کلچر میں سیاسی وابستگیاں آئینی ضابطوں سے انحراف‘ فارورڈ بلاک‘ ہارس ٹریڈنگ یعنی معزز اراکین اسمبلی کی میلہ مویشیاں کی طرح بولیاں لگنا اور دیگر وعدہ خلافیاں ایک ایسا معمول بن چکا ہے جس کی معاشرے کی کسی بھی سطح پر پارلیمان کے اندر یا باہر یا عدلیہ کے بلند ایوانوں میں کوئی مذمت نہیں کی جاتی حالانکہ مغرب میں صرف اور صرف ایک ممبر کی عددی اکثریت کے بل بوتے پر حکومتیں عدم استحکام کا شکار نہیں ہوتیں۔ اس کا ذکر اس لئے ضروری سمجھا گیا ہے کہ ابھی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے عہدہ کا چارج بھی نہیں سنبھالا کہ روزنامہ نوائے وقت کو اپنے 20 مارچ 2009ء کے اداریہ میں ’’عدلیہ کی بحالی کے بعد سازشوں کی سرسراہٹ‘‘ کے زیرعنوان ایک مفصل اداریہ لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ اسی موضوع کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے پاکستان نیشنل فورم نے گذشتہ روز یونیورسٹی آف دی پنجاب کی معاونت سے ایک مجلس مذاکرہ میں پاکستان کی قومی سلامتی کے تقاضوں کو اولین اہمیت دیتے ہوئے باہمی مفاہمت اور تمام سیاسی قوتوں کے درمیان رواداری‘ مصالحت اور فروغ جمہوریت کے لئے ایک ایسی قومی پالیسی پر اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ وطن عزیز کو موجودہ بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لئے قائداعظم کے فرمان ’’اتحاد‘ ایمان اور تنظیم‘‘ کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی اسی پر عملدرآمد کرنے سے ہم پاکستان کی منزل یعنی ایک جدید اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی ریاست کا قیام ممکن بنا سکتے ہیں جس کے لئے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترمی جناب مجید نظامی نے گذشتہ کئی دہائیوں سے اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے اور حضرت علامہ اقبالؒ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ویژن کی تکمیل کے لئے جناب حمید نظامی مرحوم و مغفور نے شہادت کا جام نوش کیا تھا۔