مرغی کیا جانے انڈوں کا بھاؤ !

21 مارچ 2009
مرغی کیا جانے انڈوں کا بھاؤ؟ مرغی کا کام ہے انڈہ دینا اور شور مچانا۔ مالک کو آگاہ کرنے کے لئے کہ آؤ انڈہ اٹھاؤ اور موج اڑاؤ۔ عوام کو انڈہ کس بھاؤ ملے گا؟ کسی بھی مرغی کو معلوم نہیں ہوتا۔ انڈے کی قیمت پولٹری مالکان مقرر کرتے ہیں جن کی ایسوسی ایشن بنی ہوتی ہے۔ ایسوسی ایشن والے مل کر انڈے کی قیمت مقرر کرتے ہیں۔ ہول سیلر یا تھوک کے بیوپاری اس بھاؤ ان سے مال اٹھاتے ہیں اور اپنا حق خدمت وصول کر کے عوام تک پہنچاتے ہیں۔ مرغی تو انڈہ دینے اور شور مچانے ہی کے لئے ہوتی ہے۔ وہ کیا جانے انڈوں کا بھاؤ؟ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ 9 مارچ 2007ء کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد نے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے اور حکم دیا تھا کہ انٹرپول کے ذریعے ان وارنٹوں کی تعمیل کرائی جائے۔ یہ اتفاق تھا یا حسن اتفاق کہ اسی روز جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کو ایوان صدر ملاقات کے لئے بلایا تھا اور ان سے استعفٰی طلب کیا تھا۔ افتخار محمد چودھری کے انکار پر وہ ریفرنس آیا تھا اور تحریک شروع ہوئی تھی جس کی کامیابی پر ملک میں جشن منائے جا رہے ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے گوجرانوالہ اور پاکپتن میں عام جلسوں سے خطاب خاص کرتے ہوئے اس تحریک کو سیاست اور ملک کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔ بیس جولائی 2007ء کو وہ ریفرنس مسترد ہو گیا۔ افتخار محمد چودھری نے بحیثیت چیف جسٹس منصب سنبھال لیا تو ان کے سامنے ایک رٹ درخواست سماعت کے لئے آئی تھی۔ این آر او کے صدارتی آرڈیننس کے خلاف تھی وہ رٹ اور دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا تھا ’’ایسے عجیب و غریب آرڈیننسوں کے ذریعے ایک دوسرے کو ریلیف دیا جا رہا ہے حکومت بے ایمانی کے راستے بند کرے‘‘۔ ایک دن سماعت کے دوران انہوں نے سرکاری وکیل وسیم سجاد سے یہ بھی پوچھا تھا کہ ’’مفاہمتی آریننس پٹواریوں کے لئے کیوں نہیں؟‘‘ جس کا جواب دیا گیا تھا ’’پٹواری چھوٹے لوگ ہیں یہ آرڈیننس بڑے لوگوں کے لئے ہے‘‘۔ بارہ اکتوبر 2007ء کو اس درخواست کی سماعت تین ہفتے کے لئے ملتوی کرتے ہوئے افتخار محمد چودھری چیف جسٹس آف پاکستان نے حکم دیا تھا ’’درخواست کے حتمی فیصلے تک کوئی ریلیف نہ دیا جائے اور نہ ہی ایسے مقدمات کی سماعت کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا جائے کیونکہ اس آرڈیننس کی چار دفعات پاکستان کے آئین سے متصادم ہیں‘‘۔ سولہ اکتوبر کو پرویز مشرف کی صدارت میں ماہرین قانون نے اس صورت احوال پر غور کیا تھا اور اٹارنی جنرل ملک قیوم کے حوالے سے اخبارات میں شائع ہوا تھا کہ ’’مفاہمتی آرڈی ننس کمزور ہے سپریم کورٹ اسے مسترد کر سکتی ہے‘‘۔ اس سے اگلے روز یعنی سترہ اکتوبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو نے دوبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا تھا اور کہا تھا ’’مفاہمتی آرڈیننس پر عدالت کا معیار دوہرا نہیں ہونا چاہئے یہ کیسا انصاف ہے کہ سندھی وزیراعظم کو پھانسی دیدی جائے اور پنجابی وزیراعظم کو معاف کر دیا جائے دیکھیں گے کون مفاہمتی آرڈیننس روکے گا‘‘۔ اس خاتون نے جو دو بار پاکستان کی وزیراعظم رہی تھی اور ’’پاکستان کی زنجیر بے نظیر! بے نظیر‘‘ ہوتی تھی ایک آئینی اور قانونی معاملے میں قانون کا سہارا لینے کی بجائے علاقائی تعصب کا سہارا لیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ ’’دیکھیں گے کون روکے گا‘‘۔ ستائیس اکتوبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو نے لاڑکانہ میں کہا تھا ’’مفاہمتی آرڈیننس حقیقت بنے گا‘‘۔ اگلے ر وز پارٹی اجلاس کے بعد بیان جاری کیا تھا کہ ’’امید ہے مشرف مفاہمتی آرڈیننس مانیں گے اور سپریم کورٹ اسے مسترد نہیں کرے گی‘‘ اس کے فوراً ہی بعد مشرف کے دو خصوصی ایلچی انہیں ملنے گئے تھے اور اٹھارہ اکتوبر کو پاکستان واپسی پر بے نظیر بھٹو نے اعلان کیا تھا ’’میں سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے مفاہمت کا پیغام لائی ہوں‘‘۔ مفاہمی آرڈیننس کے خلاف اس رٹ درخواست کی سماعت مکمل ہونے سے پہلے ہی تین نومبر کو باوردی صدر نے وہ پی سی او جاری کر دیا تھا جس کے تحت وہی چیف جسٹس آف پاکستان ایک بار پھر غیر فعال ہو گئے تھے جو عدلیہ کی آزادی کی تحریک کی کامیابی کے بعد پھر سے چیف جسٹس بن گئے ہیں۔ اس پی سی او کے ذریعے پرویز مشرف نے کیا کچھ بچایا اور کیا کچھ گنوایا تھا اس کی تفصیل کی گنجائش نہیں۔ وہ ان کا صدارتی مفاہمتی آرڈیننس اسی پی سی او کی وجہ سے بچا تھا جس کی وجہ سے آج آصف علی زرداری پاکستان کا صدر بھی ہے اور سب سے امیر کبیر شخص بھی۔ اس آرڈیننس کے ذریعے ان کا اربوں کھربوں ڈالر کا جو سرمایہ محفوظ ہو گیا تھا وہ ابھی تک باہر کے بنکوں میں ہی ہے اور ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ وہ اپنے نام پر ہی اپنا وہ سرمایہ پاکستان میں لا کر بنک میں جمع کرا دیں تو پاکستان کے زرمبادلہ کے مصائب ختم ہو جائیں گے۔ صدارتی آرڈیننس کے خلاف قاضی حسین احمد کی وہی رٹ درخواست ابھی تک محتاج انصاف ہے اور لوگ پوچھتے ہیں کیا بنے گا اس درخواست کا؟ سنیں گے چیف جسٹس صاحب وہ درخواست کریں گے اس سے انصاف۔ وکیل برادری کے لوگ جشن آزادی عدلیہ کے دوران اس بارے میں کیا جواب دے سکتے ہیں؟ سول سوسائٹی والوں اور میڈیا والوں سے انصاف کا بھاؤ پوچھنا تو ایسا ہی ہے جیسے مرغی سے انڈوں کا بھاؤ پوچھا جائے۔ چودھری اعتزاز احسن بحال ہوئے چیف جسٹس کے وکیل اور ڈرائیور رہے ہیں وہ کہتے ہیں وکیلوں کی تحریک پر انہوں نے بہت سرمایہ کاری کی ہوئی ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ افتخار محمد چودھری این آر او کے خلاف اس رٹ کی سماعت نہیں کر سکتے۔ شریف برادران کی نااہلی کے خلاف درخواست تو وہی جج سنیں گے جنہوں نے انہیں نااہل قرار دیا تھا کوئی اور جج سن نہیں سکتا مگر این آر او کے خلاف رٹ وہ چیف جسٹس نہیں سن سکتا جو سن رہا تھا۔ کیوں نہیں سن سکتا؟ کیا یہ بھی انڈوں کا بھاؤ پولٹری فارم کے مالک کے مقرر کرنے جیسا ہی کوئی معاملہ ہے؟!