اسامہ پکڑا گیا تو مقامی یا عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جائیگا: آسٹریلوی جنگی ماہر

21 مارچ 2009 (15:16)
واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) ایک آسٹریلوی جنگی ماہر امریکی جرنیلوں کو تربیت دے رہا ہے کہ جنگیں کیسے جیتی جاتی ہیں۔ ڈیوڈ کلکولین آسٹریلین آرمی کے ریزروسٹ ہیں اور امریکی جنرل ڈیوڈ ایچ پیٹریاس کے مشیر اعلیٰ ہیں عراق پر امریکی حملہ کے بھی وہی نگران تھے لیکن آج عراق پر حملے کو سنگین سٹریٹجک غلطی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ڈیوڈ کلکولین نے بھارتی میگزین آ¶ٹ لک سے بات چیت کرتے ہوئے بھارت کو خوش کرنے کے لئے پاکستان کے خلاف زہر افشانی کی ہے اور کہا ہے کہ ایک سے چھ ماہ کے اندر اپنی اور عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے ٹوٹ جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ پاکستان سترہ کروڑ تیس لاکھ عوام کا ملک ہے جس کے پاس ایک سو ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اور اس کی فوج امریکن فوج سے بھی بڑی ہے اس کے باوجود پاکستان کے قبائلی علاقہ میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن اپنے دیگر ساتھیوں سمیت پاکستان کے ان علاقوں میں چھپا ہوا ہے جو آزاد ہیں اور پاکستان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ ان کی انٹیلی جنس سروسز بھی ہیں جو سویلین حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک سٹیٹ کے اندر ایک \\\"روگ سٹیٹ\\\" کی کیفیت ہے۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں کہا کہ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کسی وادی میں امریکی کمانڈوز کے حملے میں مارا جائے لیکن اس طرح وہ شہید کا درجہ حاصل کر لے گا۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت یا کوئی قبائلی گروپ اسے گرفتار کر کے ٹیلی ویژن پر پیش کر کے کہیں کہ تم نے نمبروں سے زیادہ مسلمانوں کا خون بہایا اس طرح وہ ملک یا انٹرنیشنل عدالت انصاف میں اس کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔