بلوچستان اسمبلی کا ججوں کی بحالی پر اظہار اطمینان‘ متفقہ قرارداد منظور

21 مارچ 2009
کوئٹہ (بیورو رپورٹ) بلوچستان اسمبلی نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججوں کی بحالی کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کی مصالحتی کوششوں کو سراہنے اور محنت کش خواتین کو لیبر قوانین کے تحت تحفظ فراہم کرنے سے متعلق قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلیں۔ اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز سپیکر محمد اسلم بھوتانی کی صدارت میں ہوا ۔ وقفہ سوالات کے بعد صوبائی وزیر سردار محمد اسلم بزنجو نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان عدلیہ کے بحران کو انتہائی خوش اسلوبی سے حل کرنے اور چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری و دیگر جسٹس صاحبان کی بحالی کے امر پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت، تمام سیاسی جماعتوں، ذرائع ابلاغ ، وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کی کوششوں پر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہے جبکہ دوسری مشترکہ قرارداد خاتون صوبائی وزراء روبینہ عرفان ،غزالہ گولہ اور ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی نے پیش کی ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اس وقت پاکستان میں ایک بہت بڑی تعداد ایسی عورتوں کی ہے جوکسی فیکٹری یا کار خانے میں جانے کی بجائے گھر بیٹھ کر ٹھیکیدار سے کام لیکر اپنی آمدنی کماتی ہیں ۔ ان عورتوں کا معاشی استحصال دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت میں کمی ، ملک کی ترقی اور دیگر مسائل پر قابو پانے کے لئے محنت کش مرد خصوصاً محنت کش خواتین ورکز لیبر فورس کے قانون کے زمرے میں شامل کئے جائیں تاکہ ان کی ترقی کے لئے وسائل رکھے جائیں اور لیبر قوانین کے تحت تحفظ دیا جاسکے۔ایوان نے دونوں قراردادوں کی متفقہ طور پر منظور دیدی۔ بلوچستان اسمبلی نے کراچی میں پشتونوں کو بے دردی سے قتل‘ شہر سے دخل اور ان کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے سے متعلق جعفر خان مندوخیل کی تحریک التوا بحث کے لئے منظور کر لی جس پر آج بحث ہو گی۔ تحریک جعفر خان مندوخیل نے پیش کی۔
بلوچستان اسمبلی