مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دیدی گئی

21 مارچ 2009
اسلام آباد (آن لائن) سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی ہے۔ یہ درخواست طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے آرٹیکل184/3 کے تحت دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جولائی 2007ء میں لال مسجد آپریشن اور جامع حفصہ میں کریک ڈائون کے براہ راست ذمہ دار اس وقت کے صدر مشرف تھے لہٰذا ان کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے تاکہ وہ اپنے ٹرائل سے بچ نہ سکیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ لال مسجد آپریشن شروع ہونے کے بعد بھی اس معاملے کے حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا اورسپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت کی تھی تاہم جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے لال مسجد آپریشن کیخلاف حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ جب فوج سول حکومت کی مدد کے لئے آئے تو آرٹیکل 245 کے تحت عدالتوں کو اختیار نہیں ہوتا کہ وہ فوج کو روکیں۔ طارق اسد نے کہا کہ اس مقدے کی سماعت چار ماہ تک عدالت میں ہوتی رہی لیکن تین نومبر کے اقدامات کے بعد سماعت ختم ہو گئی جو اب تک نہیں ہو سکی۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اس کیس کو دوبارہ کھولا جائے کیونکہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف ٹرائل سے بچنے کے لئے ملک سے فرار ہونا چاہتے ہیں اس لئے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔
مشرف / ای سی ایل