ماضی بھلا کر آگے بڑھنے کا وقت آ گیا‘ ججوں کی عظمت کے سامنے سر جھکاتا رہونگا : زرداری

21 مارچ 2009
اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیاں ) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میں صدر ہوں یا عام شہری ہمیشہ ججوں کی عظمت کے سامنے سر جھکاؤں گا‘ معزول ججوں کی بحالی اداروں کو مضبوط بنانے کی طرف انقلابی قدم ہے‘ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز سبکدوش ہونے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی‘ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا‘ وفاقی وزرائ‘ سپریم کورٹ کے ججوں ‘ سروسز چیفس‘ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی‘ ارکان پارلیمنٹ اور اعلیٰ حکومتی حکام نے شرکت کی۔ صدر زرداری نے کہا کہ میں اس تقریب میں چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو خوش آمدید کہتا ہوں‘ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے چیف جسٹس کے طور پر عمدہ ذمہ داریاں انجام دیں‘ میں انہیں ان کے مستقبل میں نیک تمناؤں کا پیغام دیتا ہوں۔ قومیں ارتقاء اور پالیسیوں کے تسلسل سے ترقی کرتی ہیں‘ ہم نے یہاں بار بار اداروں کو کمزور ہوتے دیکھا ہے لیکن ہم انہیں مضبوط بنائیں گے‘ یہی ہمارا ویژن رہا ہے کہ اداروں کو ارتقائی انداز میں مضبوط اور مستحکم ہونا چاہئے‘ ضروری نہیں کہ ہر کوئی ہمارے اس ویژن سے اتفاق کرے، کچھ لوگ اس نظریہ کے نقاد بھی ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو ایک لیڈر کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ معزول ججوں کی بحالی اداروں کی مضبوطی کی طرف ہمارے انقلابی اقدامات کی طرف ایک قدم ہے ہم 3 نومبر 2007ء کی پوزیشن پر بحال ہونے والے ججوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ وقت آگے بڑھنے اور حاصل شدہ مقاصد کو استعمال کرنے کا ہے‘ ماضی کو بھلانا اور آگے بڑھنا چاہئے۔ آپ نے مجھے بارہا عدالتوں میں پیش ہوتے اور جھکتے دیکھا ہے‘ آج جبکہ میں ایک صدر کے طور پر ایوانِ صدر میں موجود ہوں ایک دفعہ پھر آپ کے سامنے سر جھکاتا ہوں۔ حکومت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی عزت کرتی ہے‘ میں خود ججوں کا بے حد احترام کرتا ہوں۔ ہم نے گذشتہ ہفتے اعلیٰ عدالتوں کے باقی ماندہ ججوں کو بحال کر دیا ہے اور یہ اداروں کی مضبوطی کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ ریاستی اداروں کو بار بار کی مداخلتوں کے باعث دھچکا لگا ہے لیکن ہر مداخلت کے بعد ہمارے یہ ادارے پھر سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ ابھرے ہیں۔ صدر نے کہا کہ می لارڈ! آپ نے مجھے عدالتوں کے سامنے سر جھکاتے دیکھا ہے‘ آج میں بطور صدر پاکستان آپ ’’ لارڈ شپس ‘‘ کی ’’میجسٹی‘‘ کے سامنے سر جھکاتا ہوں اور آپ کے سامنے سر جھکاتا رہوں گا‘ حالات چاہے کچھ بھی ہوں۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ انہوں نے بطور جج جو بھی فیصلے کئے وہ انصاف کے تقاضوں اور ملکی بقاء کے پیش نظر کئے۔ ریٹائرمنٹ ایک حقیقت ہے اور ہر ایک نے ایک دن ریٹائر ہونا ہوتا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے اعزاز میں الوداعی عشائہ دیا جس کے دوران جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے صدر زرداری سے الوداعی ملاقات کی۔ صدر زرداری نے جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی خدمات کو سراہا اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے بہتر حکومتی تعاون اور اپنے اعزاز میں دئیے گئے عشائیے پر صدر آصف زرداری کا شکریہ ادا کیا۔ اس عشائیہ میں چیف جسٹس افتخار چودھری کو بھی بلایا گیا تھا مگر انہوں نے شرکت نہیں کی۔ بحال ہونے والے ججوں میں سے کوئی بھی شریک نہیں ہوا۔
زرداری / جسٹس ڈوگر