لرز رہے ہیں درختوں کے سائے پانی میں

21 مارچ 2009
جناب جارج بش اور جناب پرویز مشرف کے درمیان ’عدم ابلاغ‘ کا تماشا پوری دنیا کیلئے ’مالیاتی مسئلہ‘ بن جائے گا؟ یہ ’بش انتظامیہ‘ کے بڑے بڑے عہدے دار بھی نہیں جان پائے! اور اب جبکہ بنیادی ’گھنڈی‘ ہاتھ آئی ہے تو تمام فریقین سر پیٹ کے رہ گئے ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم ہاتھ پھیلائے اور!… اور!… پکارتے رہے اور وہ لوگ ماتھے پر تیوری چڑھائے‘ اور!… اور!… اور!… ڈکارتے رہے! ’عدم ابلاغ‘ یا LACK of COMMUNICATION کے سبب ہم اسے ہاتھ اور پھیلانے کی اجازت سمجھ بیٹھے اور ہاتھوں کی جگہ’ دامن‘ بھی پسار دیا اور ’ڈرون‘ سکوں کی طرح ہمارے ’دامن و کوہ‘ میں آتے اور میزائل گراتے چلے گئے!
حضرت بابا شاہ محمود قریشی کا فرمانا ہے کہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ’بابا جی‘ بلوچستان کو ’ڈرون حملوں‘ سے بچا لیں گے!
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم ابھی تک جناب جارج بش کے ’مقدس ہاتھوں کا‘ وہ لمس نہیں بھلا پائے‘ جسے ہمارے ’اعصاب‘ نے ہمارے ’ذہن‘ تک منتقل کیا تھا! اور ہم ’افغانستان کے پیچیدہ مسائل‘ کی دلدل میں جا دھنسے تھے!اوبامہ انتظامیہ‘ بش انتظامیہ کے بچھائے ہوئے جال میں پاؤں پھنسائے اس دلدل سے نکالنے کیلئے کوشاں ہے! مگر ہمیں اس کے ’دلدل‘ ہونے کا ادراک ہی نہیں ہو پا رہا! ملا حامد قرضی تو سوچ میں پڑ چکے ہیں کہ وہ ’صدارتی انتخاب‘ میں امیدواربنیں؟ یا‘ نہ بنیں؟ مگر ہمیں اپنا ’صدارتی مستقبل‘ تاحال روشن نظر آرہا ہے اور ہماری تمام تر توقعات کا مرکز و محور ’اٹھارویں ترمیم‘ بن چکی ہے! یاد رہے کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے سترہویں ترمیم کے قابل اعتراض حصے حذف ہونا تھے مگر اب یہ ’عدالتِ عظمیٰ کے دائرہ کار کی تحدید‘ کیلئے وضع کی جا رہی ہے! ہم اپنی ’ذاتی وجاہت‘ کیلئے ’آہنی ہاتھ‘ بھی استعمال میں لا سکتے ہیں اور ’قومی وجاہت‘ گروی رکھنے کیلئے انہیں ’دراز‘ بلکہ ’دراز تر‘ بھی کر سکتے ہیں!جناب پرویز مشرف نے تو دس ارب ڈالر کا حساب پوری قوم کے سامنے بے باق کر دکھایا تھا کہ یہ دس کے دس ارب ڈالر ’امریکی رسد کے تحفظ‘ پر خرچ ہوئے اور ہم ’اور!… اور!… اور!…‘ کرتے کرتے تھک گئے لیکن وہ لوگ ’اور!… اور!… اور!…‘ کہتے کہتے کبھی نہیں تھکے!پاکستان میں جمہوریت نہ ہونے کا ایک ’پھل‘ تو ہم نے دیکھ لیا اور اخباری اطلاعات کے مطابق راولپنڈی کے کیمپ آفس کے کولڈ سٹوریج میں محفوظ پڑا ہے! جبکہ اس پھل کا ذائقہ پوری قوم کے رگ و پے میں اچھالے لے رہا ہے! یہ آزمائش‘ کا ایک کڑا مرحلہ تھا! ہم اس مرحلے سے نکل آئے ہیں! امریکی انتظامیہ بھی اس ’کش مکش‘ سے نکلنا چاہتی ہے مگر بحیرہ کیسپین کی تہہ میں ٹھاٹھیں مارتے خام تیل کے سمندر کے ’بلاشرکت غیرے‘ اکلوتے مالک جناب ڈک چینی ’اوبامہ انتظامیہ‘ پر دباؤ بڑھاتے چلے جا رہے ہیں اور ’افغان وار‘ ’تیل‘ کی جگہ ’دہشت‘ کے خاتمے کی جنگ قرار دے رہے ہیں! وہ ’اسامہ بن لادن‘ کیلئے بلوچستان میں پناہ گزین ہونے کا ذکر بھی کر چکے ہیں اور یہ وہ اس رات کہہ رہے تھے۔ جس رات پاکستان میں ’عدلیہ کی بحالی‘ کا اعلان نشر ہونے میں نہیں آرہا تھا۔
ہم بین الاقوامی معاملات کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے مگر ’WAY OF THE WORLD‘ یا ’طریق الدنیا‘ کے مصنف اسے ایک ’مطلق العنان بدعنوان دنیا‘ قرار دیتے ہیں اور تمام ’معاملات‘ اسی ’تیرگی‘ سے ’کسبِ نور‘ فرماتے ہوئے سمجھتے اور سمجھاتے ہیں!عدالتیں کیا ہوتی ہیں؟ اس کے بارے میں تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ 50 ارب ڈالر کی مالک شخصیت اپنے خلاف مقدمے کی پیروی کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ کر چکی ہے‘ ’میں اعتراف جرم کرتا ہوں! مجھے علم تھا کہ یہ ’دن‘ ایک نہ ایک دن آنا ہی تھا! یہ 50 ارب ڈالر تو کچھ بھی نہیں مجھے معلوم ہی نہیں کہ میں نے کتنے ارب ڈالر کی جعل سازی کی ہے!یہ الفاظ ہم یوں درج کر رہے ہیں کہ ہمیں احساس ہو سکے کہ جہاں ’انصاف‘ کی حکمرانی ہو‘ وہاں اعلیٰ ترین سہولتوں کی دنیاوی سطح پر زندگی بسر کرنے والا ’مجرم‘ بھی ہر گھڑی ’انجام‘ پر نگاہ رکھتا ہے! وہ صرف اس توقع پر ’زندہ‘ رہتا ہے کہ شاید ’موت‘ اسے ’انجام‘ سے پہلے آلے اور یوں ’بات بن جائے!‘ مگر وہ لوگ تو ’انصاف‘ کے نام پر قبریں کھود کر‘ مردے بھی نکال لیتے ہیں اور پھانسی پر لٹکا دیتے ہیں! شاید یہی سبب ہے کہ مغربی ممالک میں کوئی ’قبر‘ ایک سو سال پورے ہو جانے سے پہلے نہیں ڈھائی جا سکتی! کیونکہ ایک سو سال بعد ہی کوئی ’ثبوت‘ سامنے نہ آ سکے تو اسے ’مکمل مجرم‘ ہونے کے ناتے ’فنا‘ کا حق حاصل ہو جاتا ہے!ایک ایسا معاشرہ جہاں قبرستانوں پر پلازے تعمیر ہو جاتے ہوں ایسی کسی بات کی باریکی کا خیال کیسے رکھ سکتا ہے؟ ہم تو اسی بات پر حیران ہیں کہ جناب آنا محمد یحییٰ خان قزلباش کیلئے ’غاصب‘ ہونے کا اعلان بھی کیوں کر ممکن ہو سکا؟ ہم تو ظلم سہنے اور سہتے ہی چلے جانے کے عادی ہیں‘ خواہ اپنے کر رہے ہوں یا غیر!
جناب احمد مشتاق نے کیا خوب کہہ رکھا ہے:
گزر رہی ہے تمنا کے ساحلوں سے ہوا
لرز رہے ہیں درختوں کے سائے پانی میں