ویٹو پاور کا خاتمہ

21 مارچ 2009
تھوڑی دیر کیلئے یہ تصور کرلیا جائے کہ کسی کے پاس ویٹو پاور نہ ہوتی تو دنیا کا نقشہ کیا ہوتا‘ حالات کیسے ہوتے‘ تو عقل دنگ رہ جائے گی کہ دنیا کو جنگ و جدل کی آماجگاہ ایس ویٹو نے بنایا‘ قوموں کو دوسری قوموں کی غلامی بھی اسی کافیض ہے اور سارے مسائل کے حل نہ ہونے کا سبب بھی یہی ویٹو ہے جس نے چند لوگوں کی خوشیوں کو تحفظ دے کر صبح بے نور کر طلوع رکھا۔ ہمارے ہاں اکثر ویٹو کا تذکرہ چرچا تو کیا جاتا ہے مگر کسی نے اس کی تاریخ مرتب نہیں کی کہ یہ کب ایجاد ہوا اور کس موقع پر اس نے بنتا کھیل بگاڑا۔ یہ دنیا چند عالمی وڈیروں کے پنجے میں ہے اور ایک زمانہ گزر گیا ہے مگر اس اندھی طاقت نے کسی قوم کو اٹھنے نہ دیا‘ نہ ہی اس کا کوئی مسئلہ حل ہونے دیا۔ فلسطین ہی کو لیجئے‘ کتنی بار اس مسئلے کا حل تیار کرکے سامنے لایا گیا‘ مگر امریکہ نے اسے ویٹو کرکے اسرائیل کی پیٹھ تھپکی۔ اسی طرح روس نے اپنے مفاد کیلئے ویٹو کا استعمال کیا‘ مگر جس قوت نے سب سے بڑھ کر ویٹو کو استعمال کیا‘ وہ امریکہ ہے۔ جنرل اسمبلی کے کلوز ڈور سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سفیر عبداللہ حسین ہارون اور دیگر مقررین نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اریکہ‘ روس‘ چین اور فرانس اور برطانیہ کی ویٹو پاور ختم کی جائے کیونکہ اس سے سلامتی کونسل کے موثر ہونے پر منفی اثر پڑتا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ اگر ویٹو پاور نہ ہوتا تو آج سے بہت عرصہ پہلے حل ہو چکا ہوتا‘ کشمیر کی البتہ یہ شومی قسمت ہے یا ہماری غفلت کہ پیش ہونے پر دو مرتبہ ویٹو کیا گیا۔ اس کے بعد سے لے کر یہ اب تک لاینحل چلا آرہا ہے۔ انسانوں کے اس گلوبل ویلج میں سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کا وجود پانچ بدمعاشوں کا سا ہے کہ بول پڑیں تو آسمان گر پڑے اور چپ رہیں تو معاملہ آگے بڑھے۔ سلامتی کونسل کے مقاصد وہ ہیں جن کا تعین اس کے مستقل ارکان ہی کر سکتے ہیں۔ یہ دنیا مسائلستان کا گڑھ بن چکی ہے اس کی وجہ سے انسانی دنیا میں جنگیں برپا ہوتی ہیں اور لوگ جو غربت کا شکار ہیں‘ بدامنی کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ وہ کبھی چین کی زندگی نہیں گزار سکتے۔ اقوام متحدہ کا اس دکھ بھری دنیا میں یہ رول ہے کہ اس کے دکھوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت اگر کئی ممالک یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ویٹو کی لٹکتی تلوار کو اتار دیا جائے تاکہ یہ پھر عراق فلسطین‘ افغانستان‘ کشمیر وغیرہ کا کام خراب نہ کر سکیں۔ اگر بڑی طاقتیں دیکھتی ہیں کہ دنیا میں کوئی اچھا اور مثبت کام ہونے چلا ہے‘ جسے اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے سامنے رکھا گیا ہے تو ان پانچ مستقل ارکان میں سے کوئی ایک اسے ویٹو کر دیتا ہے۔ یہ دنیا اگر ویٹو سے پاک ہوتی تو یہ کتنے دلدروں سے پاک ہوتی۔ کشمیر کے مسئلے کو اس کے تمام تر مضرات سمیت بار بار پیش کیا جانا چاہئے تاکہ یہ بات بار بار سامنے آسکے کہ آخر کیوں اور کون کون اس مسئلے کو ویٹو کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کا فورم مکمل طور پر امریکہ اور اس کے حواریوں کا ترجمان ہے۔ کام ان کے ہوتے ہیں‘ جن کا کوئی مسئلہ نہیں‘ یو این او کا مطلب ہی اب یہ ہے کہ دنیا میں غربت‘ آبادی‘ جہالت کو عام کرے اور متنازعہ مسائل کا حل نہ ہونے دے۔ یہی حال او آئی سی کا بھی ہے کہ وہ ایک ذیلی اور باجگزار تنظیم بن کر رہ گئی ہے جو امریکہ اور اس کے حواریوں کے تابع ہے۔ وگرنہ غزہ پر یوں بمباریاں نہ ہوتیں۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ تمام اسلامی ممالک کو ساتھ ملا کر ایک مسلم اقوام متحدہ تشکیل دینے کی ہمت کریں‘ یہ باطل کے بنائے ہوئے دارالظلم کو یو این او کہنا بجا نہیں‘ جب بھی 57 اسلامی ممالک یکجا ہو کر اپنی ایک تنظیم بنائیں گے‘ اقوام متحدہ بھی سیدھا ہو جائے گا اور پاکستان کی یہ تحریک بھی کامیاب ہو جائے کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی ویٹو پاور ختم کر دی جائے۔