آدھی بھی کھو بیٹھے تو ؟

21 مارچ 2009
یہ مفاہمت کا جذبہ نہیں۔ نیت کا فتور ہے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کا شہید بی بی کا وعدہ پورا کر کے اب اس میثاقِ جمہوریت کی عملداری چاہتے ہیں جس میں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کی حکومت کو گرانے کی کسی سازش میں شریک نہ ہونے کی ضمانت دی گئی ہے اور ضمانت محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نوازشریف نے اپنے مشترکہ دستخطوں کے ذریعہ فراہم کی تھی۔ میاں نوازشریف بھی اسی میثاقِ جمہوریت کو بنیاد بنا کر پارلیمنٹ کی بالادستی اور بطور چیف ایگزیکٹو وزیراعظم کی ایگزیکٹو اتھارٹی کی عملداری کی بات کر رہے ہیں۔ بار بار اعلان کر رہے ہیں کہ میثاقِ جمہوریت کی پاسداری کی جائے تو بے شک صدر اور وزیراعظم اپنی اپنی آئینی مدت پوری کر لیں وہ ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ پھر اس میثاقِ جمہوریت کی عملداری ایوانِ صدر کو کیوں وارا نہیں کھا رہی اور ایسے جتن کیوں کئے جا رہے ہیں کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے مینڈیٹ کو کبھی تسلیم نہ ہونے دیا جائے اور جیسے بھی ہو میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کو دبا کے رکھا جائے۔
یہ سارے عزائم تو میثاقِ جمہوریت کی عملداری کیلئے وزیراعظم کے اعلانات و اقدامات کو ناکام بنانے اور سبوتاژ کرنے کے ہیں۔ پھر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ صدر اور وزیراعظم میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی کی نئی نئی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب کو اپنی پہلی ہی پریس کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے قائدین میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف پر ان کے سابقہ دورِ حکومت کے حوالے سے الزامات کی بوچھاڑ کرنے کا بیٹھے بٹھائے تو خیال نہیں آیا ہوگا بالخصوص اس وقت جب وزیراعظم کے 16 مارچ کے اعلان کی روشنی میں میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کی نااہلی کے فیصلہ کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی چار الگ الگ درخواستیں دائر کی جا چکی تھیں۔ اگر یہ درخواستیں حکومتی پالیسی کے تحت خود حکومت کی جانب سے دائر کی گئی ہیں تو ان کی پیروی بھی حکومت نے ہی کرنی ہے جبکہ فوزیہ وہاب اعلان کر رہی تھیں کہ چونکہ میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف محترمہ بینظیر بھٹو کو سیکورٹی رسک قرار دیتے رہے ہیں اور صدر آصف علی زرداری اور شہید بی بی کے خلاف تمام مقدمات ان کے دورِ حکومت میں ہی قائم ہوئے تھے اس لئے بطور سیاسی جماعت ہماری ان کے ساتھ کھلی جنگ ہے اور نظرثانی کی درخواستوں میں حکومت شریف برادران کا دفاع نہیں کرے گی۔
شائد فوزیہ وہاب کو شیری رحمان پر اسی لئے فوقیت دی گئی ہے کہ شیری رحمان مفاہمت کیلئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے فیصلوں اور اعلانات پر عملدرآمد ہوتا دیکھنا چاہتی تھیں جبکہ ایوانِ صدر میں کسی وعدے‘ کسی معاہدے کو قرآن و حدیث کا درجہ نہ دے کر ان سے انحراف کی گنجائش رکھی جاتی ہے۔ فوزیہ وہاب ایک جانب تو صدر اور وزیراعظم کے مابین اختلافات کی خبروں کی تردید کر رہی تھیں اور دوسری جانب وزیراعظم کی مفاہمتی کوششوں کا پُھلکا اُڑا رہی تھیں۔ وزیراعظم تو میاں شہبازشریف سے ملاقات اور کسی مناسب وقت پر مسلم لیگ (ن) کو پھر حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دینے کے ارادے ظاہر کر رہے ہیں مگر فوزیہ وہاب مسلم لیگ (ن) اور شریف برادران کے خلاف پارٹی اور حکومت کی سطح پر محاذ کھول کر وزیراعظم کی مفاہمت کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ٹھانے بیٹھی ہیں اور اس طرح خود ہی صدر اور وزیراعظم کے مابین واضح فاصلے کی لائن کھینچ رہی ہیں۔ جب کل تک وہ خود ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر مفاہمت کے لیکچر دیا کرتی تھیں تو حکمران پارٹی کی سیکرٹری
اطلاعات بنتے ہی ان کی سوچ میں یوٹرن کیسے آ گیا۔ ان کے اس فقرے میں ہی سارا راز پوشیدہ ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست میں صدر زرداری کو سنگل آوٹ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے؎
کب کھلا تجھ پر یہ راز
انکار سے پہلے یا بعد
سپریم کورٹ کی جانب سے میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کو نااہل قرار دینے اور اس کے ساتھ ہی پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کے اقدامات کے خلاف صدر زرداری میاں صاحبان کی جانب سے ہی نہیں وکلا قائدین اور پوری سول سوسائٹی کی جانب سے بھی کھلم کھلا تنقید کی زد میں تھے اور سیاست میں سنگل آؤٹ ہو رہے تھے مگر فوزیہ وہاب اس وقت سے بھی مفاہمت پر زور دے رہی تھیں اب ان کی سوچ نے ایک دم کیسے کروٹ بدل لی کہ وہ وزیراعظم کی جانب سے مفاہمت کیلئے اُٹھائے گئے قدموں کے نشان بھی مٹانے کے درپے ہو گئی ہیں اور میاں صاحبان کی نااہلی کے خلاف حکومت کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی کی درخواستوں کی بھی مخالفت کر رہی ہیں اور ان درخواستوں کی پیروی نہ کرنے کا اعلان کرنا بھی ضروری سمجھ رہی ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ صدر زرداری کو بھی جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے ساتھی معزول ججوں کی بحالی پر بحالی کی تحریک چلانے والے وکلا جتنی ہی خوشی ہوئی ہے۔ درحقیقت ایوانِ صدر کے مکین سوچتے کچھ ہیں‘ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ وہ آدھی چھوڑ کر ساری پانے کے تمنائی ہیں اگر ہاتھ مارنے کے اس عمل میں آدھی بھی کھو بیٹھے تو ان کے اور ان کی پارٹی کے پلّے کیا رہیگا۔ نظرثانی کی درخواستوں کی پیروی نہ کرنے کا فوزیہ وہاب کی زبانی اعلان کرا کے جس سیاسی منافرت کی بنیاد رکھی جا رہی ہے اور اپنے پائوں پر کلہاڑی مار کر گڑھا کھودا جا رہا ہے اس میں بالآخر گڑھا کھودنے والوں نے ہی گرنا ہے۔ جمہوریت اب ایوانِ صدر کی سازشوں سے تو کمزور نہیں ہو پائے گی۔ وزیراعظم کا مفاہمتی جذبہ ان سازشوں کے توڑ کی نوبت ضرور لے آئے گا۔ بات اب کسی ایک رات کی نہیں‘ سیاست میں سنگل آؤٹ ہونے والے صدر محترم کے دفاع کیلئے فوزیہ وہاب کو شائد کئی راتوں کی قربانی دینا پڑے گی کیونکہ …ع
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں ’’دیدہ ور‘‘ پیدا