ہفتہ ‘ 21 مارچ 2009 ء

21 مارچ 2009
مسلم لیگ ق کے قائد چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے ایک دو روز تک نواز شریف سے ملوں گا۔ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے خوش آمدید کہتے ہیں پنجاب میں اکثریت حاصل ہے۔
بڑے چودھری صاحب مٹی ڈالتے رہے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جس چیز پر مٹی ڈال دیں اس سے مٹی ہٹا کر بارِ دگر استعمال میں نہیں لا سکتے۔ ایک صاحب کو بہت بھوک لگی تھی خربوزے خرید کر نہر کے کنارے بیٹھ کر کھانے لگا۔ میٹھے میٹھے کھا گیا‘ تلخ ایک طرف پھینک کر ان پر پیشاب کر دیا۔ کچھ وقت گزرا تو اسے پھر بھوک نے ستایا اور جن خربوزوں پر پیشاب کیا تھا یہ کہہ کر انہیں ایک ایک کر کے کھاتا گیا کہ شاید اس پر نہیں کیا تھا۔ الغرض اس طرح وہ سب خربوزے کھا گیا۔
بہرحال کچھ بھی کہیں چودھری شجاعت حسین میں رس ہے اور ان میں لچک ہے‘ ایسی لچک کہ آج وہ ملک کے ایک منجھے ہوئے سیاستدان سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے نواز شریف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کچھ اس انداز میں کیا ہے کہ میاں شہباز شریف کو انہیں خوش آمدید کہنا پڑا۔ ایک طرف سے چودھری صاحب کہہ رہے ہیں …؎
آ میرے ہمجولی آ‘ کھیلیں آنکھ مچولی آ
گلیوں میں بازاروں میں باغوں میں بہاروں میں
تب ایک طرف سے آواز آتی ہے ’’میں آؤں‘‘
دوسری طرف سے جواب آتا ہے ’’آ جا‘‘
ویسے دفع دخل مقدر کے طور پر میاں شہباز شریف نے پہلے ہی کہہ چھوڑا ہے کہ پنجاب میں اگرچہ ہمیں اکثریت حاصل ہے اس کے باوجود خوش آمدید کہتے ہیں۔ قوم کے معصوم بچے اور برگزیدہ بزرگ بھی دعا کرتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ کبھی یہ دونوں مسلم لیگیں مل جائیں۔
٭٭٭٭٭٭
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے کہا ہے ’’چاہتا ہوں کمزوروں کو انصاف کی فراہمی کے لئے یاد رکھا جاؤں‘ نچلی سطح پر کرپشن ختم کر کے عدالتی نظام بہتر بنایا جائے گا۔‘‘
ترازوے انصاف کا داور افتخار محمد چودھری طبعاً فقیر منش اور مقام و مرتبت کے حوالے سے عظیم انسان ہیں‘ انکی آنکھوں میں عدل کی کیفیت نمایاں نظر آتی ہے‘ وہ کیا اٹھے آمر کے سامنے کہ سب کو آمریت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا سلیقہ آ گیا۔ ہمارے ہاں المیہ ہی یہ رہا ہے کہ غریب کا لفظ جس پر فٹ آ جائے وہ لوگوں کی نظروں میں گر جاتا ہے‘ پھر گھوڑے کی زین کا نمدہ بن جاتا ہے ہر کوئی اس پر سواری کرتا ہے۔ وہ جس بات پر نکالے گئے اسی پر واپس آ گئے‘ تحریک تو وکیلوں اور انکی تھی لیکن لوگوں نے پہچان لیا کہ ہم نے جس کی خاطر نکلنا تھا وہ یہی ہیں۔ یہاں تک کہ نواز شریف بھی ان لوگوں میں شامل ہو گئے جو چودھری افتخار کے پیروکار تھے‘ اس سارے عمل کا فائدہ یہ ہوا کہ میاں صاحب میں وہ جرأت رندانہ آ گئی کہ لوگوں نے انکے بے لوث پن کو دیکھ لیا اور انکے ساتھ چل پڑے۔ میاں صاحب نے جو کیا وہ یاد رکھا جائیگا۔ حکومت نے آخری لمحے تک دیکھا کہ شاید وکلا تحریک ماند پڑ جائے‘ خود افتخار محمد چودھری بھی کسی کونے کھدرے میں ناامید دبک جائیں مگر ایسا نہ ہوا اور وہ ہو گیا جس کے ہونے کی حکومت کو توقع ہی نہ تھی۔
٭٭٭٭٭٭
سابق اٹارنی جنرل قیوم ملک نے کہا ہے : میں یا شریف الدین پیرزادہ کوئی سازش نہیں کر رہے۔ اعتزاز کے کان بج رہے ہیں۔
سابق ٹوڈی جنرل اور حاضر فارغ التحصیل جسٹس ریٹائرڈ قیوم ملک نے اپنے ہمزاد حریف الدین پیرزادہ کو بڑے زور شور سے ڈیفینڈ کیا ہے کیونکہ ہر بندہ اپنے پیٹی بھائی کو بچاتا ہے ایسا نہ کرے تو وہ وہ خود نہیں بچ پاتا‘ باقی جہاں تک اعتزاز احسن کے کان بجنے کا تعلق ہے تو ان کے بجنے کی تو یہ حالت ہے کہ …؎
گھنگرو کی طرح بجتا ہی رہا ہوں میں
کبھی اس پگ میں کبھی اس پگ میں
اعتزاز احسن اور افتخار محمد میں چودھری کامن ہے اس لئے پچھلے جتنے بھی دن گزرے ہیں آہ فغاں میں ان میں یہ دونوں بجتے ہی رہے ہیں‘ ٹل کی طرح کبھی زرداری کے کانوں میں کبھی گیلانی کے کانوں میں البتہ شریف الدین پیرزادہ بچتے ہی رہے ہیں بلکہ گجدے وجدے رہے ہیں۔ شریف الدین پیرزادہ کے نام نامی میں شرافت کے سارے سابقے لاحقے لگے ہوئے ہیں مگر کام کی جہاں سے شروع ہوتی وہاں سے آمریت شروع ہوتی ہے‘ اعتزاز احسن کی لٹ جو ایک عرصہ الجھی رہی اب جا کر سلجھ گئی ہے‘ انہوں نے بہر صورت اپنی پارٹی کی قربانی دی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ واقعی حقیقی پیپلئے ہیں مگر حاضر سروس پیپلئے اب انکے بارے میں اس لئے بدظن ہو گئے ہیں کہ اعتزاز احسن کے وجود سے بھٹو کے سچے پیروکاروں کا سانچہ لوگوں کو یاد آ جاتا ہے اور خود ساختہ الگ سے واضح نظر آتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
نیوزی لینڈ میں پرواز کے دوران ایک خاتون نے طیارے کے ٹائلٹ میں بچے کو جنم دیا۔
کاکا ایک ایسی چیز ہے کہ جب یہ ایک مرتبہ آنے کا ارادہ کرلے‘ تو آتا ہی چلا جاتا ہے اور اس طرح کے کاکے رکتے بھی نہیں۔ نہ ہی انہیں کسی دائی کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی گائناکالوجسٹ کی حاجت۔ ہمارے ہاں مشرقی ملکوں میں اکثر خواتین جن کے ہاں کاکا‘ کاکی ہونے والا ہوتا ہے‘ وہ تو سیڑھی پر نہیں چڑھتیں چہ جائیکہ طیارے کے ٹائلٹ میں جاکر جنم دے۔ انسان روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں اور انسانیت گھٹتی جا رہی ہے ہمارے ملک میں تو کاکوں‘ ناکوں‘ ٹی وی ٹاکوں‘ وغیرہ پر کوئی پابندی نہیں‘ جب چاہیں واقع ہو جائیں‘ تیسری دنیا کی عورتوں کو جاہل سمجھا جاتا ہے‘ لیکن عملاً وہ اتنی عقلمند ہیں کہ کبھی رسک نہیں لیتیں۔ البتہ مغرب کی عورت رسک بھی لے لیتی ہے اور بچہ جہاں چاہے‘ مرغی کے انڈے کی طرح دیدیتی ہے۔ مغربی سیاست بھی انہی طیاروں‘ ٹائلٹوں کی پیداوار ہے اس لئے اس میں وہ ترس نہیں جو انسانی سیاست میں ہوتا ہے۔