عوامی انقلاب کا آغاز

21 مارچ 2009
پروفیسر نعیم قاسم
انقلاب،انقلاب … عوامی انقلاب ! جب قائد پاکستان میاں محمد نواز شریف حکومت پنجاب کی رکاوٹوں کو عبور کرتا ہوا معرکہ حق و باطل میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان کارزار میں اترا تو پھر چشم فلک نے عجب منظر دیکھا ۔عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اپنے محبوب لیڈر کے سنگ قدم تھا اور عملاً عوام کے ہجوم عاشقاں نے نواز شریف کا یہ گلہ دور کر دیا کہ جب بھی وہ انقلابی تبدیلی کے لئے قدم اٹھاتے ہیں تو عوام \\\"قدم بڑھائو نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں\\\"کا نعرہ لگا کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔مگر 15مارچ کو جب ان کا بہادر اور جری لیڈر قریہ جا ںمیں آرزوئوں اور امیدوں کے نئے پھول کھلانے نکل کھڑا ہوا تو پاکستان کے غیور عوام دیوانہ وار اس کی طرف لپکے ۔وہ عظیم تر قومی مقاصد،عدلیہ کی بحالی ،جمہوری قدروں کے احیاء ،عدل و انصاف ،سماجی عدم امتیاز کے خاتمے کے لئے اپنے بہادر ساتھیوں کے ہمراہ \\\"لانگ مارچ ٹو فریڈم\\\"کا آغاز کر چکا تھا۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
ابھی جانثاران وطن کا قافلہ حجاز ،جذبہ عشق و مستی میں سرشار اپنے لیڈر کے جلو میں لاہور شہر سے باہر ہی نکلا تھا ۔۔۔۔۔کہ پاکستانی عوام کی حق و صداقت کی تڑپ اور جذبات کی طغیانی سے ایوان اقتدار لرز اٹھا۔ وہ جو اپنی جھوٹی انا اور ضد کی خاطر عزت مآب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے رفقاء کی عدلیہ میں بحالی سے صریحاً انکاری تھے ان کی فرعونیت لمحو ں میں خزاں رسیدہ پتوں کی طر ح بکھر گئی۔ عوام کے شدید رد عمل نے حکمرانوں کی کلف زدہ گردنوں کو جھکا دیا۔ انہوں نے عوامی امنگوں کے مطابق نوشتہ دیوار پڑھ لیا۔ نواز شریف نے ذوالفقار علی بھٹو کے یہ الفاظ سچ ثابت کر دیئے\\\"آخری فتح عوام کی ہو گی\\\"آج اس عوامی فتح کا نقیب میاں نواز شریف سماجی تبدیلی کا علمبردار بن کر اُبھرا ہے وہ بھٹو ثانی بن چکا ہے کیونکہ وہ بھی شہید بھٹو کی طرح اپنا رشتہ عوام کے ساتھ منسلک (Identify) کر چکا ہے کیونکہ اس کے الفاظ عوام کے جذبات اور احساسات کی سچی ترجمانی کر رہے ہیں۔ عظیم ہیرو نیلسن منڈیلا کی طرح وہ پاکستانی باشندوں کے سماجی اور معاشی حقوق کی بحالی کے لئے پر امن اور صبر آزما مسلسل جدوجہد کا آغاز کر چکا ہے۔ قید و بند اور جلاوطنی کی طویل صعوبتوں نے نواز شریف کو کندن بنا دیا ہے۔
آج وہ بہادری ،صبرو تحمل ،دانائی و حکمت، اصول پرستی اور جذبہ ایثار کی عظیم مثال بن چکے ہیں۔ آج میاں نواز شریف پاکستانی عوام کی امنگوں کے مطابق آزادی جمہور، عدل و انصاف ،معاشی و سماجی فلاح و بہبود کی خاطر اعلیٰ انسانی قدروں کا حامل معاشرہ تشکیل دینے کے لئے پر عزم ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں ہر پاکستانی کو معاشی ترقی کے مساوی مواقع دستیاب ہوں۔اور عزت نفس حاصل ہو۔ جہاں امیر و غریب کے لئے قانون یکساں ہو۔ جہاں عدلیہ آزاد ہو، جہاں ہر فرد کو مذہبی آزادی حاصل ہو، بھائی چارہ اور رواداری کو فروغ حاصل ہو اور ویلفئیر سٹیٹ میں غریب عوام کے لئے اچھی تعلیم، صحت ، نقل و حمل ،سستے ایندھن کی فراہمی اور بہتر ماحول کی سہولتیں میسر ہوں۔
18فروری کو پاکستانی عوام نے آزاد عدلیہ کی بحالی، مہنگائی سے نجات، غربت کا خاتمہ اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے پیپلز پارٹی کو بے نظیر بھٹو شہید کے صدقے مینڈیٹ دیا مگر بمشکل عوامی دبائو سے بادل نخواستہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور آزاد عدلیہ کو بحال کیا گیا ! افسوس صد افسوس پیپلز پارٹی کو غیر جمہوری اور اسٹیبلشمنٹ کے پٹھوئوں نے ہائی جیک کر لیا ہے۔ یہ پیپلز پارٹی اور اس کے کارکنوں کی بدنصیبی ہے کہ آصف علی زرداری، رحمان ملک، فاروق نائیک اور سلمان تاثیر بے نظیر بھٹو شہید اور ذوالفقار علی بھٹو کے فلسفہ و فکر اور عوامی جمہوریت کی بجائے شیم جمہوریت (Shame Democracy) کے علمبردار بن چکے ہیں عوام کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت عوام کی معاشی بھلائی اور بہتری کے لئے مہنگائی کم کرنے کے اقدام کرے گی مگر ان کا مشیر خزانہ حسب معمول ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ۔ ملک پر ایک سال میں پندرہ ارب ڈالر غیر ملکی قرضے کا بوجھ بڑھ گیا ہے اور مہنگائی میں سو گنا اضافے سے غربت کی شرح 24فیصدسے بڑھ کر 40فیصد ہو چکی ہے۔ وزیروں اور مشیروں کی ظفر موج عیاشیوں اور اللے تللوں پر غریب عوام کے ٹیکسوں کی کمائی کو اجاڑ رہے ہیں حکمرانوں کے رشتہ دار براہ راست بیورو کریسی اور عدلیہ میں بھرتی کئے جا رہے ہیں امین فہیم بڑے با اصول بنتے تھے مگر اپنی بیٹی کو براہ راست فارن سروس میں بھرتی کروانے کے بعد پر سکون ہو چکے ہیں جب کہ اعتزاز احسن ،رضا ربانی، اور صفدر عباسی جیسے پیپلز پارٹی کے جینو ئن لیڈروں کے لئے اہلیت اور ذاتی قابلیت کا معیار ڈس کوالیفکیشن بن چکا ہے…ع
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔
پاکستان کے عوام نے جن امیدوں اور آرزوئوں کے ساتھ موجودہ حکمرانوں کا چنائو کیا تھا وہ سخت مایوسی کا شکار ہیں۔ کیونکہ حکمران جماعت کی نا اہل قیادت پاکستان کو انارکی اور تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان بچانے کے لئے میاں نواز شریف نے سماجی اور معاشرتی انقلاب کا نعرہ بلند کر دیا ہے نواز شریف چاہتا ہے کہ غریب ہاریوں اور کسانوں کو جاگیرداروں کے ظلم و ستم سے آزادی ملے۔ مزدوروں کو سرمایہ داروں کے استحصال سے آزادی حاصل ہو ۔مدرسوں کے سادہ دل نوجوانوں کو مذھب فروشوں سے آزادی حاصل ہو ۔عدلیہ بے ایمان اور سیا سی ججوں سے آزاد ہو، نا اہل اور بے ایمان پولیس اور بیورو کریسی سے مظلوم عوام آزادہوں کمزور عوام کو قبضہ گروپوں اور رسہ گیروں سے آزادی ملے، عورتوں اور بچوں کو بردہ فروشوں سے آزادی ملے ،بیوائوں ،یتیموںاور مظلوموں کے حقوق کو تحفظ ملے تو پھر عوام کو خالص میڈ ان پاکستان قیادت کا ساتھ دینا ہو گا ۔
جہاں 16مارچ کی صبح عظیم پاکستانی عوام کو نواز شریف کی صورت میں قائد اعظم اور ذوالفقار علی بھٹی کا سچا جانشین مل چکا ہے وہیں جنرل کیانی جیسا فہم و فراست سے مالا مال عظیم عسکری ہیرو عوام کے دلوں میں پاک فوج کی عزت و تکریم بحال کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
نواز شریف اور شہباز شریف نے نظام کی تبدیلی کے لئے سٹیٹس کو (Status quo) کے خلاف عَلمِ بغاوت کا پرچم بلند کر دیا ہے اسی لئے وہ سماجی، عدالتی اور معاشی انقلاب کا نقیب بن چکا ہے نواز شریف کا کہنا ہے کہ 16مارچ کا دن عوامی انقلاب کی طرف پہلا قدم ہے اور انشاء اللہ پوری قوم لانگ مارچ کرتے ہوئے ظلم و نا انصافی کا خاتمہ اور معاشی خوشحالی کی منزل ضرور حاصل کرے گی۔
قارئین !آج لانگ مارچ ٹو فریڈم کی کامیابی نے پاکستانی عوام کو نئی منزل سے آشنا کیا ہے میاں نواز شریف اور جسٹس افتخار چودھری کے اصولی موقف نے عوام کو اپنی حقیقی طاقت کا احساس دلایا ہے انشا ء اللہ وہ وقت جلد آئے گا جب وطن عزیز میں آزاد عدلیہ اور پارلیمنٹ کی حاکمیت ہو گی، قومی ادارے مستحکم ہوں گے دہشت گردی کا خاتمہ ہو گا اور انشاء اللہ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب حقیقی منصفوں کی عدالت میں عوامی مجرموں کا کڑا احتساب ہو گا کیونکہ وہ وقت اب آ پہنچا ہے۔
دربار وطن میں جب اک دن
سب جانے والے جائیں گے
کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے
کچھ اپنی جزا لے جائیں گے