وہ منزل ابھی نہیں آئی! … (آخری قسط)

21 مارچ 2009
قاضی حسین احمد
میں نے انھیں یاد دلایا کہ طے ہوا تھا کہ عدلیہ کو 2نومبر2007ء کی شکل میں بحال کرنے تک دھرنا دیاجائیگا۔ اگر 21مارچ ، ریٹائر منٹ کی تاریخ تک عبدالحمید ڈوگر صاحب کو چیف جسٹس تسلیم کیاجاتا ہے تو کیا یہ پرویز مشرف کے تین نومبر 2007ء کے غیر آئینی اقدام کو تسلیم کرنے کے مترادف نہیں ہوگا۔ اورکیا اسی دوران ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں جس طرح یک طرفہ طور پر اپنے پسندیدہ افراد اور پیپلزپارٹی کے کارکنوںکو جج بنا کر بٹھا دیا گیا ہے ،انکی موجودگی میںافتخار محمد چودھری صاحب عوام کی توقعات پر پورا اتر سکیں گے۔ کیا لاپتہ افراد کے معاملے کووہ اس انداز سے اٹھا سکیں گے جس اندازسے وہ اپنی برطرفی کے فیصلہ سے پہلے اٹھا رہے تھے اور کیا NRO کے بارے میںانصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکیں گے۔ اس طرح کے بے شمار سوالات پید اہونگے ا ور خدشہ ہے کہ عدل و انصاف اوردستور اور قانون کی بالادستی کے لیے وکلاء نے جو مثالی قربانی دی ہے وہ بار آور نہیں ہوسکے گی۔ چودھری نثارعلی صاحب نے کہا کہ انھیں بھی تحفظات ہیں لیکن وکلاء کی قیادت نے اس فیصلے کو منظور کرلیاہے اس لیے ہم نے بھی دھرنا دینے کاارادہ ترک کردیا ہے۔اسکے بعد عمران خان سے رابطہ ہوا توانھوں نے بھی اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔بہت سے وکلا رہنماؤں نے بھی اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیااور اسے آئیڈیل صورتحال قرار نہیں دیااورچیف جسٹس کے ترجمان نے توبرملااس خدشے کا اظہار کیاکہ نہیں معلوم کہ اس میں نیک نیتی شامل ہے کہ نہیںاور پارلیمنٹ کے ذریعے چیف جسٹس کی مدت ملازمت یا اختیارات میں کمی کی کوشش تو نہیںکی جائیگی جیسا کہ پرویز مشرف چاہتے تھے اور اب ایک دن گزرا ہے کہ خود چوہدری اعتزاز احسن کو اقتدار کے ایوانوں میںسازشوں کی سرسراہٹ سنائی دے رہی ہے۔ بہرحال چونکہ اس فیصلے کو وکلا قیادت اور خود چیف جسٹس نے قبول کرلیا لہٰذا ہم نے بھی اپنے تحفظات کے باوجود اسے قبول کرلیا ہے۔مگر یہ سب باہمی مشاورت سے ہوتا تو مستقبل میں باہمی اعتماد کے لیے مفید ثابت ہوتا۔
اس پس منظر میں یہ سوال ہمارے سامنے ہے کہ مستقبل میں ایک دوسرے پر کیسے اعتماد کیا جاسکے گا۔ اس سے قبل میاں نواز شریف نے اے پی ڈی ایم کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا تھا،اور اس موقع پربھی انھوں نے فیصلہ کن لمحات میں اس تحریک میں شامل دوسری قوتوں کو اعتماد میں نہیں لیا اور چوہدری اعتزاز احسن کو ساتھ ملا کر اسے وکلاکا فیصلہ بنا کر پیش کیااور یکطرفہ طور پر لانگ مارچ کے خاتمے کا اعلان کردیاجسے بادل نخواستہ وکلا قیادت اور دوسرے لوگوں کو قبول کرنا پڑا۔ اس سے یہ تاثر بھی ابھرا کہ شایدیہ سب کچھ اندرونی و بیرونی قوتوںکی مداخلت اور ایک ڈیل کے تحت ہواہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے لانگ مارچ کے موقع پر میاں نواز شریف کے مشورے سے چوہدری اعتزاز احسن نے دھرنا نہ دینے کا اعلان کیا تھااور بعد میں پتہ چلا تھا کہ ایسا آصف زرداری کی خواہش پر کیا گیا تھا جن سے اس وقت میاں نواز شریف کی گاڑھی چھنتی تھی۔
یہاں اس بات کا ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ جب ایک طرف میاں نواز شریف لانگ مارچ کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھا رہے تھے اور دوسری طرف حکومت اور بیرونی قوتوں کے ساتھ رابطے میں تھے،اور گوجرانوالہ پہنچنے سے پہلے وزیر اعظم سے دومرتبہ بات کرچکے تھے،اور میاں شہباز شریف کے بارے میں خبریں آرہی تھیں کہ وہ اسلام آباد میں مقتدر قوتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں،آصف زرداری کا کیمپ آخر وقت تک کوشش کررہاتھا کہ کسی طریقے سے میاں برادران کو تنہا کردیا جائے اور ایوانِ صدر سیاسی شکست سے بچ جائے۔ چنانچہ اس حوالے سے 15مارچ کی شام اور رات تک لانگ مارچ اور دھرنے سے نمٹنے کی حکمت عملی بنانے والی اہم حکومتی شخصیات نے مختلف ذرائع سے مجھ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا اور بات چیت کی پیش کش کی مگر میں نے اس سے انکار کردیااور دھرنے کے حوالے سے وکلا اور عوام سے کی گئی کمٹمنٹ پر قائم رہا۔
16مارچ کودوپہر کے وقت جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنان آبپارہ چوک میں ہدایات کے منتظر تھے۔ادھرمیڈیا نے افتخار محمد چودھری کی بحالی پر جشن کا سماں باندھ دیا تھا۔ ہم نے کہا کہ یقینا افتخار محمد چودھری کی بحالی ایک پیش رفت ہے اور صحیح سمت میں ایک مثبت قدم ہے لیکن عوام کوعدل وانصاف کی بالادستی کی جو نوید سنائی گئی ہے کیا افتخار محمد چودھری صاحب نئے ججوں کے جھرمٹ میں رہ کراس کو سچا ثابت کرسکیں گے؟ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے سامنے اہمیت کے حامل مقدموں کے علاوہ ذیلی عدالتوں میں اس وقت ہزاروں مقدمات فیصلہ طلب ہیں، کیا ان کا جلد ہی میرٹ پر فیصلہ ہو سکے گا۔ ذمہ دار افراد کے سامنے بھی جب عدالت کے بارے میں کوئی شکایت پیش کی جاتی ہے تو وہ اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عدالتوں میں تو آج کل پیسہ چلتا ہے۔ کسی غریب اورمظلوم شخص کے لیے عدل کا کوئی دروازہ کھلا ہوانہیں ہے۔ جب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت پاکستان امریکہ کی صف اول کی حلیف بنی ہے، ملک میں مکمل طور پرامریکی خفیہ ایجنسیوں کی عمل داری ہے۔ کسی بھی شہری کواگر امریکی خفیہ ایجنسی نشان زد کردیتی ہے تو اسے کوئی پاکستانی عدالت انصاف فراہم نہیں کرسکتی۔ ہزاروں پاکستانی شہری اس وقت اپنے عزیزوں سے چھین لیے گئے ہیں اور ان کے لواحقین داد رسی سے محروم ہیں ۔کئی اور سوال بھی ہمارے سامنے ہیں کہ پرویزمشرف نے دو دفعہ دستور توڑا، کیا انھیں کٹہرے میں لایا جائے گا۔
12مئی اور جامعہ حفصہ و لال مسجد کے مقتولین کا حساب لیا جائے گا،این آر او کے تحت معاف کرایاگیا اربوں روپیہ واپس ہوگا؟کیا چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چودھری وکلاء اورعدلیہ کے عملے کے ساتھ مل کر پاکستانی عوام کو عدل وانصاف کی نئی صبح طلوع ہونے کا کوئی مژدہ جانفزا سنانے کی اہلیت کے حامل ہوگئے ہیںجبکہ انتظامیہ اور سیاسی قیادت اپنی پرانی ڈگر پر قائم ہے۔اور عدلیہ میں بھی بڑی حد تک ان کے منظور نظر لوگوں کاسکہ چلتا ہے۔چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو یہ بھی فیصلہ کرنا ہے کہ کیاوہ عبدالحمید ڈوگر کو آئینی چیف جسٹس مانتے ہیں اور ان کے فیصلوں کی کیا حیثیت متعین کرتے ہیں جبکہ انھوں نے اپنی کئی تقاریر میں کہا تھا کہ ایمرجنسی کو غیرقانونی قراردینے والے سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔اٹارنی جنرل کا یہ بیان معنی خیز ہے کہ گڑے مردوںکونہیں اکھاڑاجائے گا۔ اعتزاز احسن بھی کہتے ہیں کہ امید ہے افتخار محمد چودھری این آر او کا مقدمہ خود نہیں سنیں گے۔ اس طرح ابھی سے پیپلزپارٹی کی قیادت کو تحفظ فراہم کرنے کی باتیں شروع ہوگئی ہیں۔
حکومت کی طرف سے جو اعلامیہ جاری ہوا ہے اس کے مطابق افتخارمحمد چودھری سمیت برطرف شدہ ججوں کوتو 3 نومبر 2007ء سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کردیاگیاہے لیکن عدلیہ کو 3نومبر سے پہلے والی پوزیشن پر بحال نہیں کیاگیا۔عبدالحمید ڈوگر کو 21مارچ 2009ء تک جائز چیف جسٹس تسلیم کرلیاگیا ہے اور اس دوران میں ان کی منظوری سے پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کے جن من پسند افراد کوہائی کورٹ اورسپریم کورٹ میں جج بنایاگیا ہے وہ بدستوران مناصب پر براجمان رہیں گے۔ مستقبل میں عدلیہ پر انہی لوگوں کی عملداری قائم ہوگی تو کیا قوم انصاف کی منزل کو پا سکے گی۔فیض احمد فیض یاد آتے ہیںجنھوں نے کہا تھا:
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
اور اس نظم کے آخر میں انھوں نے کہا :
کہاں سے آئی نگارِ صبا کدھر کو گئی
ابھی چراغ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیِ شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی