A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

مسلم لیگ کے اتحاد کا سنہری موقع ضائع نہ کریں

21 مارچ 2009
اخباری اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے ہمراہ رائیونڈ میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔ گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے کہا تھا کہ وہ ایک دو روز میں میاں نواز شریف سے ملاقات کریں گے جس کے بعد میاں شہباز شریف نے انہیں فون کرکے ظہرانے کی دعوت دی۔
پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ سے صوبائی اور قومی سطح پر جو عدم استحکام پیدا ہوا‘ وہ لانگ مارچ کے خاتمے اور معزول عدلیہ کی بحالی سے ختم نہیں ہوا کیونکہ صدر آصف علی زرداری کے ایماء پر گورنر پنجاب کی طرف سے صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں تاخیر اور مسلم لیگ (ن) سے یہ مطالبہ کہ وہ ایوان کی دوسری دو پارٹیوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) سے اتحاد کرکے مجھے مطلع کرے‘ صورتحال میں روز بروز خرابی پیدا کر رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا اصرار ہے کہ وہ مسلم لیگ (ق) کے یونیفکیشن گروپ یا فارورڈ بلاک کی حمایت سے 208 ارکان کی اکثریت سامنے لا چکی ہے اور یہ فیصلہ ایوان ہی کرنے کا مجاز ہے کہ کس جماعت یا شخصیت کو اعتماد اور اکثریت حاصل ہے۔ آئین میں ایک واضح طریقہ کار کی موجودگی میں کسی جماعت سے یہ مطالبہ کرنا کہ پہلے وہ کسی دوسری جماعت سے اتحاد کرے‘ پھر اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا‘ سب سے بڑے صوبے کے معاملات کو معرض التواء میں ڈالنے اور موجودہ جمہوری نظام کو غیرمستحکم کرنے کے مترادف ہے۔ حالانکہ وزیراعظم اپنی تقریر میں کہہ چکے ہیں کہ گورنر راج جلد سے جلد ختم کردیا جائے گا۔
گورنر راج کے نفاذ سے پہلے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اتحادی تھیں لیکن بعدازاں جو بدمزگی ہوئی اور پیپلز پارٹی نے صوبے پر قبضہ کیلئے جس طرح مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کو توڑنے کیلئے پولیس و انتظامیہ کے دبائو اور مراعات کا سہارا لیا‘ اس کے بعد دونوں کا دوبارہ مل بیٹھنا مشکل نظر آرہا ہے۔ اگرچہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف مفاہمت کو خارج ازامکان قرار نہیں دیتے‘ لیکن پیپلز پارٹی کے حلقے اب بھی مسلم لیگ (ق) کو ساتھ ملا کر صوبے میں اپنی حکومت کے قیام کے خواہش مند ہیں اور دو جماعتوں کے اتحاد کی تھیوری بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مسلم لیگ (ق) کی صوبے میں تیسری پوزیشن ہے اس لئے پیپلز پارٹی کی طرح اسے بھی اصولاً اور اخلاقاً اپوزیشن میں بیٹھنا چاہئے‘ انتخابی مہم کے دوران چودھری پرویز الٰہی پیپلز پارٹی کے بارے میں جو کچھ کہتے رہے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کو پیپلز پارٹی میں ضم کرنے کے مشورے دیتے رہے ہیں اور جواباً جناب آصف علی زرداری اسے قاتل لیگ قرار دے چکے ہیں‘ اس کے پیش نظر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کا اتحاد موقع پرستی کی نادر مثال ہو گی۔ اسی بناء پر مسلم لیگ کے سینئر قائدین سلیم سیف اللہ خان‘ گوہر ایوب خان‘ ہمایوں اختر خان‘ اعجازالحق‘ عبدالمجید ملک‘ اکرم ذکی اور طارق عظیم کے علاوہ سیکرٹری جنرل مشاہد حسین پیپلز پارٹی سے اتحاد کے مخالف ہیں اور مسلم لیگ (ن) سے مفاہمت کی خواہش رکھتے ہیں۔
چودھری شجاعت حسین نے سینئر ز کے دبائو پر پنجاب میں تینوں جماعتوں کی مخلوط حکومت کا جو آئیڈیا پیش کیا‘ وہ بھی قابل عمل نہیں بلکہ یہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں اپوزیشن کا وجود ختم کرنے اور پارلیمانی اپوزیشن کی عدم موجودگی میں ان جماعتوں کو موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے جو ایوان سے باہر ہیں اور جلد سے جلد اسمبلیوں کی برخاستگی اور نئے انتخابات کی خواہش مند ہیں تاکہ انہیں بھی حصہ رسدی مل سکے۔ اگر کوئی غلط فہمی جنم نہیں لیتی اور سازشی عناصر کو سبوتاژ کرنے کا موقع نہیں ملتا تو دونوں مسلم لیگوں کے سربراہوں کی آج کی ملاقات قومی سیاست میں اہم پیش رفت ہے‘ اگر دونوں اطراف سے نیک نیتی اور خلوص قلب کے ساتھ مل بیٹھ کر تبادلہ خیال ہو تو باہمی تعاون اور اتحاد کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں بنیادی ذمہ داری اگرچہ چودھری برادران کی ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف کا ساتھ دینے کی وجہ سے عوام کے علاوہ لیگی حلقوں میں مطعون کئے جاتے ہیں تاہم میاں نواز شریف کو بھی اپنے سیاسی ماضی کے ابتدائی دور کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور بڑی پارٹی کے سربراہ کے طور پر کشادہ قلبی اور وسیع النظری کا مظاہرہ کرنا پڑے گا اور ماضی کے گلے شکوے ختم کرکے اپنے سابقہ ساتھیوں کو گلے سے لگانا ہو گا۔
مسلم لیگ (ن) کو صوبے اور ملک میں بھرپور عوامی تائید و حمایت حاصل ہے اور میاں نواز شریف پہلے کی طرح ایک بار پھر حقیقی عوامی لیڈر بن کر ابھرے ہیں جبکہ چودھری پرویز الٰہی کو حالیہ انتخابات کے بعد یہ علم ہے کہ عوامی مقبولیت کے حوالے سے وہ کہاں کھڑے ہیں؟ ان کی پارلیمانی پارٹی کے 32 ارکان الگ ہو چکے ہیں جبکہ اخباری اطلاعات کے مطابق مزید دس گیارہ ارکان اپنی سابقہ جماعت میں جانے کیلئے پرتول رہے ہیں‘ وفاقی حکومت کی طرف سے ارکان اسمبلی کے بارے میں ایک آرڈی نینس کے اجراء کی اطلاعات گشت کر رہی ہیں جس کے تحت وہ اپنے ووٹ کا آئینی‘ قانونی اور اخلاقی حق اپنی مرضی اور ضمیر کے مطابق استعمال نہیں کر سکیں گے‘ اس آرڈی نینس کا مقصد فارورڈ بلاک کو ختم کرنا اور اس میں مزید ارکان کی شمولیت کا روکنا ہے لیکن یہ وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ق) کی واضح شکست بھی ہو گی کہ وہ مسلم لیگ (ن) کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں اور عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کیلئے ریاستی طاقت اور اختیارات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ یہ وہی سٹریٹجی ہے جس نے پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کو لانگ مارچ کے موقع پر شرمندگی سے دوچار کیا۔ لہٰذا مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے قائدین کو نیک نیتی اور ملک و صوبے کے علاوہ ملک میں اسلامی فلاحی جمہوری نظام کے نفاذ میں ایک دوسرے سے تعاون کرکے گورنر راج کے خاتمے کی راہ ہموار کرنی چاہئے۔ حکومت سازی کے مرحلے میں لین دین کے معاملات بعد میں طے ہوتے رہیں گے۔ مسلم لیگ (ن) ہو یا (ق)‘ پیپلز پارٹی کی طرح کی جماعتیں نہیں ہیں۔ مسلم لیگ قائداعظم کی نام لیوا‘ پاکستان کی بانی اور اقبال و قائد کے تصورات کی امین جماعت ہے اس لئے اسے اقتدار کی کشمکش میں بھی یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہئے اور پاکستان بچانے کا جو موقع اسے مل رہا ہے‘ اسے آپس کی کشمکش اور شکر رنجیوں میں ہرگز ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ چودھری صاحبان کو اب وقتی مفادات کی سیاست سے بالاتر ہو کر نظریاتی سیاست میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے جبکہ میاں صاحب کو مزاج میں نرمی پیدا کرکے اپنے سابقہ ساتھیوں کو خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹانا چاہئے تاکہ متحدہ مسلم لیگ پاکستان کو واقعی جدید اسلامی جمہوری پارلیمانی فلاحی ریاست بنانے کیلئے اپنا فرض اور کردار ادا کر سکے۔
پاکستان بھارت تعلقات کی بہتری کیلئے امریکی کوششیں
امریکہ نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی سرحد سے فوجیں ہٹالے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرے۔ اس سلسلہ میں امریکہ نے واشنگٹن میں موجود بھارت کے سیکرٹری خارجہ شیوشنکر مینن کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے۔
شیوشنکر مینن نے اگرچہ عندیہ دیا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر حل کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے کیونکہ یہ مسئلہ انسانی المیوں سے بھرا ہوا ہے تاہم بھارت نے اس کے ساتھ ہی امریکہ پر واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں بھارت پر فوجوں کی واپسی کیلئے دبائو ڈالنا مناسب نہیں کیونکہ بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھرجی کے بقول پاکستان کی سرزمین ابھی تک دہشت گردوں کے زیر استعمال ہے اس لئے بھارت اپنی فوجیں پاک بھارت سرحد سے نہیں ہٹائے گا۔
پاکستان کی سرحد سے فوجیں ہٹانے کیلئے بھارت پر امریکی دبائو خوش آئند ہے تاہم پاک بھارت تعلقات کی بہتری کیلئے جب تک یو این قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کی جائیں گی۔ اس وقت تک ان دونوں پڑوسی ممالک کے مابین تعلقات کی بہتری کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث اب تک حل نہیں ہو سکا حالانکہ یہ مسئلہ خود لالہ جی نہرو اقوام متحدہ لے کر گئے تھے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ان کا موقف سن کر ہی کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا اور اسی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کا حل تجویز کیا مگر شاطر ہندو بنیا کو یہ حل قبول نہ ہوا اور اس نے گزشتہ ساٹھ سال سے زائد عرصہ سے کشمیر پر نہ صرف غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے بلکہ بھارتی فوجوں کے ذریعہ آزادی کی تمنا رکھنے والے نہتے اور مظلوم کشمیری عوام پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے اور جہاد کشمیر کو دہشت گردی کے کھاتے میں ڈلوانے کیلئے بھی اس کے مذموم عزائم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اسی تناظر میں بھارت کی جانب سے پاکستان کو رگیدنے اور کسی بھی دہشت گردی کا پس منظر چاہے جو بھی ہو‘ چاہے اس کی اپنی ایجنسیاں ہی دہشت گردی میں ملوث کیوں نہ ہوں‘ اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے میں ذرہ بھر دیر نہیں لگائی جاتی جس کی تازہ مثال ممبئی حملے ہیں اور بھارتی وزیر خارجہ اسی پس منظر میں امریکہ کو باور کرا رہے ہیں کہ پاک بھارت سرحد سے بھارتی فوج واپس بلانے کا اس کا مطالبہ پورا نہیں کیا جا سکتا۔
امریکہ اگر فی الواقع خطہ میں قیام امن کی خاطر پاکستان بھارت تعلقات کی بہتری چاہتا ہے تو بھارت سے صرف اس کی افواج سرحد سے واپس بلوانے کا تقاضہ نہ کیا جائے بلکہ اس پر کشمیر کا مسئلہ یو این قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے کیلئے بھی دبائو ڈالے اور اس معاملہ میں کوئی بھارتی عذر قبول نہ کرے۔ ممبئی حملے کے بعد اس وقت پاکستان بھارت سے تعلقات کشیدگی کی جس انتہا تک پہنچ چکے ہیں‘ اس میں ساری خرابی بھارت کی پیدا کردہ ہے جس نے وار ہسٹریا پیدا کرکے اور مبینہ دہشت گردی کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر لگے ہاتھوں کشمیر کا ٹنٹا ختم کرنے کی کوشش بھی کی اور پاکستان کے علاوہ عالمی برادری کو بھی باور کرایا کہ پاکستان اب کشمیر کو بھول جائے۔ اس بھارتی ذہنیت اور رویے کی موجودگی میں اگر امریکہ پاکستان بھارت تعلقات کی بہتری کا خلوص دل سے خواہش مند بھی ہو تو بھی اس کے مطلوبہ مقاصد پورے نہیں ہو پائیں گے‘ ماسوائے اس کے کہ بھارت کو یو این قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے پر مجبور کیا جائے۔ جب کشمیر پر لالہ جی کی رال ٹپکنا بند ہوجائے گی تو اس خطہ میں امن و سلامتی کی فضاء بھی قائم ہو جائے گی۔
پارلیمانی جمہوریت کی واپسی حکومت تاخیر نہ کرے
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ توازن اختیارات قائم کرنے کے لئے وہ اسمبلی توڑنے سمیت دیگر تمام اختیارات صدر سے واپس لے کر پارلیمنٹ کو منتقل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ’’وال سٹریٹ جرنل‘‘ سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم سسٹم کو تبدیل کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں‘ میں محاذ آرائی کی سیاست کے خاتمے کے لئے زبردست کوششیں کر رہا ہوں۔ جمہوری عمل مضبوط بنانے کے لئے نواز شریف کے ساتھ مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں پارلیمانی جمہوریت کو واپس لانا ہو گا۔
وزیراعظم کی طرف سے پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام کے عملی نفاذ کی خواہش اور اس پر عملدرآمد کے لئے کوشش جمہوریت کے لئے اچھی علامت ہے۔ سابق آمر مطلق جنرل (ر) پرویز مشرف نے 99ء میں جہاں جمہوریت پر شب خون مار کر اس کا بیڑا غرق کیا وہیں کٹھ پتلی پارلیمنٹ کے ذریعے 17ویں ترمیم کرکے آئین کا بھی حلیہ بگاڑ دیا جس کے بعد ملک میں نظام حکومت آدھا تیتر آدھا بٹیر کے مترادف صدارتی رہا نہ پارلیمانی‘ سلطانی جمہور کے باوجود بھی ’’مخلوط‘‘ نظامِ حکومت جاری ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد بارہا کہا کہ ان کا صدر ایوانِ صدر میں آئے گا تو آئین کو 17ویں ترمیم سے پاک کر دیا جائے گا اور قوم کو اس ترمیم کے خاتمے کا تحفہ دینے اور صدر کے اختیارات پارلیمنٹ کے حوالے کرنے کی بات کرتے رہے۔ اب صدر کیلئے اپنا یہ وعدہ پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ وزیراعظم صاحب نے بھی 17ویں ترمیم کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا ہے‘ مسلم لیگ (ق) اور ایم ایم اے سمیت کسی قابل ذکر پارٹی کو 17ویں ترمیم کے خاتمے پر اعتراض بھی نہیں۔ پارلیمان میں مطلوبہ سے کہیں زیادہ اکثریت دستیاب ہے اب اس وعدے کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہونا چاہئے جو جسٹس افتخار محمد چودھری اور دیگر معزول ججوں کی بحالی سے متعلق کیا گیا۔ پیپلز پارٹی اس کارخیر میں دیر نہ کرے فوراً خود ہی معاملہ پارلیمان میں لے جائے۔