ماننا تو پڑے گا 


تازہ رپورٹوں کے مطابق بھارت ایک ارب 42 کروڑ آبادی کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ چین جو پہلے نمبر پر تھا، اب ایک ارب 41 کروڑ کے ساتھ دوسرے نمبر پر آ گیا یعنی دونوں ملکوں نے اپنی پوزیشن ادلی بدلی کر لی۔ دو تین عشرے پہلے چین میں ایک جوڑا ایک بچہ کی پالیسی نافذ کی گئی تھی۔ جس  سے آبادی بڑھنے کی رفتار کم ہوئی اگرچہ بہت سے ایسے بھی ہوئے، ہزاروں کیس ایسے رپورٹ ہوئے کہ جن کے گھر بچی ہوئی، انہوں نے اسے فوراً یا کچھ بڑی ہونے پر مار ڈالا تاکہ لڑکا ہونے کی امید پوری کی جا سکے۔ ظاہر ہے، دو بچے تو رکھ نہیں سکتے۔ بہت قتل ہوئے، پھر پالیسی ختم کر دی گئی۔ اگر وہ پالیسی نہ ہوتی تو چین کی آبادی شاید دو ارب کو چھو رہی ہوتی۔ 
چین کا رقبہ بھارت سے تین گنا ہے یعنی وہاں بھارت کے حساب سے مزید دو کروڑ 80 لاکھ افراد آباد ہو سکتے ہیں لیکن دراصل ایسا ممکن نہیں۔ آدھے سے زیادہ چین بنجر ، برفانی یا صحرائی ہے، زیادہ لوگ رہ ہی نہیں سکتے۔ چین کے زیر قبضہ تبت کی مثال دیکھ لیں۔ رقبے میں وہ پاکستان  سے دگنا ہے، آبادی محض 40 لاکھ۔ وجہ اس کا سرد ترین، برفانی اور بنجر علاقہ ہونا ہے۔ 
بہرحال، چین اتنی بڑی آبادی کے باوجود ترقی کررہا ہے، خوشحال بھی ہو رہا ہے اور غربت بھی کم ہو رہی ہے اگرچہ انسانی جان کی قیمت وہاں کچھ بھی نہیں۔ 
بھارت بھی ترقی کر رہا ہے لیکن چین کے مقابلے میں اس کی رفتار ترقی خاصی کم ہے۔ 
___________
پاکستان متحد ہوتا تو آبادی کے لحاظ سے تیسرا بڑا ملک ہوتا، 38 کروڑ آبادی کے ساتھ۔ اس وقت تیسرے نمبر پر امریکہ، چوتھے پر انڈونیشیا، پھر پاکستان ہے۔ 
پاکستان رقبے میں بھارت کے چوتھے حصے جتنا ہے لیکن آبادی سات گنا کم ہے، یعنی بھارت زیادہ گنجان آباد ہے حالانکہ اس میں بے پناہ علاقہ جنگلات نے گھیر رکھا ہے۔ ایک اور بات کا فرق ہے۔ پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں دو میگا سٹی یعنی کراچی اور لاہور ہیں۔ بھارت میں اس حساب سے 14 میگا سٹی ہونے چاہئیں لیکن صرف چار ہیں، دہلی، ممبئی، کولکتہ اور چنائے (مدراس)۔ دہلی کی آبادی سوا تین، ممبئی کی 2 کروڑ اور کولکتے کی ڈیڑھ کروڑ ہے۔ بھارت کے کئی شہر اتنے بڑے نہیں لیکن اتنے ترقی یافتہ ہیں کہ لاہور، کراچی ان کے سامنے ’’گائوں‘‘ لگتے ہیں مثلاً کرناٹک (میسور) کاشہر ، بنگلور جس کی آبادی پون کروڑ ہے لیکن کمپیوٹر اور آئی ٹی کے حساب سے عالمی درجے کا شہر ہے اور قدرتی ماحول کے حوالے سے بھی بے حد خوبصورت۔ 
___________
اس عرصے میں دنیا کے بہت سے ملک ہیں جن کی آبادی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ روس اور یورپ کے کئی ملک ان میں شامل ہیں۔ برتھ کنٹرول پہلے سرکاری پالیسی تھی، پھر کلچر بن گئی۔ اب یہ ملک آبادی بڑھانے کا سوچ رہے ہیں۔ 
ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ بندش جتنی چاہو کر لو، جس روح نے دنیا میں آنا ہے، آ کر رہے گی۔ چنانچہ لگتا ہے کہ دنیا کے ایک حصے میں شرح پیدائش کم ہوتی ہے تو دوسرے حصے میں بڑھ جاتی ہے۔ جن ملکوں میں آبادی بے تحاشا بڑھ رہی ہے وہ زیادہ تر مسلمان اور افریقی ہیں۔ 
___________
دنیا کی آبادی کتنی بڑھ گئی ہے‘ اندازہ یوں کریں کہ اس وقت یہ آبادی آٹھ ارب کے لگ بھگ ہے اور اب دنیا میں بہت کم خطے ایسے رہ گئے ہیں جہاں مزید آبادی کی گنجائش ہے۔ روس سب سے بڑا ملک ہے‘ لیکن اس کا تین چوتھائی حصہ ایسا ہے کہ آباد ہونے کے قابل ہی نہیں۔ یہی حال بلکہ اس سے بھی برا کینیڈا کا ہے۔ آسٹریلیا پاکستان سے دس بارہ گنا بڑا ہے‘ لیکن ساحلی پٹی کے علاوہ سارے کا سارا رہائش کے ناقابل۔ ساحلی پٹی آسٹریلیا کے جزیرے کی چاروں سمتوں‘ چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ آدھے سے زیادہ افریقہ بھی گرم صحرا ہے اور بہت کم جگہ ایسی ہے جہاں آبادی ہو سکے۔
بظاہر قیامت کے آنے کیلئے درکارمتفقہ علامات ساری کی ساری پوری ہو چکیں‘ چنانچہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب آبادی اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ اس کا بم پھٹے گا‘ پاپولیشن بم۔ پھر شاید وہی وقت ہوگا جب صور پھونک دیا جائے گا۔
کائنات میں زمین جیسے کھربوں نہیں‘ کھربوں ضرب کھرب سیارے ہونگے۔ ہر ایک میں ’’مخلوق‘‘ اسی طرح آباد ہوگی۔ سرکش بھی ہونگے‘ تابعدار بھی‘ ظالم‘ اشرافیہ بھی ہوگی۔ مظلوم ارذالیہ بھی۔ گویا یہ سب کے سب زمین کی طرح ظلم اور دکھ سے بھرے ہونگے۔ زمین کی طرح کے دکھی نیلے گولے۔
_______
پنجاب کے تادم تحریر وزیراعلیٰ پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ وہ نگران وزیراعلیٰ کے طورپر الیکشن کمشن کا مقرر کردہ نام قبول نہیں کریں گے۔
لگتا ہے انہوں نے بھی اپنے قائد عمران خان کی طرح ہر بات ’’انوکھی‘‘ کرنے کی سوچ لی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہ ہو سکے تو یہ فیصلہ کرنا آئین کے مطابق الیکشن کمشن کا اختیارہے۔ کسی اور کا نہیں۔ کسی چھوٹی بڑی عدالت کا بھی نہیں۔ الیکشن جسے نامزد کرے‘ اسے ماننا تو پڑے گا۔ چودھری صاحب سمیت سبھی کو ماننا پڑے گا۔
عمران خان نے غالباً ڈیڑھ دو سو بار یہ اعلان کیا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے‘ وہ نوازشریف کے نامزد کردہ کو ’’چیف‘‘ نہیں مانیں گے‘ لیکن جب نواز شریف کے نامزد کردہ چیف نے ذمہ داری سنبھال لی تو عمران خان نے مانا کہ نہیں؟ ۔ نہ صرف مانا بلکہ اب ان کے حضور درخواستیں اور عرضیاں بھی دائر کر رہے ہیں۔ کبھی ملاقات اور شرف حضوری کی درخواست‘ کبھی الیکشن کروانے (اور جتوانے) کی درخواست۔
چودھری صاحب بھی مانیں گے‘ اعلانات اور انتباہات کی پروا کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ ویسے برسبیل سوال چودھری صاحب سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر الیکشن کمشن مونس الٰہی کو لگا دے تب بھی نہیں مانیں گے؟
__________
قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن راجہ ریاض کی گدی چھیننے کی دوسری کوشش بھی سپیکر نے ناکام بنا دی۔ پی ٹی آئی کے مزید 35 ارکان کے استعفے منظور کر لئے۔ حکومت بظاہر ’’پراعتماد‘‘ نظر آنے کی کوشش کر رہی ہے‘ لیکن اندیشہ ہائے دور و نزدیک منڈلا رہے ہیں۔ اللہ بہتر کرے۔ فوری سوال یہ ہے کہ کیا اب عمران 70 سیٹوں پر اکیلے کھڑے ہونگے یا دوسرے امیدواروں کو بھی موقع دیں گے‘ یا پھر بائیکاٹ کا ارادہ تو نہیں ہے؟
___________

ای پیپر دی نیشن