لَا تَق±نَطُو±ا مِن± رَّح±مَةِ اللہ!

21 اپریل 2011
’ماں جی! ہم اونٹوں کے ’کوہان‘ کیوں ہوتے ہیں؟ اونٹنی کے بچے نے ماں کو متوجہ پاکر پوچھا تو اونٹنی نے بھی بات تفصیل کے ساتھ سمجھانا شروع کی، ’ اس لئے بیٹے! کہ ہم صحرائی جانور ہیں! ہمیں کچھ کھائے پیئے بغیر ہفتوں سفر کرنا ہوتا ہے! لہذا قدرت نے فالتو چربی کی صورت میں ’توانائی کا خزانہ‘ ہماری کمر پر پہلے سے لاد رکھا ہے! سو، ہم ہزاروں سال سے یہ ’خزانہ، کمر پر لادے پھر رہے ہیں!، اونٹنی کی بات ختم ہوتے ہی بچے نے اگلا سوال جڑ دیا، ’ ہماری ٹانگیں لمبی لمبی اور پاﺅں گول گول کیوں ہیں؟، تو ماں نے اپنا منہ اس کے کان کے قریب لاتے ہوئے کہا، ’ بیٹے! یہ لمبی لمبی ٹانگیں اور گول گول پیر ہمیں ریت پر سفر کرنے میں مدد دیتے ہیں اور ریت میں پاﺅں دھنسائے بغیر دور دور تک دیر دیر تک محو سفر رہ پاتے ہیں!، اونٹنی کے بچے نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، ’اور یہ خوبصورت خوبصورت آنکھیں اور ان پر اتنی لمبی لمبی پلکیں کیوں رکھی گئی ہیں؟، ’تو ماں نے کہا! ’بیٹے! یہ لمبی لمبی پلکیں ہمیں اپنی آنکھیں گردوغبار سے محفوظ رکھنے کیلئے دی گئی ہیں تاکہ ہم دور دور تک دیکھ بھی لیں اور اپنی آنکھیں بھی محفوظ رکھ سکیں!، ماں کا جواب سن کر بچہ بلبلا کر پوچھ بیٹھا، ’ماں جی! اتنے زبردست سازوسامان سے آراستہ کرکے ہمیں ”چڑیا گھر‘ میں کیا کرنے کیلئے بھیج دیا گیا ہے؟
بعض اوقات اپنی صلاحیتیں، اپنی توانائیاں اور اپنے امکانات دیکھنے اور محسوس کرنے کا موقع ملے تو اکثر لوگ اسی نوع کے سوالات کے گرداب میں الجھ کر تہ نشین، ہو جاتے ہیں! پوری دنیا جانتی تھی کہ صرف’جنوبی ایشیا‘ کی مسلم آبادی ہی وہ ضروری صلاحیتیں توانائیاں رکھتی ہے، جنہیں مسلم دنیا کے امکانات کا اشاریہ قرار دیا جا سکتا ہے! انہیں سامنے نہیں آنے دیا جانا چاہئے! مگر اس ’آبادی‘ میں اقبالؒ جیسا شاعر پیدا ہو گیا اور پھر قائداعظمؒ جیسا راہنما رونما ہو گیا! منزل مل گئی تو ’امکانات، ’پاکستان کے امکانات، کے نام سے زیر بحث لائے جانے لگے! اور ہمیں دولخت کر دیا گیا! بنگلہ دیش اور پاکستان دونوں ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور مسلم دنیا کی قیادت ایک بار پھر ’پاکستان‘ کی طرف منتقل ہوتے دیکھ کر پاکستان پر، ہر طرف سے دباﺅ بڑھنا شروع ہو گیا! اب جبکہ ہم اس بحرانی کیفیت سے نکل کر سر بلند ہونے والے ہیں، ہمیں ایک بار پھر ’ہدف‘ بنا لیا گیا ہے، ریمنڈ ڈیوس افغانستان میں پاکستان مخالف گروہوں کے سربراہ قرار پائے ہیں! اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کے نگران مقرر کر دیئے گئے ہیں! ایک اطلاع کے مطابق وہ اپنے ’فرائض‘ پوری ’تندہی‘ سے ادا کر رہے ہیں۔
ادھر ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم کے درمیان یہ بات طے پا گئی ہے کہ جناب نواز شریف سرے سے مفاہمت چاہتے ہی نہ تھے اور ’میثاق جمہوریت‘ پر ان کے دستخط تک ’جعلی‘ ہیں! لہذا پاکستان پیپلز پارٹی پر لازم آتا ہے کہ وہ ’بہاولپور‘ ’پوٹھوہار‘ اور ’ہزارہ‘ صوبوں کے قیام کا راستہ ہموار کرے! کراچی میں ’ٹارگٹ کلنگ‘ پر کام جاری رکھنا چاہئے اور قاف لیگ کے ساتھ ملکر حکومت کا کام بھی نمٹا دیا جائے! تاکہ پیپلز پارٹی کے کارکن انتخابات 2013ءمیں کامیابی کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا سکیں اور ہزارہ، پوٹھوہار اور بہاولپور سے زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرکے وہ معاملہ بھی نمٹا دیا جائے، جسے نمٹانے کا ایجنڈا ’وصیت‘ کی شکل میں اچانک ہمارے ہاتھ میں پہنچا دیا گیا تھا!کوئی کام ’سیاسی ارادے‘ کے بغیر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکتا!’صحرائی جہاز‘ ’شپ یارڈ‘ میں نہیں ’چڑیا گھر‘ میں رکھا جاتا ہے اور اسے ’چڑیا گھر‘ میں رکھنے کیلئے اس کی ’ضروریات زندگی‘ اور ’درکار ماحولیات‘ کا خیال رکھنا پڑتا ہے کیونکہ ’صحرائی جہاز‘ ’معدنی ایندھن‘ سے نہیں چلا کرتا!
سو، اب یوں ہے کہ ہمیں ہمارے ’ماحول‘ سے دور اور ہماری ’ضروریات‘ سے الگ تھلگ کرکے ’نمائش‘ کیلئے پیش کرنے کا ’ایجنڈا‘ مکمل ہو چکا ہے! ہمیں ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کا ارتکاب کرنے اور کرتے ہی چلے جانے پر اکسانے اور اکسائے چلے جانے کا کام شروع ہو چکا ہے!دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس ’دام ہم رنگ زمیں‘ میں پاﺅں دھرتے ہیں؟ یا، نہیں؟ دوسرے لفظوں میں اس بحران سے نکلنے کی ذمہ داری بھی پاکستان کے عوام کے کاندھوں پر ڈال دی گئی ہے! اب ہمیں، ہر روز، ’حب وطن‘ کے اظہار کی استطاعت کے مطابق ایک نئی آزمائش سے گزرنا ہوگا! ہر روز ہمارے ’اعصاب‘ کا ایک نیا ’امتحان، لیا جائے گا! اور ہر روز ایک ’نئی خبر‘ ’بریک‘ کی جائے گی! مگر یہ لوگ نہیں جانتے کہ برقیاتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ لوگ نہ صرف گھر گھر پہنچ چکے ہیں بلکہ ہر گھر میں بہت اچھی طرح پہچان لئے گئے ہیں! اب، وہ تمام لوگ جن کی تھوڑی بہت ’عزت‘ باقی رہ گئی ہے! اعلیٰ سفارتی عہدوں پر بیرون ملک روانہ کر دیئے جائیں گے اور ہم ’پارٹی کارکنوں‘ کے درمیان ’خالی پلیٹ لئے‘ گھومنے کیلئے چھوڑے جانے والے ہیں! اگر بھوکے کے بھوکے گھر لوٹ گئے تو ’نااہلوں‘ میں شمار کر لئے جائیں گے اور پیٹ بھر کر گھر لوٹے تو ’کارکنوں‘ میں شمار ہوکر گھر والوں کی نگاہ سے بھی گر جائیں گے!
اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کل ہمارے لئے کیا لا رہا ہے؟ ہم مایوس نہیں کہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا ہم نے سیکھا ہی نہیں اور وہی ہمارا واحد سہارا ہے!