میانوالی میں تین چار دن!

21 اپریل 2011
1975ء میں مجھے گارڈن ٹاﺅن کالج پنڈی سے گورنمنٹ کالج میانوالی بھیجا گیا تو میں خوش ہوا۔ میں تصوف کے ذوق میں کہیں نکلا ہوا تھا۔ یہاں ایک راستہ مل گیا۔ میرے گاﺅں موسیٰ خیل سے چکڑالہ بہت قریب ہے۔ وہاں دل ونگاہ کی کئی بستیوں اور ان دیکھی بستیوں کے مکیں ملک اللہ یار خاں سے ملاقاتوں نے مجھے ایسے ایسے باکمال لوگوں سے ملنے کا موقعہ دیا کہ میں اب تک حیرتوں کی کیفیت سے نکل نہیں سکا۔ جب کبھی حیرتیں حیرانیوں میں بدلتی ہیں تو میں ویرانوں کی تلاش میں اپنے اندر گم ہو جاتا ہوں یہ گمشدگی مجھے کچھ پا لینے کی خوشخبری دیتی ہے اور میں نے یہ راز پایا ہے کہ باخبر ہونا تو کچھ بھی نہیں۔ اصل چیز بے خبری ہے۔ ” جو رہی سو بے خبری رہی“ بہت بڑی نعمت ہے۔ اہل خبر ہونا بڑا مقام ہے صرف ایک نقطے کے اضافے سے اہل خیر بن جاﺅ۔ میڈیا کے اس دور میں ہم اندرونی طور پر کتنے محروم ہیں۔ ہمیں محکوم اور مظلوم بھی بنا دیا گیا ہے۔ میانوالی نے مجھے بہت کچھ دیا ہے۔ میں اسے قریہ¿ غیرت اور خطہ¿ حیرت کہتا ہوں۔ غیرت لابی کا طعنہ دے کر کچھ لوگ بے غیرت کہلوانے میں فخر سمجھتے ہیں۔ میں کم کم میانوالی جاتا ہوں۔ پہلی بار چار پانچ دن رہنے کا موقعہ ملا۔ سب سے پہلے گورنمنٹ کالج گیا۔ میرے گورنمنٹ کالج لاہور کے پرویز نواز یہاں پرنسپل رہ کے آئے۔ تو مجھے بتایا کہ میں نے عظیم استاد اور پرنسپل ڈاکٹر نذیر سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔ تو انہوں نے بے ساختہ کہا.... فوراً چلے جاﺅ وہاں اجمل نیازی بھی ہے۔ پھر یہاں سے جانے کو ان کا جی نہ چاہتا تھا۔ آج کل یہاں پروفیسر ڈاکٹر اشرف خان نیازی پرنسپل ہےں۔ شاید یہ پہلی ملاقات کا کمال تھا کہ انہوں نے بہت پذیرائی کی۔ مجھے مرحوم دوست پروفیسر محمد فیروز شاہ بہت یاد آیا۔ وہ بہت محنتی اور باصلاحیت شاعر ادیب تھا۔ یاد آیا کہ نذیر یاد سے مظہر نیازی کے دکان نما ڈیرے پر ملاقات ہوئی۔ دیر تک ہم میانوالی کے پرانے دنوں کو یاد کرتے رہے۔ کالج میں سات آٹھ پروفیسر تھے مگر ایک مانوس ویرانی کالج میں تھی۔ پروفیسر سرور نیازی سے ملنے تعمیر ملت سکول جا پہنچا۔ شاندار عمارت دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔ میں نے دانش سکول نہیں دیکھے۔ تو یہ لوک دانش سکول کی طرح ہو گا۔ شہباز شریف ہرنولی ضلع میانوالی میں دانش سکول کا افتتاح کرنے آ رہے تھے۔ نہ آئے۔ اگر آئیں تو اس سکول میں ضرور آئیں اور وہ ہسپتال بھی دیکھیں جو حمید اختر خان اور محمود الحسن خان نے مل کر بنوایا ہے۔ جہاں مریضوں کے لئے بڑی سہولتیں اور آسودگیاں ہیں۔ پرائیویٹ سکول اور ہسپتال ہی کیوں اچھے ہوتے ہیں۔ تعمیر ملت سکول میں داخل ہوتے ہی ڈاکٹر ظفر نیازی کی تصویر سے ملاقات ہوتی ہے۔ وہ بھٹو صاحب کا ڈینٹسٹ ڈاکٹر تھا۔ بھٹو صاحب نیازی صاحب سے بہت دوستی رکھتے تھے۔ ممتاز صحافی برادرم محمودالحسن نے بتایا کہ فرانس کے سفارتخانے میں معروف سرجن ڈاکٹر اشرف نیازی گئے تو اپنا تعارف ڈاکٹر نیازی کے طور پر کرایا۔ سفیر خود بھاگا بھاگا آیا اور ڈاکٹر اشرف نیازی سے کہا کہ ڈاکٹر نیازی صرف ایک ہے اور وہ ڈاکٹر ظفر نیازی ہے۔ اپنے قبیلے کے ایک آدمی کی یہ عزت ڈاکٹر اشرف نیازی کو پسند آئی۔ یہ سانجھی عزت ہے جس طرح مولانا نیازی صرف مولانا عبدالستار خان نیازی ہےں۔ آج کل تعمیر ملت سکول کے لئے ڈاکٹر ظفر نیازی کی بیٹی مونا اکبر نیازی اسلام آباد سے آتی جاتی رہتی ہے۔ یہاں پروفیسر سرور نیازی کی موجودگی ایک نعمت ہے۔ میں اس سیلف میڈ اہل اور اہل دل انسان کا قائل ہوں بلکہ گھائل ہوں۔ میٹرک پاس پولیس کانسٹیبل سرور خان نے ایم اے انگریزی تک تمام امتحان پرائیویٹ پاس کئے۔ بے پناہ پڑھا لکھا تہذیب و تاریخ کی باریکیوں اور تاریکیوں سے باخبر انسان ساری عمر سائیکل سواری میں مبتلا اور مست رہا۔ وہ انتہائی خاکسار اور صاحب افتخار آدمی ہے۔ شکر ہے کہ اسے میانوالی کی نسلوں کی تعمیروتشکیل کا موقعہ دیا گیا ہے۔ وہاں لیڈی ٹیچرز زیادہ ہیں۔ اور سب سٹاف ایم اے پاس ہے۔ اردو کی راحیلہ اور ساجدہ مجھے ملنے آئیں۔ سیف اللہ، مہتاب ماجد اور عبدالمجید سے ملاقات ہوئی۔ ٹیچرز کو یہاں پروفیسر کہا جاتا ہے۔
ریڈیو پاکستان میانوالی میں احمد آفتاب نیازی نے میرے ساتھ چند باتیں ریکارڈ کیں۔ وہ میرے گاﺅں موسی خیل سے ہے۔ برادرم مقرب خان نیازی کا ذکر آیا۔ وہ ڈائریکٹر کی حیثیت سے ریڈیو پاکستان سے ریٹائر ہوا ہے اس کی کوششوں سے ریڈیو میانوالی قائم ہوا ہے۔ مولانا کوثر نیازی اور ڈاکٹر شیرافگن نیازی کے ساتھ مقرب خان نے کام کیا اور اپنے ضلع کو یاد رکھا۔ باتوں باتوں میں ڈاکٹر عالیہ قیصر کا ذکر ہوا جو میانوالی سے عورتوں کے لئے ایک رسالہ نکالتی ہیں۔ برادرم محمود الحسن نے ڈاکٹر شیر افگن کو ڈائریکٹر انفارمیشن تنویر خالد کے دفتر میں بلا لیا میں ڈی سی او میانوالی طارق محمود کے دفتر اور ڈسٹرکٹ بار میانوالی سے یہاں آیا تھا۔ تنویر خالد انفارمیشن کا آدمی ہے معلومات کے ساتھ ساتھ محسوسات بھی اس کے دل میں مہکتی رہتی ہیں۔ اس کے بعد ہم ڈاکٹر شیرافگن کے پاس گئے۔ محمود اور ساقی صاحب ساتھ تھے۔ ڈاکٹر صاحب تروتازہ تھے جب کہ وہ ابھی ابھی اسلام آباد سے پہنچے تھے۔ اپنے ریڈیو پروگرام ”وسیب“ میں منفرد شاعر محمود ہاشمی نے مجھے بلا لیا۔ سٹیشن ڈائریکٹر میڈم شہناز اختر اور سجاد سید سے ملاقات ہوئی۔ ظفر خان نیازی اور ستار سید کی بات ہوئی۔ میڈم شہناز کی ایک جینوئن مسئلے میں درخواست سیکرٹری انفارمیشن تیمور عظمت عثمان کے پاس پڑی ہے۔
میں اپنی بڑی بہن مسز عصمت احمد نواز خان کے گھر پہنچا۔ ایک طویل غلط فہمی سے کئی سال تک ناراضگی کا شکار رشتہ داروں کے ساتھ صلح اور مفاہمت کی شام ایک خوشگوار رات میں ڈھل گئی۔ تنگ سڑکوں کے درمیان آتے ہی ایک کھلا صحن استقبال کر رہا تھا۔ میری نواسیاں ماہ نور، حریم اور تعبیر فاطمہ سے میرے نواسے احمد اور عبداللہ کرکٹ کھیلتے رہے۔ سارے جیت گئے ہار کو گلے کا ہار نہ بنانے پر انہیں حکومت پنجاب کم از کم ایک لاکھ تو دے۔ ایک رات ہم نے بیٹی حمدیہ نیازی کے میکے میں گزاری۔ صبح کا اجالا ایک اجلی محبت کی طرح دل میں اتر گیا۔ صحن کے بغیر گھر کا تصور مکمل ہوتا نہیں۔ بڑی کوٹھیوں کے لان اور سادہ گھروں کے صحن میں وہی فرق ہے جو دیسی گھی اور کوکنگ آئل میں ہوتا ہے۔!