بھارت نے آزاد کشمیر‘ سیاچن اور گلگت بلتستان کو نقشے میں آزاد علاقے قرار دیدیا

21 اپریل 2011
لاہور (سپیشل کارسپانڈنٹ) بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور پاکستان کے خلاف ہر محاذ پر اپنی منافقانہ ہٹ دھرمی سے باز آئے نہ آئے البتہ بھارتی وزارت داخلہ نے اپنی ویب سائیٹ پر تیار کردہ اپنے نقشے میں آزاد کشمیر ، سیاچن اور گلگت بلتستان کو بھارتی سکیورٹی اداروں کے کنٹرول سے باہر آزاد علاقے قرار دے دئیے ہیں حالانکہ نئی دہلی نے مسلسل پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے یہ مﺅقف اپنایا ہے کہ یہ علاقے پاکستان اور چین کے غیرقانونی قبضے میں ہیں۔ بھارت کی طرف سے قیام پاکستان سے تاحال حقائق کو مسخ کرنے کے باوجود بھارتی وزارت داخلہ جو بھارت کے ماہر اقتصادیات پی جے چدم برم کی نگرانی میں کام کرتی ہے نے بھارتی پولیس کے وائرلیس کمیونیکشن نیٹ ورک کیلئے تیار کردہ ویب سائیٹ http//www.dcpw.inکو تیار کرتے ہوئے صرف ان ہی علاقوں کو دکھایا ہے جہاں حکومت بھارت کا کنٹرول ہے۔ بھارتی میڈیا اس نقشے پر تحفظات کا اظہار کر رہا ہے کہ شاید یہ نقشہ بھارتی ریاست کے خلاف اس سازش کا حصہ ہو جو امریکی سی آئی اے اپنے بھارتی نقشے میں دکھاتا ہے۔ بھارتی تجزیہ نگار حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں کہ گلگت بلتستان پر پاکستان نے 1948ءمیں قبضہ کیا اور چین نے سیاچن پر 1962ءکی جنگ میں لداخ کی طرف سے قبضہ کیا۔ بھارتی ویب سائیٹ میں نیٹ ورک کے ذریعے 27انٹر سٹیٹ پولیس وائرلیس سٹیشنز کا انتظام کیا گیا ہے۔ پاکستان کے بیشتر ماہر امور دفاع اور عسکری تجزیہ نگاروں نے اس ضمن میں کہا ہے کہ بھارت دراصل حقائق کو تسلیم کرتا ہے مگر انہیں جھٹلایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزارت داخلہ اپنے تیار کردہ نقشے میں حقائق کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئی۔ آزاد اور مقبوضہ کشمیر سمیت گلگت بلتستان اور سیاچن کبھی بھی تاریخی جغرافیائی، ثقافتی، تہذیبی، تمدنی اور مذہبی لحاظ سے بھارت کا حصہ نہیں رہے اور نہ ہی بھارت ان علاقوں پر زور آزمائی کے باوجود قبضہ جما سکتا ہے۔
لاہور (سپیشل کارسپانڈنٹ) ملک کی نظریاتی‘ سیاسی اور مذہبی شخصیات نے بھارتی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر سیاچنگلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو آزاد علاقے قرار دینے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ علاقے حقیقتاً بھارتی ریاست کا حصہ نہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان علاقوں کے عوام نے خود اپنے حق رائے دہی کے ذریعے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعة الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید‘ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد اور تحریک استقلال کے چیئرمین رحمت خان وردگ نے کیا۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ جب بھارتی وزارت دفاع اپنے تیار کردہ نقشے میں اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ یہ علاقے ان میں شامل نہیں تو پھر مقبوضہ کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا۔ عالمی برادری تو پہلے ہی کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرتی ہے۔ بھارت کو چاہئے کہ فوری طور پر کشمیری عوام پر ظلم و ستم بند کرے۔ مقبوضہ کشمیر سے فوجیں واپس بلا کر کشمیریوں کو آزادی کا حق دیا جائے۔ ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سمیت ان تمام علاقوں میں بھارت کے خلاف بغاوت موجود ہے۔ بھارت کس نقطے پر پاکستان اور چین کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ ان تمام علاقوں کو بھارت نے متنازعہ بنا رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان علاقوں کے عوام کو رائے دہی کا حق دینا چاہئے۔ بھارت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے اپنی وزارت داخلہ کے ذریعے ایسے ڈرامے کر رہا ہے۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب بھارتی فوج ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے تو سکیورٹی کے معاملات سے کیسے بری الذمہ قراردیا جا سکتا ہے۔ رحمت خان وردگ نے کہا کہ بھارت اپنی رپورٹس میں چالیں چل رہا ہے۔ تاریخی‘ مذہبی‘ جغرافیائی اور ہر لحاظ سے سیاچنگلگت اور کشمیر پاکستان کا حصہ ہیں یہ پوری قوم کا اصولی موقف ہے جس پر 18 کروڑ پاکستانی قوم قائم ہے۔
علاقے / سیاسی و مذہبی رہنما