پاکستانی قیادت نے افغان حکومت کو تحریری مطالبات‘ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت دے دیئے : افغان ٹی وی کی رپورٹ

21 اپریل 2011
کابل /اسلام آباد(اے این این)وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی کی زیرصدارت پاکستان کے اعلیٰ سطحی سیاسی وعسکری وفد نے اپنے حالیہ دورہ کابل کے دوران افغان قیادت کوبعض تحریری مطالبات اور بلوچستان میں افغانستان کے راستے بھارتی مداخلت کے ثبوت پیش کیے ، کرزئی حکومت کی جانب سے افغان سرزمین پاکستان کےخلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی ، افغان قیادت کی طرف سے پاکستان کے تحفظات کودورکرنے بارے مثبت اشارے ملنے پر ہی مذاکرات آئندہ جاری رکھنے پراتفاق کیا گیا۔ افغان ٹی وی کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاگیاہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اعلیٰ سطحی عسکری وسیاسی وفد کے ہمراہ اپنے حالیہ دورہ کابل کے دوران صدر حامد کرزئی کو تحریری طور پر بعض مطالبات پیش کئے جن میں کہا گیا ہے کہ افغان فورسز کی تعداد و تربیت کے معاملات پر پاکستان سے مشاورت ہونی چاہیے،ملک میں ترقیاتی منصوبے واضح ہونے چاہئیں ۔ مستقبل میں افغانستان کی حکومتوں کو پاکستان کی حکمت عملی پر عملدرآمد کر ناہوگا ، افغان حکومتی اداروں میں پاکستانیوں کو بھی بھرتی کیا جائے ،افغانستان اور مغربی اتحادیوں بشمول امریکہ اور نیٹو کے درمیان کسی بھی قسم کے معاہدے کے بارے میں پاکستان کو بھی آگاہ رکھا جاناچاہیے ۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ کرزئی حکومت نے پاکستان کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبات سرکاری طور پر سامنے نہیں لائے تاہم افغان تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے بعض مطالبات افغانستان کی خودمختاری اور آزادی کے منافی اوراس کے اندرونی معاملات میں واضح مد اخلت کے مترادف ہیں اوران مطالبات پر عجلت میں اٹھایا گیا کوئی بھی قد م بہت بڑی غلطی ہو گی ۔ افغان سیاسی امور کے ماہر نور الحق علومی نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے کبھی بھی افغانستان کے ساتھ دیانت نہیں کی ۔ایک اورتجزیہ کارہارون میرنے کہاکہ بدقسمتی سے کرزئی حکومت نے خفیہ طور پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کئے اور اب وہ طالبان کے ساتھ مفاہمت کےلئے پاکستان کو مزید رعایتیں دینے کی تیاریاں کر رہی ہے جو بہت بڑی غلطی ہو گی۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی طرف سے پیش کئے گئے مطالبات عوام اور منتخب ایوان کے سامنے لائیں۔ دوسری جانب نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت افغان قیادت کو بلوچستان کے اندر بھارتی مداخلت کے ثبوت بھی فراہم کئے گئے اور یہ بھی واضح کیا کہ بلوچستان میں ہونے والی بھارتی مداخلت کےلئے افغان سرزمین کو استعمال کیا جارہا ہے یہ تمام معاملات ثبوت کے ساتھ افغان قیادت کے سامنے رکھے گئے اور قیادت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں پاکستان کی مدد کرے اور پاکستان میں ہونے والی بیرونی مداخلت کو روکنے کےلئے کردار ادا کرے۔ اس موقع پر افغان قیادت نے پاکستانی حکومت کو یقین دلایا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کےخلاف کسی بھی صورت میں استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستانی قیادت نے افغان قیادت سے کہا کہ کچھ ایسے باغی گروپ جو کابل میں بنائے گئے ہیں اور انہیں مختلف ذرائع سے بھاری مدد فراہم کی جارہی ہے اسے بھی روکا جائے ۔
افغان ٹی وی