پنجاب بینک سکینڈل....9 نہیں 77 ارب کا فراڈ ہوا‘ تحقیقاتی رپورٹ پیش....ملک میں کیا ہو رہا ہے‘ کھاتہ دار کہاں جائیں گے : رپورٹ عام کی جائے : جسٹس افتخار

21 اپریل 2011
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + ریڈیو نیوز / وقت نیوز) بنک آف پنجاب قرضہ فراڈ کیس کی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی ہے جس کے مطابق بنک دراصل 9 ارب کا نہیں بلکہ 77 ارب کا فراڈ کیا گیا ہے‘ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی پھالیہ شوگر مل کے لئے ساڑھے پانچ ارب روپے کا قرضہ لیا گیا جو مل میں استعمال کرنے کے بجائے اس سے جائیداد خرید لی گئی‘ دوران سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے اس طرح تو کوئی بنک بھی قائم نہیں رہے گا‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی تو ایڈیشل آئی جی پنجاب آفتاب سلطان نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی‘ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سابق چیف سیکرٹری پنجاب چھٹی لے کر وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کی کمپنی میں کام کرتے رہے اور بعدازاں انہیں ہی بنک آف پنجاب کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین لگا دیا گیا۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اپنی فرضی کمپنی قائم کر کے 6 ارب روپے کے قرضے حاصل کر لئے‘ سب سے بڑا فراڈ 2005ءسے 2007ءکے درمیان ہوا قرضے دے کر معاف کئے جاتے رہے اور دیئے گئے قرضوں پر سرمایہ کاری اور منافع ظاہر کر کے باقاعدہ انکم ٹیکس کی ادائیگی کی جاتی رہی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر کھاتے دار کہاں جائیںگے‘ جسٹس ثائر علی نے کہا کہ آخر اتنا بڑا فراڈ ہونے کے باوجود بنک قائم کس طرح رہا ‘ چیف جسٹس نے کہا کہ سکینڈل کے حوالے سے یہ رپورٹ قواعد کے تحت عام کی جائے تاکہ عوام بھی حقائق سے آگاہ ہوں‘ چیف جسٹس نے ایڈیشنل آئی جی آفتاب سلطان کی تعریف کی۔ عدالت نے نیب کو ہدایت کی کہ سکینڈل میں ملوث لوگوں کے خلاف مزید شواہد اکٹھے کئے جائیں اور کارروائی کی جائے جبکہ ملوث حارث سٹیل مل کے مالکان کو ہدایت کی کہ وہ جائیداد کی نیلامی کے لئے نیب سے تعاون کریں‘ مقدمہ کی مزید سماعت 3 ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 9.8 ارب روپے کا مقروض ہونے کے باوجود بنک کو منافع بخش دکھایا گیا۔ بنک میں صرف حارث ملز نہیں دیگر معاملات بھی موجود ہیں‘ منافع ظاہر کر کے انعام و اعزاز لئے گئے‘ ہمیش خان نے کہا کہ اعداد و شمار غلط ہوں تو ذمہ داری تمام بورڈ ارکان پر ہے‘ ہمیش خان نے 9 کروڑ روپے کا بونس لیا۔ آن لائن کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب بنک فراڈ نے کرپشن کی انتہا کر دی‘ روش بدلنا ہو گی۔
پنجاب بنک کیس

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...