سینٹ قائمہ کمیٹی نے غیر ملکیوں کو اسلحہ لائسنس جاری کرنے کے معاملہ کی تفصیلات طلب کر لیں

21 اپریل 2011
اسلام آباد (اے پی پی) سینٹ کی مجلس قائمہ برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی نے وزارت داخلہ سے غیر ملکیوں کو اسلحہ لائسنس جاری کرنے ، 2008ءسے اب تک ارکان پارلیمان کو جاری کئے جانے والے ممنوعہ اور غیرممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنسوں، 64 لاکھ 85 ہزار روپے خزانہ میں جمع نہ کرائے جانے، اسلحہ لائسنس کے فراڈ میں ملوث تین سیکشن افسروں کے خلاف کارروائی، ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد اسلحہ لائسنسوں کے اجرا اور امریکی سفیر کے خط پر 138 اسلحہ لائسنس جاری کرنے کے معاملہ کی تفصیلات طلب کر لی ہیں جبکہ پاسپورٹس کے اجرا میں تاخیر کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ عوام کو پریشان کرنے کے بجائے مقررہ مدت کے اندر پاسپورٹ جاری کئے جائیں۔ کمیٹی نے سےکرٹری داخلہ چودھری قمرالزمان کی مسلسل غیر حاضری پر پہلے چےئرمےن سےنٹ اور اصلاح نہ ہونے پر پھر وزےراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو نادرا ہیڈ کوارٹرز میں کنوینئر سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سینیٹر طاہر حسین مشہدی، سینیٹر نجمہ حمید اور سینیٹر صغریٰ امام کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ شاہد حامد، جوائنٹ سیکرٹری شبیر احمد، چیئرمین نادرا علی ارشد حکیم، ڈپٹی چیئرمین طارق ملک اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ کمیٹی نے غےر ملکےوں کو پاکستانی شناختی کارڈز اور پاسپورٹس کے اجرا مےں تاخےر کا سخت نوٹس لےتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی جبکہ وزارت داخلہ کی طرف سے کمےٹی کو بتاےا گےا کہ اسلحہ لائسنسوں کے اجرا پر عائد پابندی اٹھا لی گئی ہے اور اب غےر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس صوبے بھی جاری کر سکےں گے تاہم صوبوں نے اس امر سے اتفاق کیا ہے کہ ممنوعہ بور کا اسلحہ لائسنس وفاقی وزارت داخلہ ہی جاری کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کمےٹی کو نادرا کی طرف سے کمپےوٹرائزڈ اسلحہ لائسنسوں کی تےاری کے حوالے سے تفصےلی برےفنگ دےتے ہوئے بتاےا گےا کہ نادرا کو گذشتہ پانچ ماہ سے اسلحہ لائسنسوں کی تےاری کے لئے 9197 کےس دئےے گئے ان مےں سے اب تک 9049 درخواستوں پر کارروائی کرتے ہوئے 6339 لائسنس تےار کر لئے گئے ہےں جبکہ 157 درخواستےں مسترد کی گئی ہےں۔
سینٹ کمیٹی

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...