ججز تقرر ....نظرثانی کی حکومتی درخواستیں مسترد‘ پارلیمانی کمیٹی آئین سے بالاتر نہیں‘ چھ ججوں کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے : سپریم کورٹ

21 اپریل 2011
اسلام آباد (نیٹ نیوز + بی بی سی + مانیٹرنگ نیوز + ایجنسیاں) سپریم کورٹ کے چار رکنی بنچ نے لاہور اور سندھ ہائی کورٹس کے چھ ایڈیشنل ججوں کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی طرف سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے حکم دیا ان چھ ججز کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے ۔ ان ججز میں لاہور ہائی کورٹ کے چار اور سندھ ہائیکورٹ کے دو ججز شامل ہیں۔ ان میں یاور علی خان‘ فرخ عرفان خان‘ مامون رشید شیخ‘ مظاہر علی اکبر‘ محمد تسلیم اور سلمان حامد شامل ہیں۔ عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ عدالتی فیصلے سے نہ ہی پارلیمانی کمیٹی کی حیثیت ختم ہو گی اور نہ ہی کمیٹی کا اختیار ختم ہو گا۔ عدالت نے ان چھ ججز کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے پر وفاقی سیکرٹری برائے وزارت قانون کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ایک ہفتے تک کے لئے ملتوی کر دی۔ جسٹس محمود اختر شاہد صدیقی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بنچ نے نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ اعلی عدالتوں میں ججز کی تقرری کے لئے بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ جوڈیشل کمشن کی طرف سے بھیجے جانے والے نام مسترد کر دے۔ ان چھ ایڈیشنل ججز کی سفارشات کو مسترد کئے جانے سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے وجوہات بھی بیان کی تھیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس میں کہا کہ ان ججز سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی وجوہات کو سپریم کورٹ پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم میں اعلی عدالتوں میں ججز کی تعیناتی سے متعلق سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں یہ قرار دے چکی ہے کہ جوڈیشل کمشن کی سفارشات مسترد کئے جانے کی صورت میں آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کو ٹھوس وجوہات دینا ہوں گی جس سے متعلق فیصلہ سپریم کورٹ کو ہی کرنا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون ساز ادارہ ہے اور ان کے ارکان کے فیصلے کو کسی طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آٹھ رکنی کمیٹی کو کسی طور پر پارلیمنٹ نہیں کہا جا سکتا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کمیٹی کے ارکان کسی کو جواب دہ نہیں۔ جسٹس طارق پرویز نے کہا کہ آئین میں متوازی ادارے بنانے کی گنجائش نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج یاور علی خان کے وکیل اور سابق اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ چاہتی ہے کہ ان کی طرف سے کی جانے والی قانون سازی کو پارلیمنٹ میں چیلنج نہ کیا جائے تو پھر انہیں اس حوالے سے نئی قانون سازی کرنا ہوگی جس طرح سابق صدر پرویز مشرف نے آئین میں کی تھی اگر پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے تو سپریم کورٹ کو اس قانون پر نظرثانی کا اختیار بھی ہے۔ جسٹس جواد خواجہ نے ریمارکس میں کہا کہ آئین میں متوازی ادارے بنانے کی گنجائش نہیں۔ 8 ارکان پارلیمنٹ کی کمیٹی کسی صورت آئین سے بالاتر نہیں۔ جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی رپورٹ پارلیمنٹ کو جاتی ہے۔ وزیراعظم کے ماتحت قومی اقتصادی کونسل پارلیمنٹ کو جوابدے ہے۔درخواست گزار کے وکیل مخدوم علی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ججز تقرر کی پارلیمانی کمیٹی آئین سے ماورا نہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پارلیمانی کمیٹی غیر موثر نہیں ہوئی۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مخدوم علی خان نے کہا ہے کہ عدالت آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرے۔