مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اختلافات شدت اختیار کر گئے‘ اسحاق ڈار 18 ویں ترمیم عملدرآمد کمشن کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدہ سے مستعفی

21 اپریل 2011
اسلام آباد (ریڈیو مانیٹرنگ، ایجنسیاں) مسلم لیگ ( ن ) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور مسلم لیگ ( ن ) کے سینٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر اسحاق ڈار نے عملدرآمد کمشن کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے نام لکھے گئے پانچ صفحات پر مشتمل خط میں اسحاق ڈار نے استعفے کی تمام وجوہات سے آگاہ کر دیا ہے۔ اسحاق ڈار نے پانچ صفحات پر مشتمل استعفیٰ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ارسال کیا جس میں کہا گیا ہے کہ عملدرآمد کمشن 18ویں اور 19ویں ترمیم پر پوری طرح عملدرآمد کرانے میں ناکام رہا۔ استعفے میں صوبوں کو منتقل ہونے والی وزارتوں کے ملازمین کا معاملہ اٹھایا گیا ہے جس میں 19 اپریل سے قبل پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر ان ملازمین کو ملازمتوں میں کھپانے کے لئے پالیسی وضع کرنا تھی لیکن ابھی تک اجلاس نہیں بلایا گیا۔ کمشن میں ہائر ایجوکیشن کمشن کی تحلیل سے متعلق بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور م¶قف اپنایا گیا ہے کہ طے ہوا تھا کہ ایچ ای سی کی تحلیل سے قبل معیاری ایجوکیشن کمشن بنایا جائے گا جس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ کمشن نے فیصلوں پر آئینی ترامیم کے تحت عملدرآمد کرانا تھا جو نہیں ہو رہا۔ ان حالات میں مسلم لیگ ( ن ) کے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچتا کہ وہ کمشن سے علیحدہ ہو جائے لہٰذا وہ اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھجوا رہے ہیں‘ اسحاق ڈار کا استعفیٰ وزیراعظم ہا¶س کو موصول ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ( ن ) نے ایچ ای سی کی صوبوں کو منتقلی پر شدید اعتراض کیا ہے۔ طے ہوا تھا کہ کمشن کے فیصلے اتفاق رائے سے ہوں گے مگر ایسا نہیں ہوا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ و چیئرمین پارلیمانی عملدرآمد کمشن سینیٹر میاں رضا ربانی نے اسحاق ڈار کو استعفیٰ واپس لینے کے بارے میں قائل کر نے کی کوشش کی مگر انہیں آمادہ نہ کیا جا سکا۔ حکومتی کوششیں سود مند ثابت نہ ہو سکیں۔ رضا ربانی نے اسحاق ڈار پر زور دیا کہ اختیارات کی منتقلی کے عمل کے پیش نظر استعفیٰ واپس لیا جائے جس پر انہوں نے استعفیٰ واپس لینے سے معذرت کر لی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ( ن ) کے رہنما کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ان کے تحفظات کے بارے میں وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ طے شدہ فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے اور وہ کمشن میں مزید کام نہیں کر سکتے۔
اسحاق ڈار