مشرف کی جماعت کو قاتل لیگ کہتے تھے‘ موجودہ (ق) لیگ نئی پارٹی ہے : فردوس عاشق کی وضاحت

21 اپریل 2011
اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + وقت نیوز + ریڈیو نیوز) وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کا قتل کیس ری اوپن کرنے کے لئے صدارتی ریفرنس میں 5 قانونی سوالات اٹھانے کی منظوری دے دی ہے جو آج سابق وفاقی وزیر قانون و انصاف و پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش کریں گے۔ اس بات کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کا ایک نکاتی ایجنڈا تھا جس کے مطابق وزیراعظم نے بھٹو کیس کے بارے میں وفاقی کابینہ کو اعتماد میں لیا۔ سابق وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان اور ان کی ٹیم نے کابینہ کے اجلاس میں خصوصی دعوت پر شرکت کی اور ریفرنس میں اٹھائے جانے والے 5 سوالات کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں صدر کی جانب سے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کیس پر نظرثانی کے لئے سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت دائر کئے گئے ریفرنس کے متعلق قانونی سوالات پر غور کیا گیا۔ ڈاکٹر بابر اعوان جو صدر اور ذوالفقار علی بھٹو کیس میں وکیل ہیں نے ریفرنس کے آئینی و قانونی پہلو¶ں کے علاوہ سپریم کورٹ میں ریفرنس کی سماعت کے بارے میں وفاقی کابینہ کے ارکان کو بتایا۔ انہوں نے وفاقی کابینہ کو بتایا کہ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت تسلی بخش طریقے سے جاری ہے۔ بابر اعوان نے بتایا کہ ریفرنس دائر کرنے کا مقصد قانونی تاریخ میں فیصلے کے سقم دور کرنا ہے کیونکہ پاکستان کے آئین کے خالق اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے چیئرمین کا عدالتی قتل ہوا ہے۔ بابر اعوان نے کابینہ کو بھٹو کیس کی بین الاقوامی اہمیت اور اس نوعیت کے انتہائی اہمیت کے حامل کیسز کی تاریخ بتائی۔ وفاق وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے اختتام پر پریس بریفنگ دی۔ اس موقع پر وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے سیکرٹری تیمور عظمت سلطان اور قائم مقام پی آئی او محمد سلیم بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ہماری سیاسی تاریخ میں ایٹمی پروگرام اور آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کا قتل سیاہ باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ عدالت عظمیٰ ذوالفقار علی بھٹو کیس میں اٹھائے گئے سوالات پر فیصلہ کرے گی‘ ہم سیاست سے بالاتر ہو کر کیس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی زیادتیوں کا ازالہ عدالت کرے تاکہ ہم نے آزاد و خود مختار عدلیہ کا جو خواب دیکھا ہے وہ حقیقت کا روپ دھار سکے‘ ہم نے اسی مقصد کے تحت عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے محترمہ بےنظیر بھٹو کے ویژن کے تحت قومی مفاہمت کی بات کی ہے‘ ہم مصالحت اور مشاورت کی سیاست کی طرف جانا چاہتے ہیں تصادم کی سیاست سے نکلنا چاہتے ہیں‘ ایک طرف دہشت گردی‘ ڈرون حملوں اور اقتصادی بحران سے ملک کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تمام سیاسی قوتوں کا تعاون چاہئے‘ آج کا حریف کل کا حلیف ہو سکتا ہے‘ سیاست میں حلیف اور حریف تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس 22 کی بجائے 29 اپریل تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘ پارلیمانی مصروفیات کو پیش نظر رکھ کر سعودی عرب کے دورے کو حتمی شکل دی جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو عالمی سطح کے لیڈر تھے‘ انہوں نے امت مسلمہ کو متحرک کیا‘ ان کے ساتھ ہونے والی عدالتی زیادتی کو بھی عالمی سطح پر اٹھایا جا رہا ہے۔ کابینہ نے نئے سیاسی مذاکرات کی بھی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفاہمت کی پالیسی بینظیر بھٹوکا ویژن ہے۔ قومی حکومت سے متعلق واضح نقشہ سامنے نہیں آیا تاہم قومی حکومت کی تشکیل پر تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہیں۔ پاکستان مشکلات کا شکارہے امریکی ڈرون حملوں پر تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پرکہا کہ ق لیگ کو کل بھی قاتل لیگ کہا تھا اور آج بھی کہتے ہیں مگر یہ وہ ق لیگ نہیں جسے مشرف چلا رہے تھے جس پارٹی سے ہم بات چیت کررہے ہیں یہ نئی پارٹی ہے۔ اس پارٹی کا پرویز مشرف سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مائیک مولن کے دورہ سے دوطرفہ سٹریٹجک تعاون کو فروغ حاصل ہو گا۔
وفاقی کابینہ