ڈرون حملوں‘ مہنگائی کیخلاف‘ مسلم لیگ (ن) کا قومی اسمبلی میں شدید احتجاج‘ کارروائی معطل‘ نیا ”این آر او“ نامنظور ”زرداری راج ختم کرو“ کے نعرے

21 اپریل 2011
اسلام آباد (لیڈی رپورٹر + ریڈیو نیوز + وقت نیوز + ایجنسیاں) مسلم لیگ ( ن ) نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں گذشتہ روز ڈرون حملوںمہنگائی ‘ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شدید احتجاج کیا اور ڈرون حملے نامنظورنیا این آر او نامنظور ‘ زرداری راج ختم کرو‘ جھوٹے وعدے بند کرو‘ لوٹ مار ختم کرو‘ پارلیمنٹ کو آزاد کرو‘ امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کے زبردست نعرے لگائے اور احتجاجاً ایوان سے واک آ¶ٹ کر گئے۔ شدید ہنگامہ آرائی اور نعروں کی وجہ سے ایوان کی کارروائی معطل ہو کر رہ گئی اور ارکان کی نعرے بازی پر آپس میں جھڑپ بھی ہوئی۔ وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے قائد حزب اختلاف کے نکتہ اعتراض کا جواب دینے کی کوشش کی تو مسلم لیگ ( ن ) کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور شدید نعرے بازی کرتے ہوئے وفاقی وزیر کو بولنے کا موقع نہیں دیا‘ ارکان ڈیسک بجاتے رہے‘ ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا۔ پیپلز پارٹی کے ارکان جواب میں جئے بھٹو کے نعرے لگاتے رہے۔ قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری دور حکومت میں ایک اور بدترین این آر او معرض وجود میں آ رہا ہے‘ ڈکٹیٹر کے دور حکومت میں بھی این آر او ایک شخص کو بچانے کے لئے لایا گیا تھا اب بھی صورتحال یہی ہے۔ میں نے ایوان میں یہ نہیں کہا تھا کہ ڈی جی آئی ا یس آئی وزیراعظم کی مرضی سے گئے ہیں‘ یہ تو طے شدہ بات ہے میں نے کہا تھا وہ کیا ایجنڈا لے کر گئے ہیں‘ وزیراعظم کا جواب تسلی بخش نہیں ہے۔ ڈرون حملوں سمیت تمام اہم ملکی سلامتی کے معاملات پر حکومت خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ وزیراعظم ایوان میں ہدایات دیتے رہتے ہیں کہ تمام ادارے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں اور قوم کو بے وقوف بنانا چھوڑ دیں‘ حکومتی تقاریر ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہیں جس میں وزیراعظم سمیت وزرا نے قوم سے کئی وعدے کئے لیکن آج تک وہ وعدے وفا نہیں ہوئے۔ پارلیمنٹ کو احتساب کرنا چاہئے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ایوان کو آزاد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو دوام چاہئے تو اسے عوامی مسائل حل کرنا ہوں گے‘ ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرنے کی وجہ بتانی ہو گی۔ ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کر کر کے تھک چکے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی اور ملکی وقار اور عزت کو دا¶ پر لگایا ہوا ہے۔ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ان کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں‘ آج تک ایوان کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ڈرون حملے روکنے کے لئے ارکان پارلیمنٹ فاٹا جا کر مشترکہ دھرنا دیں‘ ہم اپنا دفاع نہیں کر سکتے تو پھر یہاں کیوں بیٹھے ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور خورشید شاہ نے کہا رات کے اندھیرے میں جرنیلوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں‘ اس قسم کی نعرے بازی تب ہوتی تھی جب آمر بیٹھا تھا۔ خود شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر مت ماریں‘ عوام اندھے نہیں ہیں کہ انہیں پتہ نہ ہو کہ پنجاب ہا¶س کا خرچہ کہاں سے ہوتا ہے۔ جرنیلوں کو ہر کام میں ملوث ہونے کی دعوت دی جاتی ہے۔ رات کے اندھیروں میں جرنیلوں سے ملاقاتیں کرنے والے دن کو پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہیں۔ صدر کے خلاف نعرے لگانا ٹھیک نہیں‘ یہ زبان برداشت نہیں کریں گے۔ مسلم لیگ ( ن ) کابینہ میں تھی تو ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا۔ رکن اسمبلی عابد شیر علی نے کہا کہ ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو امن و امان کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہو جائے گی۔ وزیر پانی و بجلی سید نوید قمر نے کہا کہ ایل این جی منصوبہ ملکی مفاد میں ہے‘ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے ملکی معیشت پر اضافی بوجھ پڑا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں بدھ کو بھی نیب کے مقدمات میں ملوث افراد کے ناموں اور ان پر الزامات کی تفصیلات پیش نہ کی جا سکیں۔ اجلاس 45 منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ میاں منظور وٹو نے کہا کہ پاکستان کی اسلحہ ساز فیکٹریاں مشرق وسطیٰ کے ممالک میں مشہور ہیں۔ وزیر دفاع چودھری احمد محتار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی آئی ا ے کی گلاسکو کے لئے 2 پروازیں نقصان کی وجہ سے بند کر دی گئی ہیں۔ نوید قمر نے بتایا کہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں گیس لوڈ شیڈنگ شیڈول پر نظرثانی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ علاوہ ازیں نثار علی خان سے خورشید شاہ نے اجلاس کے دوران ملاقات کی اور ملک کی سیاسی صورتحال اور ایوان کے اندر سازگار فضا سے متعلق اظہار خیال کیا۔ وزیراعظم گیلانی نے مخدوم جاوید ہاشمی سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ این این آئی کے مطابق خورشید شاہ کی جذباتی تقریر پر مسلم لیگ ( ن ) کو واک آ¶ٹ ختم کرنا پڑا اور ارکان واپس ایوان میں آ گئے۔