شام کے صدربشارالاسد نے عوام کے شدید احتجاج کے بعد ایمرجنسی ختم کرکے بنیادی انسانی حقوق بحال کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیئے۔

21 اپریل 2011 (15:12)
شام کے صدربشارالاسد نے دو تین روز پہلے ملک میں اڑتالیس سال سے نافذ ایمرجنسی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا یوں انہوں نے مظاہرین کا بڑا مطالبہ تسلیم کرلیا ہے تاہم اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک بشارالاسد شام کے صدر ہیں ایسے اقدامات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب تک دو سو سے زائد افراد کو مظاہروں کے دوران گولی ماری جا چکی ہے جبکہ سینکڑوں افراد سکیورٹی فورسز کے تشدد کا شکار ہیں۔ صدر بشارالاسد کی جانب سے ایمرجنسی اٹھانےکے حکم نامے پر دستخط کے بعد ملک بھر میں فوجی عدالتیں ختم کردی گئی ہیں۔ سرکاری ٹی کے مطابق اب مظاہرین پر گولیاں بھی نہیں برسائی جائیں گی۔