نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام الحراء ہال میں شاعرمشرق کے تہترویں یوم وفات کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا

21 اپریل 2011 (15:07)
الحمراء ہال لاہور میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرمجلس قاضی حسین احمد نے کہا کہ ہم نے اقبال کا فلسفہ خودی بھلا دیا ہے۔ انہوں نے شاعری کو امت مسلمہ کے اتحاد اور قران و سنت کا پیغام پھیلانے کے لئے استعمال کیا۔ سابق امیر جماعت اسلامی نے امریکہ سے دوستی کو خطرناک قرار دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نوائے وقت گروپ کے ایڈیٹر انچیف مجید نظامی نے کہا کہ علامہ اقبال نے دو قومی نظریہ اور وہ شخص ہم کو دیا جس نے پاکستان بنا کر علامہ اقبال کے خوابوں کو تعبیر دے دی۔
سیمینار سے اپنے خطاب میں سینیٹر ایس ایم ظفرنے کہا کہ علامہ اقبال کے خواب ابھی تک ادھورے ہیں کیونکہ جغرافیائی حدود سے قوم نہیں بنتی بلکہ ایک قوم جغرافیائی حدود بناتی ہے۔
اپنے خطاب میں رکن قومی اسمبلی تہمینہ دولتانہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ہی علامہ اقبال کے خواب اور خواہشات کو عملی جامہ پہنائے گی۔
اس موقع پر علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال نے علامہ صاحب کے آخری دن کی روداد سناتے ہوئے بتایا کہ علامہ اقبال اکیس اپریل کی صبح پانچ بج کر چودہ منٹ پراپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
ممتاز دانشور عطا الحق قاسمی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ علامہ محمد اقبال بین الاقوامی شخصیت کے حامل ہیں جنہیں ملا اور مسٹر دونوں جانتے ہیں۔
تقریب میں مشہور نعت خواں مرغوب ہمدانی، اختر قریشی اور سرور حسین نقشبندی نے کلام اقبال پیش کیا
سیمینارسے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکررانا مشہود احمد خان، علامہ احمد علی قصوری، مواحد حسین سید، نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد خان اور زید حامد نے بھی خطاب کیا۔