پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے امریکی افواج کے سربراہ ایڈمریل مائیک مولن نے کہا ہے ڈرون حملے بند نہیں کئے جاسکتے تاہم پاکستان اور امریکہ اس کا لائحہ عمل خود طے کریں گے۔

21 اپریل 2011 (14:50)
سن دوہزارچار سے شروع ہونے والے ڈرون حملوں میں ہر آنے والے دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔ جنرل مشرف کے آمرانہ دور حکومت میں امریکہ اور اتحادی افواج کو سرزمین پاکستان پرحملوں کی اجازت دی گئی اوراس کے بعد سے اب تک دوسو چونتیس ڈرون حملے کئے گئے ہیں۔ جن میں محتاط اندازے کے مطابق بائیس سوشہری شہید ہوئے ہیں۔ ڈرون حملوں کے بارے میں پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی امتیازصفدر وڑائچ کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کا مطالبہ ہے امریکہ ڈرون ٹیکنالوجی پاکستان کے حوالے کرے
مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما خواجہ آصف کا کہنا ھے کہ ڈرون حملے پاکستانی خود مختاری پر کھلا حملہ ہیں، پاکستان کے پاس ڈرونز کو گرانے کی صلاحیت موجود ھے، اسے استعمال کرنے کا آپشن رکھنا چاہیے۔
ایم کیوایم کے رہنما وسیم اخترکا کہنا تھا کہ متواترڈرون حملے ھونا موجودہ حکومت کی ناکامی جبکہ کمزور خارجہ پالیسی کا نتیجہ ھے
فاٹا سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر حمید اللہ جان آفریدی کا کہنا تھا کہ ڈرونز حملوں میں حکومت کا کوئی کردار نہیں، حملے رکوانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر بیٹھنا ھوگا
مسلم لیگ کے رہنما اور مشرف دورحکومت میں وفاقی وزیر رہنے والے اویس خان لغاری کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کی ضرورت ہے تو
یہ کام پاکستانی افواج خود کریں
مشرف کے آمرانہ دور کے بعد جمہوری حکومت بھی اپنے تین سال مکمل کرچکی ھے لیکن ڈرون حملے روکنے کے بارے میں کسی قراداد پر عمل نہیں ہوسکا۔