بھٹو ریفرنس کیس، عدالت عظمی کا دومئی سے ریفرنس کی سماعت کا فیصلہ ۔

21 اپریل 2011 (04:28)
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس سائرعلی اورجسٹس غلام ربانی پرمشتمل تین رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کی ۔ حکومتی وکیل ڈاکٹر بابراعون نے عدالت کے سامنے صدارتی ریفرنس سے متعلق پانچ قانونی سوال پیش کیے جن میں نکات اٹھائیں گئے ہیں کہ کیا بھٹو کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا میں آرٹیکل چار، آٹھ، نو اور دس اے کے مطابق انسانی حقوق کا خیال رکھا گیا؟ کیا ادارے اس سزا پرعمل درآمد کے پابند تھے۔ حالات و واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ فیصلہ تعصب پر منبی تھا ۔ اس تناظر میں کیا یہ قتل عمد نہیں تھا؟ سوالات میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا قرآن و سنت کی روشنی میں ذوالفقارعلی بھٹو کیس اسلامی قوانین کے مطابق پورا اترتا ہے اورکیا بھٹو کیس میں جن شواہد کا ہونا ضروری تھا وہ فراہم کیے گئے تھے؟ اورکیا صرف وعدہ معاف گواہ کے بیان پر پھانسی کی سزا دی جا سکتی ہے؟ صدارتی ریفرنس میں اٹھائے گئے پانچ سوالات کے بعد ریفرنس کی اہمیت کو مدنظررکھتے ہوئے عدالت نے دس سنیئروکلا کو عدالتی معاون مقررکیا ہے جن میں عبدالحفیظ پیر زادہ ، اعتزاز احسن ، ایس ایم ظفر، طارق محمود، علی احمد کرد، خالد انور، بیرسٹر ظہور الحق ، لطیف آفریدی، مخدوم علی خان اور نور الحسن شامل ہیں۔ عدالت کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل بھی عدالتی معاونت کریں گے جبکہ دو مئی سے سپریم کورٹ کا لارجر بینچ روزانہ کی بنیاد پر ریفرنس کی سماعت کرے گا۔