پاکستان کا نظریہ بطور اسلامی مملکت

21 اپریل 2011
ڈاکٹر ایم اے صوفی
علامہ اقبال نے تصور پاکستان پیش کیا اور قائداعظم محمد علی جناحؒ نے طویل جدوجہد کے ذریعہ مسلمانوں کی جدا ریاست قائم کرکے ہندوستان بلکہ دنیائے عالم کے مسلمانوں کی رہنمائی کرنے کا حق ادا کر دیا۔ کچھ علماءاور نیشنلسٹ مسلمان، مسلمانوں کی جدا ریاست پاکستان کے حق میں نہ تھے۔ ان کا خیال یوں تھا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ بیرسٹر، یورپین لباس میں ملبوس ہے۔ طرز زندگی اسی طرز پر ہے اور وہ ہندوستان کی تقسیم کے حق میں نہ تھے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا نظریہ صاف تھا کہ ہندو اور مسلمان دو جدا مذاہب ہیں دونوں کے اطوار، طریقہ زندگی، تمدنی افکار جدا ہیں۔ مسلمان اور ہندو جدا قومیں ہیں لہٰذا یہ تب ہی ہو سکتا ہے کہ جدا وطن حاصل ہو اور تقسیم ہند ضروری امر ہے۔ لہٰذا 14 اگست 1947 کو جدا وطن حاصل ہوا۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ نے عید الفطر کے موقع پر 1948ءمیں کراچی میں واضح کر دیا تھا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور ہماری ہر طرح رہنمائی کرتا ہے۔ اس طرح نبی کریم کے یوم ولادت عید میلاد النبی کے موقع پر 25 جنوری 1948ءمیں قائداعظمؒ نے لوگوں کے خیالات کو غلط قرار دیا کہ پاکستان کا آئین کیا ہو گا؟
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کچھ لوگ زور دیتے ہیں کہ مستقبل میں پاکستان کا آئین شریعت کی بنا پر ہو، وجہ یہ ہے کہ کچھ شرپسند ہیں کہ ہم شریعت کو آئین سے ہٹا دیں گے۔ آپ اس روز سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبران کو میلادالنبی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے یہ کیوں خیال پیدا کیا گیا کہ ہم آئین پاکستان میں شریعت کو نہیں اپنائیں گے۔ یہ بدخیالی کیوں پیدا کی گئی؟ آپ نے زور دے کر کہا ”اسلامی اصولوں کا مقابلہ کسی آئین سے نہیں ہے، آج بھی وہ اسی طرح ہماری زندگی کے لےے ضروری نہیں جس طرح 1400 سال پہلے تھے۔
مصور پاکستان علامہ اقبال خود مغربی معاشرے میں تعلیم حاصل کرتے رہے لیکن اپنے آپ کو اس معاشرے میں ڈھلنے نہیں دیا۔
”حضور نبی کریم سے محبت کا اظہار دیکھئے لنکن ان میں داخلہ کی وجہ بتائی۔ کیونکہ قانون سازی کے میدان میں مشاہیر کے نام درج تھے اور حضور نبی کریم کا اسم مبارک بھی تھا۔ لہٰذا قائد نے داخلہ یہاں لینا پسند کیا اور بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ دنیا متعجب ہو گئی کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کو نبی کریم سے اس قدر انس اور محبت ہے۔ 3 جون 1936ءمیں چودھری غلام عباس نے کہا قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اتحاد بین الامسلمین پر زور دیا اور ساتھ تلقین کی کہ مسلمانوں کو چاہےے کہ وہ اقلیت کا بھی خیال کریں۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ ہمیشہ اسلامک ریاست کا ذہن رکھتے تھے۔ تاہم وہ کسی صورت میں پائیت Therocracy کے حامی نہ تھے۔ انہوں نے امریکی ریڈیو میں بیان دیتے ہوئے فرمایا تھا۔ پاکستان کا آئین ابھی تیار ہونا ہے۔ آئین ساز اسمبلی موجود ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ آخر آئین کی شکل و صورت کیسی ہو گی۔ لیکن جیسے بھی ہو گی وہ جمہوری روایات پر مبنی ہو گی۔ جس میں اسلام کے سنہری اصول شامل ہوں گے۔ کیونکہ اسلامی اصول آج بھی اسی طرح زندگی سنوارنے کے لےے ہیں جس طرح 1300 سال پہلے تھے اور اسلام کی خاصیت یہی ہے کہ وہ ہمیں جمہوریت سکھاتا ہے۔ کیونکہ اسلام نے ہمیں مساوات، انصاف اور صاف معاملات کو حل کرنا سکھایا ہے۔ ہمیں یہ سنہرے اسلام کے اصول وراثت میں ملے ہیں۔ لہٰذا ان اصولوں کو اپناتے ہوئے ہمارا آئین فریم ہو گا، لہٰذا یادرکھنا چاہےے کہ پاکستان ایک مسلم ریاست ہو گی جو اسلامی اصولوں پر مبنی ہو گی۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی۔قائداعظم نے علامہ اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور اسلامی ریاست کے حصول کو ممکن بنایا۔ آج اس اسلامی ریاست کو قائد اقبال کے وژن کے مطابق چلانے کی ضرورت ہے۔