علامہ اقبالؒ .... عصر حاضر کا عظیم ترین مفکر اسلام

21 اپریل 2011
ڈاکٹر سید محمد اکرم اکرام
اقبال کے نزدیک دنیا میں مسلمان کی زندگی صرف اسلام ہی سے ممکن ہے۔ اس سے علیحدہ مسلمان کا وجود قائم ہی نہیں رہ سکتا۔ اسلام ہی مسلمان کی قومیت ہے۔ اسلام ہی وطن ہے اور اسلام ہی مسلمان کا گھر ہے۔ انہوں نے کہا ”ہماری قومی زندگی کا تصور اس وقت تک ہمارے ذہن میں نہیں آ سکتا جب تک کہ ہم اصول اسلام سے پوری طرح باخبر نہ ہوں۔ بالفاظ دیگر اسلامی تصور ہمارا وہ ابدی گھر یا وطن ہے جس میں ہم اپنی زندگی بسر کرتے ہیں‘ جو نسبت انگلستان کو انگریزوں اور جرمنی کو جرمنوں سے ہے۔ وہ اسلام کو ہم مسلمانوں سے ہے جہاں اسلامی اصول یا ہماری مقدس روایات کی اصطلاح میں ”خدا کی رسی“ ہمارے ہاتھ سے چھوٹی اور ہماری جماعت کا شیرازہ بکھرا۔“
اقبال کے نزدیک ہندوستان میں اسلام نے ایک عظیم قوت کے طور پر مسلمانوں کی زندگی کو ہر دور میں استحکام بخشا اور انکی قومی حیثیت یا ملی خودی کو قائم رکھا۔ انکے وجود کو ہندو قوم جو کہ دوسری اقوام کو اپنے اندر جذب کر لینے والی ہے۔ اقلیت ہونے کے باوجود تحلیل یا جذب نہ ہونے دیا۔ اسلام نے اپنی خاص اخلاقی روح کا یہاں بہترین مظاہرہ کیا۔ اقبال نے 1930ءمیں خطبہ الٰہ آباد میں فرمایا:
”اسلام ہی وہ سب سے بڑا جزو ترکیبی تھا جس سے مسلمانان ہند کی تاریخ حیات متاثر ہوئی۔ اسلام ہی کی بدولت مسلمانوں کے سینے ان جذبات و عواطف سے معمور ہوئے جن پر جماعتوں کی زندگی کا دارومدار ہے اور جن سے متفرق و منتشر افراد بتدریج متحد ہو کر ایک متمیز و معین قوم کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور انکے اندر ایک مخصوص اخلاقی شعور پیدا ہو جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ دنیا بھر میں شاید ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جس میں اسلام کی وحدت خیز قوت کا بہترین اظہار ہوا ہے۔
اقبال نے عصر حاضر کے مسلمانوں کی پراگندہ ذہنی اور دین سے انکی معذرت خواہی کے رویے کو دیکھتے ہوئے اسلامی فکر کے احیاءکی طرف خاص توجہ دی اور ان قوتوں کی نفی اور بیخ کنی کی جو فکر اسلامی کی راہ میں حائل ہیں‘ چنانچہ انہوں نے ملائیت، ملوکیت، اشتراکیت، قادیانیت، بہائیت، عجمیت، عربی، شہنشاہیت اور مغربی طرز کی لادین جمہوریت کی تردید کی۔ انکے برعکس قرآن مجید کی روشنی میں اسلام کوایک زندہ قوت سے تعبیر کیا۔ انکے نزدیک دین اسلام اپنی تقدیر کا خود محافظ ہے اور کسی سہارے کا محتاج نہیں۔ وہ سرچشمہ حیات ہے۔ اسکی ابدیت کے سامنے زمان و مکان کی وسعتیں محدود ہیں چنانچہ اسکے حامل دوسروں کی محکوم نہیں ہو سکتے۔ اقبال نے کہا: ”اسلام اب بھی ایک زندہ قوت ہے جو ذہن انسانی کو نسل اور وطن کی قیود سے آزاد کر سکتی ہے، جس کا یہ عقیدہ ہے کہ مذہب کو فرد اور ریاست دونوں کی زندگی میں غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے اور جسے یقین ہے کہ اسلام کی تقدیر خود اسکے ہاتھ میں ہے‘ اسے کسی دوسرے کی تقدیر کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔“
اقبال کے نزدیک اسلام سے علیحدہ زندگی کا کوئی تصور نہیں۔ اسلام زندگی کے ہر پہلو پر محیط ہے اور اپنے معنوی اثرونفوذ سے معاشرے کوایک مخصوص ہئیت عطا کرتا ہے۔ دین اسلام مسلمانوں کی زندگی کے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، عسکری، قانونی اور انتظامی تمام شعبوں کا روح رواں ہے۔ لہٰذا کوئی مسلمان اپنی زندگی اسلامی قوانین سے ہٹ کر بسر کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ان کوائف کے پیش نظر علامہ اقبال نے ہندوستان میں مسلمانوں کی زندگی کو اسلام کا مرہون منت قرار دیتے ہوئے خطبہ الٰہ آباد میں کہا:
”اسلام کا مذہبی نصب العین اسکے معاشرتی نظام سے جو خود اسی کا پیدا کردہ ہے، الگ نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کےلئے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر آپ نے ایک کو ترک کیا تو بالآخر دوسرے کو ترک کرنا بھی لازم آئے گا۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی مسلمان ایک لمحے کےلئے بھی کسی ایسے نظام سیاست پر غور کرنے کےلئے آمادہ ہو گا جو کسی ایسے وطنی یا قومی اصول پر مبنی ہو جو اسلام کے اصول اتحاد کے منافی ہو۔ یہ مسئلہ ہے جو آج مسلمانان ہندوستان کے سامنے ہے۔“ ہندوستان کے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے اقبال نے مزید کہا ”اگر اکبر کے دین الٰہی یا کبیر کی تعلیمات عوام الناس میں مقبول ہو جاتیں تو ممکن تھا کہ ہندوستان میں اس قسم کی ایک نئی قوم پیدا ہو جاتی ہے، لیکن تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ہندوستان کے مختلف مذاہب اور متعدد جاتوں میں اس قسم کا کوئی رجحان موجود نہیں کہ وہ اپنی انفرادی حیثیت کو ترک کر کے ایک وسیع جماعت کی صورت اختیار کر لیں۔ ہر گروہ اور ہر مجموعہ مضطرب ہے کہ اسکی ہئیت اجتماعیہ قائم ہے۔“
تاریخ شاہد ہے کہ ہندوستان نسلی، لسانی، مذہبی او علاقائی اعتبار سے ہمیشہ مختلف اور گوناگوں اقوام کا وطن رہا ہے۔ مختلف ادوار میں مسلمان حکمرانوں نے اس کے زیادہ سے زیادہ علاقے فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کئے۔ اورنگزیب نے تقریباً تمام برصغیر کو ایک جغرافیائی وحدت میں تبدیل کیا لیکن چونکہ یہ ایک ہنگامی عمل تھا‘ اس لئے اسکے فوراً بعد دوبارہ تمام ہندوستان متعدد لسانی، نسلی، علاقائی اور مذہبی وحدتوں میں تقسیم ہو گیا۔ اقبال نے اس سے یہ منطقی نتیجہ اخذ کیا کہ ان تہذیبی، مذہبی، لسانی، نسلی اور جغرافیائی اختلافات کو نظرانداز کر کے یہاں واحد جمہوری حکومت کی تشکیل ناممکن ہے۔ اقبالؒ نے ایک خط میں لکھا کہ: مجھے اندیشہ ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت کا آغاز ایک خونریزی کی صورت اختیار کرےگا۔“ یعنی ایک ایسا علاقہ جہاں ہر نسل ہراعتبار سے مختلف ہو، ایک سیاسی وحدت میں ہر گز نہیں لایا جا سکتا۔ اندریں احوال مسلمانوں کےلئے ناگزیر ہے کہ وہ برصغیر کے اندر ایک آزاد مسلم ریاست کا مطالبہ کریں تاکہ وہ اپنے جان و مال کے علاوہ اپنی اعلیٰ دینی، تمدنی اور ثقافتی اقدار کو محفوظ رکھ سکیں اور یہ ان کا حق ہے۔ اقبال نے کہا: ہندوستان میں ایک متوازن اور ہم آہنگ قوم کے نشوونما کی طرح مختلف ملتوں کا وجود ناگزیر ہے۔ مغربی ممالک کی طرح انکی یہ حالت نہیں کہ اس میں ایک ہی قوم آباد ہو۔ وہ ایک ہی نسل سے تعلق رکھتی ہو اور اسکی زبان بھی ایک ہی ہو۔ ہندوستان مختلف اقوام کا وطن ہے جن کی نسل، زبان، مذہب، ایک دوسرے سے الگ ہے۔ انکے اعمال و افعال میں وہ احساس پیدا نہیں ہو سکتا جو ایک ہی نسل کے مختلف افراد میں موجود رہتا ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو ہندو بھی واحدالجنس قوم نہیں۔ پس یہ امر کسی طرح بھی مناسب نہیں کہ مختلف ملتوں کے وجود کا خیال کئے بغیر ہندوستان میں مغربی طرز کی جمہوریت کا نفاذ کیا جائے۔ لہٰذا مسلمانوں کا مطالبہ کہ ہندوستان میں ایک اسلامی ہندوستان قائم کیا جائے، حق بجانب ہے۔“
چنانچہ اقبالؒ نے ہندوستان کے شمال مغرب میں واقع مسلم اکثریت کے صوبوں پر مشتمل ایک آزاد اسلامی ریاست تشکیل دینے کا واضح الفاظ میں مطالبہ کیا اور فرمایا کہ: ”میری خواہش ہے کہ پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک ہی ریاست میں ملا دیا جائے۔ خواہ یہ ریاست سلطنت برطانیہ کے اندر حکومت خود اختیاری حاصل کرے۔ خواہ اسکے باہر، مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ اور نہیں تو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو آخر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنی پڑےگی۔“
اقبال ؒنے اس ریاست کو ہندوستان میں مسلمانوں کے تمدنی وجود کےلئے ناگزیز قرار دیتے ہوئے مزید کہا: ”اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رہے تو اس کےلئے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرے۔ یہ مطالبہ اس قدر جاندار اور مبنی بر حقیقت تھا کہ تھوڑا ہی عرصہ بعد حضرت قائداعظم کی غیرمعمولی قیادت اور کوشش سے مجسم صورت میں پاکستان کے نام سے ظہور پذیر ہوا اور حضرت قائداعظم کو بھی لندن سے واپس آ کر مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے پر ہی حضرت علامہ نے ہی مجبور کیا۔