علامہ اقبالؒ اور گاندھی جی

21 اپریل 2011
ڈاکٹر محمد سلیم
dmsdmsaleem@yahoo.com
علامہ محمد اقبال نابغہ روزگار اور ہمہ گیر شخصیت تھے۔ وہ بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم مفکر، شاعرِ مشرق اور صاحب بصیرت سیاسی رہنما تھے۔ قدرت نے ان کو بہت سی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ تاریخ کے اوراق انکی بصیرت، فراست، معاملہ فہمی اور دوراندیشی نیز قوم سے انکی خیرخواہی کی روشنی سے جگمگا رہے ہیں۔ یہ نہ صرف اپنے عہد کی سیاسی تحریکوں کو انکے صحیح پس منظر میں سمجھتے تھے بلکہ سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیتے رہے۔ درحقیقت سیاست انکی زندگی کا ایک اہم اور روشن باب ہے۔ انہوں نے قیام پاکستان سے سترہ برس پیشتر ہی اپنی بصیرت سے مستقبل کے دھندلے نقوش میں ایک آزاد اسلامی مملکت کا نقشہ ابھرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔
موہن داس کرم چند گاندھی جو مہاتما گاندھی کے نام سے مشہور ہوئے، ہندوﺅں کے بڑے رہنما تھے۔ تقریباً ربع صدی تک وہ کانگریس کے حاکم اعلیٰ رہے۔ ان کا مقصد ہندوستان میں رام راج کا قیام تھا۔ اس کےلئے انہوں نے عمر بھر جدوجہد کی۔ وہ کمزور کے مقابلے پر طاقت کا اور طاقت کے مقابلے پر اہنسا کا ہتھیار لیے پھرتے تھے۔ انہوں نے مختلف ادوار میں مسلمانوں کو بھی اپنی سیاست کے زیراثر لانا چاہا لیکن آخرکار اس میں ناکام ہوئے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کے وقت گاندھی جی نے سوچا کہ اگر اقبال کو اسکی وائس چانسلر شپ کی آفر کی جائے تو شاید وہ بھی مسلمانوں کو یہ مشورہ دیں کہ وہ سرکاری گرانٹ سے چلنے والے کالجوں کا بائےکاٹ کریں۔ چنانچہ انہوں نے تار بھیج کر علامہ اقبال سے یہ درخواست کی کہ وہ یہ ذمہ داری قبول کر لیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ خط لکھا:
”مسلم نیشنل یونیورسٹی“ (جامعہ ملیہ اسلامیہ) آپ کو آواز دے رہی ہے اگر آپ اسے اپنے ہاتھ میں لے لیں تو آپ کی فاضلانہ قیادت میں یہ ترقی کر سکے گی۔ حکیم اجمل خاں کے علاوہ علی برادران کی بھی یہی خواہش ہے۔ میری آرزو ہے کہ آپ اس آواز پر لبیک کہیں۔ آپکے اخراجات جو نئی بیداری کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونگے، بآسانی فراہم کیے جاسکیں گے۔
لیکن علامہ اقبال نے یہ خط لکھ کر معذرت کر لی:
مائی ڈیر مسٹر گاندھی
آپکے گرامی نامہ کا بہت بہت شکریہ جو مجھے پرسوں وصول ہوا۔ مجھے بے حد افسوس ہے کہ بعض وجوہ کی بنا پر جن کا ذکر ضروری نہیں اور شاید اس وقت ممکن بھی نہیں ہے، ان حضرات کی آواز پر جن کی میرے دل میں بڑی عزت ہے، لبیک کہنا میرے لئے مشکل ہے۔ اگرچہ میں قومی تعلیم کے شدید حامیوں میں سے ہوں لیکن ایک تو یونیورسٹی کی رہنمائی کےلئے مجھ میں وہ صلاحیتیں نہیں جو مختلف کشمکشوں اور رقابتوں کی صورت میں عموماً ابتدائی مراحل میں پیدا ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ فطری طور پر میں پرسکون حالات میں کام کر سکتا ہوں۔ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ ہم جن حالات سے دوچار ہیں ان میں سیاسی آزادی سے قبل معاشی آزادی ضروری ہے اور معاشی اعتبار سے ہندوستانی مسلمان دوسرے فرقوں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔ بنیادی طور پر انہیں ادب اور فلسفہ کی نہیں بلکہ تکنیکی تعلیم کی ضرورت ہے اور اس قسم کی تعلیم پر ان حضرات کو اپنی تمام تر کوششیں مرکوز کرنی چاہئیں۔ جن حضرات نے جامعہ ملیہ قائم کی ہے انہیں چاہئے کہ اس نئے ادارے میں خصوصی طور پر طبعی علم کےساتھ ساتھ تکنیکی پہلوﺅں پر بھی زور دیں اور اسکے ساتھ ساتھ اپنی مذہبی تعلیم کا بھی انتظام کریں جس کو وہ مناسب سمجھتے ہیں۔
اس میں شبہ نہیں کہ عالم اسلام بالخصوص عرب ملکوں اور مقدس مقامات میں جو واقعات پیش آئے انکے پیشِ نظر ہندوستانی مسلمان کسی نہ کسی قسم کا عدم تعاون اختیار کرنے میں حق بجانب ہونگے لیکن تعلیم کا مذہبی پہلو میرے ذہن میں ہنوز غیرواضح ہے اور میں نے پورے مسئلہ پر بحث و مباحثہ کیلئے اپنی تجاویز شائع کر دی ہیں۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں شریعت کا ماہر نہیں ہوں لیکن میرا عقیدہ یہ ہے کہ جہاں تک تعلیم کا سوال ہے موجودہ مجبوریوں کے تحت فقہ اسلامی ہماری مناسب رہنمائی کرنے سے معذور نہیں ہے۔
امید ہے آپ مع الخیر ہوں گے۔
آپ کا مخلص.... محمد اقبال، لاہور
اس سلسلے میں گاندھی جی نے حکیم اجمل خاں کو بھی لکھا کہ وہ ڈاکٹر اقبال کو یہ ذمہ داری قبول کرنے کیلئے راضی کریں۔
ہندوستانیوں کے مسائل حل کرنے کیلئے برطانیہ نے 17 ستمبر 1931ءکو دوسری گول میز کانفرنس بلائی۔ اس کانفرنس میں مسلمانوں کے نمائندوں میں علامہ اقبال بھی شامل تھے جبکہ کانگریس کی نمائندگی صرف گاندھی جی کر رہے تھے۔ علامہ اقبال 27 ستمبر 1931ءکو لندن پہنچ گئے۔ دوسری گول میز کانفرنس کا افتتاح 17 ستمبر 1931ءکو ہو چکا تھا۔ اقبال اقلیتی سب کمیٹی کے رکن تھے۔ اس سب کمیٹی کا پہلا جلسہ 28 ستمبر 1931ءکو ہوا۔ اجلاس میں گاندھی جی کا اصرار تھا کہ مسلم نمائندے حکومت سے کہیں کہ مسلم نیشنلسٹ پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر مختار احمد کو حکومت کی طرف سے بلوایا جائے۔ لیکن مسلم مندوبین نے ڈاکٹر انصاری کو مسلمانوں کا نمائندہ تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ ان کا مﺅقف یہ تھا کہ گاندھی جی اگر چاہیں تو ڈاکٹر انصاری کو اپنے طور پر بلا لیں۔ یہ بات گاندھی جی کو منظور نہ تھی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس صورت میں ڈاکٹر انصاری کی بات کی کوئی حیثیت نہ ہو گی۔ وہ مسلمانوں کے نہیں بلکہ گاندھی جی کے نمائندے ہونگے۔ علامہ اقبال نے گاندھی جی سے استفسار کیا کہ ڈاکٹر انصاری کے آنے سے یا نہ آنے سے قطع نظر، مسلمانوں کے مطالبات کے بارے میں آپکی کیا رائے ہے؟ گاندھی جی نے کہا کہ میں انہیں درست سمجھتا ہوں۔ اس پر چودھری ظفراللہ خاں نے سوال کیا کہ اگر ڈاکٹر انصاری نے مسلم مطالبات کی حمایت نہ کی تو آپ کا کیا رویہ ہوگا؟ گاندھی جی نے کہا کہ تب میں ڈاکٹر انصاری کا ساتھ دوں گا۔ اس طرح یہ اجلاس لاحاصل رہا۔ مگر پرائیویٹ طور پر گفت و شنید جاری رہی۔ 8 اکتوبر 1931ءکو گاندھی جی نے اقلیتی سب کمیٹی کے اجلاس میں بتایا کہ مصالحتی گفتگو ناکام ہو گئی ہے۔اسکے تقریباً دو سال بعد، دسمبر 1933ءمیں پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک بیان میں گول میز کانفرنسوں میں مسلم وفد کے ارکان کے رویہ پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے انہیں انٹی نیشنلسٹ کہا اور الزام لگایا کہ دوسری گول میز کانفرنس میں گاندھی جی تو انکے سارے مطالبات صرف اس شرط پر ماننے کےلئے تیار تھے کہ مسلمان ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں ان کی حمایت کریں لیکن مسلمانوں نے ہندوﺅں کےخلاف تعصب کی بنا پر یہ شرط قبول نہ کی۔ علامہ اقبال نے 6 دسمبر 1933ءکو اپنے اخباری بیان میں پنڈت نہرو کے ہر الزام کا جواب دیا اورگاندھی جی کے رویہ کو پوری طرح بے نقاب کر دیا۔ اقبال نے واضح کیا کہ ہندوستانی وفد کے کئی ارکان نے اور خود اقبال کی موجودگی میں آغا خاں نے گاندھی جی کو یقین دلایا تھا کہ اگر ہندو یا کانگریس مسلمانوں کے مطالبات تسلیم کر لے تو مسلم قوم سیاسی جدوجہد میں گاندھی جی کے پیچھے چلنے کو تیار ہو گی۔ لیکن گاندھی جی نے کہا کہ وہ ذاتی حیثیت سے تو مسلم مطالبات کو تسلیم کرتے ہیں لیکن، بغیر کسی قسم کی گارنٹی دینے کے، کوشش کرینگے کہ کانگریس بھی ان مطالبات کو تسلیم کر لے۔ اس پر میں (اقبال) نے ان سے کہا کہ کانگریس کی مجلسِ عاملہ کو تار دے کر ان کی اس پیشکش کےلئے رضامندی حاصل کی جاسکتی ہے مگر گاندھی کا جواب تھا کہ اس معاملے میں کانگریس ان کو اپنا وکیل بنانے کےلئے تیار نہ ہوگی۔ اس واقعہ کی تصدیق مسز سروجنی نائیڈو سے کی جاسکتی ہے جو میرے ساتھ بیٹھی انکے اس رویہ پر اپنی رائے کا اظہار کر رہی تھیں۔ گاندھی جی سے کہا گیا کہ اس پیش کش پر کم از کم وہ ہندو اور سکھ ارکان وفد کی منظوری حاصل کر لیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں کوشش تو کی لیکن ناکام رہے اور پرائیویٹ طور پر غیرمسلم ارکان کے رویہ پر مایوسی کا اظہار کیا۔ گاندھی جی کی دوسری اور نہایت غیرمنصفانہ شرط یہ تھی کہ مسلمان اچھوتوں کے مطالبات انکے علیحدہ نیابت کے مطالبہ کی حمایت نہ کریں۔ مسلم وفد کے ارکان کا مﺅقف یہ تھا کہ جب مسلمان اپنے لیے جداگانہ انتخاب برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو وہ اچھوتوں کے ایسے ہی مطالبے کی مخالفت کیونکر کر سکتے ہیں۔ اسکے باوجود انہوں نے گاندھی جی کو یقین دلایا کہ اگر اچھوتوں اور گاندھی جی کے مابین اس معاملے میں کسی مفاہمت کے ہونے کا امکان ہوا تو مسلمان ان کی راہ میں حائل نہ ہونگے .... اقبالؒ نے کہا کہ اگر پنڈت نہرو کی قیادت میں ہندو یا کانگریس آج بھی مسلمانوں کو وہ تحفظات دینے کےلئے تیار ہو جو مسلمان اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں تو آغا خاں کے الفاظ میں ہندوستان کی سیاسی جدوجہد میں مسلم قوم اکثریتی فرقے کے پیچھے چلنے کیلئے تیار ہے۔اقبالؒ کے اس بیان سے سچائی کی روشنی چاروں طرف پھیل گئی۔
دوسری گول میز کانفرنس میں کوئی سمجھوتہ نہ ہونے پر 6 اگست1932ءکو وزیراعظم برطانیہ ریمزے میکڈانلڈنے لندن میں برطانوی حکومت کی جانب سے ”کمیونل ایوارڈ“ کا اعلان کیا۔ اس ایوارڈ میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس کے کئی ایک اہم مطالبے تسلیم کر لئے گئے مثلاً مسلمانوں کا جداگانہ انتخاب برقرار رہا۔
ادھر اچھوتوں کو بھی ہندوﺅں سے علیحدہ قرار دے کر جداگانہ انتخاب کا حق دےدیا گیا۔ اس پر گاندھی جی بہت مضطرب ہوئے اور انہوں نے 20 ستمبر 1932ءسے مرن برت رکھ لیا۔ آخرکار اچھوت رہنما ڈاکٹر امبید کرسے مذاکرات کے بعد پونا پیکٹ ہوا اور ان دونوں غیرمسلم رہنماﺅں کے اتفاق پر اچھوتوں کیلئے پھر مخلوط طرزِ انتخاب رائج کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اس سمجھوتے نے اچھوتوں کا مستقبل تاریک کر دیا۔ اگر اچھوتوں کا کوئی صاحبِ عزم رہنما ہوتا تو نہ صرف اچھوتوں کی تقدیر بدل جاتی بلکہ آج ہندوستان کا نقشہ بھی مختلف ہوتا۔ مرن برت رکھنے سے پہلے گاندھی جی نے وزیرِ ہند اور وزیرِاعظم برطانیہ سے خط و کتابت بھی کی تھی جو ”گاندھی۔ وزیرِاعظم مراسلت“ کے عنوان سے اخبارات میں شائع ہوئی۔ اس موقع پر گاندھی جی کے رویہ کا تجزیہ کرتے ہوئے 13 ستمبر 1932ءکو علامہ اقبالؒ نے ایک اہم اور دلچسپ اخباری بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا:
”مسٹر (گاندھی) کے یہ خطوط شخصی نفسیات کے دلچسپ مظہر ہیں اور اپنی نوعیت کے لحاظ سے مجھے ایسی تحریروں سے بہت کم سابقہ پڑا ہے .... خطوط میں مجھے جو چیز سب سے نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ مسٹر گاندھی کے نزدیک ہندو مذہب کی صداقت اخلاقی اور مذہبی مسائل پر مشتمل ہے .... میرا ہمیشہ یہی خیال ہے رہا ہے کہ سیاسی مسائل، بالخصوص ہندوستان میں، مذہبی اور اخلاقی معاملات کے مقابلے میں بالکل بے حقیقت ہو کر رہ جاتے ہیں۔ میرے لیے یہ چیز کوئی تعجب انگیز نہیں کہ ہندوستان کی قومیت متحدہ کے تخیل کے علمبردار اور ہندوستانی اقلیتوںمیں فرقہ وارانہ بیداری کے اشدترین مخالف نے نہایت دلیری سے ہندو قومیت کے تحفظ کے مسئلہ کی حمایت کو نہایت ضروری خیال کیا۔ یہ صورتحال مسلمانوں کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے .... اگر اچھوتوں کیلئے جداگانہ انتخاب کے یہ معنی ہیں کہ ہندو قوم کے فنا ہونے کا اندیشہ ہے تو مخلوط انتخاب کا یہ مطلب ہو گا کہ جو اقلیتیں اسے اختیار کریں گی وہ صفحہ ہستی سے نابود ہو جائینگی۔
میرے خیال میں مہاتما گاندھی کی روش سے صاف ظاہر ہو گیا ہے کہ جس اقلیت کو اپنے جداگانہ وجود کے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اسے جداگانہ انتخاب سے دستبردار نہیں ہونا چاہئے .... معاذاللہ اگر اسلامیانِ ہند بھی ذات پات کی تمیز کے پابند ہوتے اور ان میں بھی اچھوت طبقہ کا ایک جم غفیر موجود ہوتا اور وہ بھی ہندو جاتی کی اونچی ذاتوں کی طرح انکے ساتھ وہی سلوک کرتے جو اونچے گھرانے کے نیچ ذاتوں کے ساتھ سالہا سال سے کرتے چلے آئے ہیں اگر مجھے بھی وہی طرزِعمل اختیار کرنا پڑتا جو گاندھی جی نے اختیار کیا ہے، تو میں حکومت برطانیہ کو دھمکی دینے کے بجائے اپنی قوم کو دھمکی دیتا اور بجائے اسکے کہ اچھوتوں کو حاصل شدہ تحفظ سے محروم کرنے کی کوشش کرتا میں تو اپنی قوم کو اس بات پر مجبور کرتا کہ وہ ایک خاص مدت کے اندر اچھوت اقوام کے ساتھ مذہبی اور معاشرتی اعتبار سے کامل مساوات کےساتھ پیش آئے۔
28 ستمبر 1932ءکو ”پونا پیکٹ“ پر اپنے بیان میں اقبال نے کہا: اس کی رو سے نہ تو اچھوتوں کی جداگانہ نیابت میں کوئی فرق آیا ہے اور نہ انہیں ہندو دھرم سے کوئی قرب حاصل ہوا ہے۔
علامہ اقبال کو اپنی رہگزر پر لانے کیلئے اور مسلمانوں کو بحیثیت قوم بدنام کرنے کےلئے گاندھی جی اور ان کے ساتھیوں کی تمام سعی ناکام ہو گئی۔ علامہ اقبال نے ان کی نفسیات اور روش کو جس طرح عیاں کیا، اس سے گاندھی جی کی سوچ بھی سب پر واضح ہو گئی۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...