فکرِ اقبال‘ میرا ماضی میرے استقبال کی تفسیر ہے !

21 اپریل 2011
فکر اقبال ، نہ صرف قرون وسطیٰ میںغرناطہ سے لیکر ہندوستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک پھیلی ہوئی اُمتِ اسلامیہ کی زوال کی کہانی کا احاطہ کرتی ہے بلکہ اصلاحِ احوال کےلئے اُمت اسلامیہ کے مستقبل کی بہتری کےلئے دعوتِ فکر بھی دیتی ہے ۔ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی شعری اور نثری کاوشوں پر مشتمل یہی فکر جب قراردادِ پاکستان کا حصہ بن کر قائداعظم محمد علی جناح کی عملی تحریک کا حصہ بنتی ہے تو برّصغیر جنوبی ایشیاءمیں مسلمانوں کی ایک عظیم ریاست پاکستان کا قیام عمل میں آجاتا ہے اور یہی ریاست دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن جاتی ہے ۔ فکر اقبال کے حوالے سے آج کی جدید دنیا میں اُمتِ اسلامیہ کو درپیش معاشرتی ، سیاسی اور اقتصادی مسائل کا تجزیاتی جائزہ لیا جائے تو یہ اندازہ لگانے میں دقّت نہیں ہوتی کہ علامہ اقبال نے قرآنی تعلیمات کے حوالے سے جس اصلاحِ احوال کی بات کی تھی اورجسے قومی یکجہتی کی شکل میں ممکن بنا کر قائداعظم محمدعلی جناح نے تحریک پاکستان کو استوار کیا تھا آج پھر اغیار کی سازشوں ، اپنوں کی خود غرضیوں اور کوتاہ نظری کے باعث ایک مرتبہ پھر سیاسی ، اقتصادی اور معاشرتی ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا شکار ہے۔ بیشتر مسلمان ملکوں میں کرپشن ، ناانصافی ، بدانتظامی اور اقربہ پروری کے باعث شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے جس کا فائدہ بھی اغیار ہی اُٹھانے میں پیش پیش ہیں چنانچہ اسلامی ملکوں پر بیرونی قوتوں کی بڑھتی ہوئی ثقافتی یلغار اور اقتصادی دباﺅ کے باعث یہ اندرونی بگاڑ بھی وسیع تر ہوتا جا رہا ہے ۔فکر اقبال بنیادی طور اِسی بگاڑ کا احساس دلانے اور ملت اسلامیہ کو مضبوط سیاسی ، معاشرتی اور اقتصادی بندھنوں میں باندھنے کی فکر سے نہ صرف آشنا کرتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کو درپیش خدشات و خطرات کی نشان دہی بھی کرتی ہے ۔ فکر اقبال قوم کو پیغمبر اسلام کی شریعت اسلامیہ کی جانب واپسی کا سفر اختیار کرنے کا پیغام دیتی ہے جبکہ علامہ خود بھی قرآنی فکر کی تشریح کرتے ہوئے باآواز بلند پیغام دیتے ہیں .......
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد سے اُجالا کر دے
کی محمدسے وفا تُونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
علامہ کی فکری تعمیر میں زندگی کے تین واضح اَدوار کی نشان دہی ہوتی ہے ۔ ابتدائی دور 1903 تک کے کلام کے حوالے سے سمجھا جا سکتا ہے یہ دور ہندوستان میں ملت اسلامیہ کی آگہی کا دور تھا ۔ دوسرے دور کو 1904 سے 1920 تک کے عرصہ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اِس دور میں اقبال کی فکری صلاحیتیں خوب نکھر کر سامنے آتی ہیں جن میں علم و دانش کی توانائی اور وجدان کی الہامی کیفیت ظہور پزیر ہوتی ہیں۔ یہی وہ دور ہے جب اقبال کو برطانیہ اور یورپ میں حصول تعلیم کا موقع بھی میسر آتا ہے جہاں اُنہیں ملت اسلامیہ کےخلاف تہذیبی کشمکش کے حوالے سے مغرب کی عیاریوں اور ریاکاریوں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے ۔ اِسی دور میں علامہ کو عالم تنہائی میں مسجد قرطبہ کے خاموش گنبد و مینار کے سایہ تلے وجدانی فکر کا ادراک حاصل ہوتا ہے جو یورپ سے واپسی پر فکر اقبال کی فلسفیانہ اور حکیمانہ روش کو مہمیز دینے کا سبب بنتی ہے، اِسی دور میں علامہ \\\" شکوہ اور جواب شکوہ \\\" کے عنوان سے اپنی شہرہ آفا ق الہامی نظمیں تخلیق کرتے ہیں ۔گو کہ اِسی دور میں اقبال کے بیشتر فلسفیانہ فارسی کلام کی بدولت ہندوستان سے باہر ، بالخصوص مشرق وسطیٰ اور یورپ میں فکر اقبال کو خاصی پزیرائی ملتی ہے لیکن اُردو زبان میں اُنکی شہرہ آفاق غزلوں اور بالخصوص کمال خوبی سے کہی گئی نظموں \\\" شکوہ اور جواب شکوہ \\\" میں اقبال کے دل و دماغ کی حیران کن یکسوئی نے ہندوستانی مسلمانوں میں قومی یکجہتی کے وہ جذبات پیدا کر دئیے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اِن نظموں کے ذریعے جو ہندوستان کے کونے کونے میں زبان زدِ عام ہوئیں نہ صرف فکر اقبال نے برّصغیر جنوبی ایشیاءکے مسلمانوں کو اُنکی عظمت رفتہ سے باخبر کیا بلکہ اُن میں آزادی کی وہ بے لاگ اُمنگ بیدار ہوئی جس نے ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا ۔ اقبال کے درج ذیل اشعار سے فکرِ اقبال کے نصب العین کی وضاحت بخوبی ہو جاتی ہے .....
منفعت ایک ہے اِس قوم کی ، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ایمان بھی ایک
حرِم پاک بھی ، اللہ بھی ، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
1920 سے لیکر 1938 ( علامہ کی وفات تک) علامہ کی فلسفیانہ معراج کھل کر ظاہر ہوتی ہے جب فکر اقبال حکیم الامت کا کردار ادا کرتے ہوئے 1930 کے خطبہ الہ آباد میں مسلمانانِ ہند کےلئے ہندوستان میں ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ حقیقت یہی ہے کہ اقبال، پیغمبر اسلام کی تعلیمات کے حوالے سے ہی ملت اسلامیہ کے مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں۔ مسلم ہندوستان کی آزادی کے اِس خواب کی تعبیر کےلئے ہندوستان کے طول و ارض میں ملت اسلامیہ کی دبی ہوئی آزادی کی خواہشوں کو بیدارکرنا ہی فکر اقبال کی معراج تھی۔ آج کی مسلم دنیا بشمول پاکستان جسے عددی لحاظ سے پچاس سے زیادہ اہم اسلامی ریاستوں میں شمار کیا جاتا ہے ، کی ناگفتہ بہ صورتحال آ ج پھر کسی اقبال کو پکار رہی ہے ۔ صدحیف کہ ُامت اسلامیہ اصلاحِ احوال کے بجائے ایک مرتبہ پھر اغیار کی سیکولر زدہ عیاریوں کے جال میں پھنس کر اپنے اسلامی وجود کو ہی ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ چنانچہ وقت آ گیا ہے کہ فکر اقبال کو پھر سے زندہ کیا جائے کیونکہ اغیار کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کےلئے ایک مرتبہ پھر فکرِ اقبال کو re-discover کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی وہ فکر ہے جو ماضی میں علم و دانش کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر اسلاف کے سنہری موتی تلاش کرتی رہی ہے اور اُمت اسلامیہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کےلئے قومی یکجہتی کا درس دیتی رہی ہے ۔ اقبال اپنے اشعار میں نہایت ہی دھیمے لہجے میں احساس کے اِنہی تاروں کو چھیڑتے ہیں اور قوم کو اُس کے شاندار ماضی کی یاد دلاتے ہیں .....
یاد ِ عہدِ رفتہ میری خاک کو اکسیر ہے
میرا ماضی میرے استقبا ل کی تفسیر ہے
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت ر ات کی سیماب پا ہو جائے گی
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغامِ سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گی
مغرب میں قیام کے دوران اقبال نہ صرف ماضی ، حال اور مستقبل کے حوالے سے دنیائے اسلام کی سیاسی و معاشرتی زبوں حالی کے پس پردہ اثرات سے آشنا ہوئے بلکہ اُنہیں یورپ اور برطانیہ میں اپنی تعلیمی و تحقیقی جستجو کے دوران مغربی طرز معاشرت کی امور عالم پر بڑھتی ہوئی گرفت کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع بھی ملا ۔ (جاری ہے)
مسجد قرطبہ کے خاموش گنبدو مینار کے سائے تلے عالم تنہائی میں اقبال کو عبادت کرنے کا منفرد موقع ملا تو مسلم اسپین میں اُن کی چشمِ بینا مسلمانوں کے زوال کی چھپی ہوئی تلخ حقیقتوں سے بھی آشنا ہوئی جس کا اظہار اُن کی فکری شاعری میں جا بجا ملتا ہے ۔ اقبال یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ ہسپانیہ اور ہندوستان میں مسلمان فاتحین کی آمد 711-12 عیسویں میں ایک ساتھ ہی شروع ہوئی تھی۔ سندھ میں محمد بن قاسم اور اندلس کی سرزمین پر طارق بن زیاد نے علم جہاد بلند کیا تھا اور کامیابی نے دونوں کے قدم چومے تھے ۔ اندلس پر مسلمانوں نے آٹھ سو برس تک حکومت کی لیکن صلیبی عیسائیوں کی سازشوں کے باعث عیسائی حکمرانوں نے کمال ہوشیاری سے مسلمان سلطنت کو عربی ،افریقی اور مقامی حکمرانوں کی تفریق میں تقسیم کر کے بکھری ہوئی مسلمان ریاستوں کو چالاکی سے کئے گئے معاہدوں کے ذریعے مسلمان ریاستوں کو ایک دوسرے کےخلاف استعمال کیا اور بتدریج مسلم اندلس کو سیاسی و معاشرتی انتشار کا نشانہ بنا کر اندلس پر عیسائی حکمرانی کے جھنڈے گاڑ دئیے چنانچہ سولھویں صدی (1501-2) کے شروع میں ہی غرناطہ کی آخری مسلم ریاست کی تباہی نے ہسپانیہ میں مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دیا ، بے گناہ مسلمان شہریوں کو اندلس کے طول و ارض میں قتل عام کا نشانہ بنایا گیا جبکہ غرناطہ کی قتل و غارتگری سے بچ نکلنے والے بچے کچے مسلمان شہریوں کو کہا گیا کہ یا تو وہ عیسائی بن جائیں یا ملک چھوڑ کر اپنے آباﺅ اجداد کے ملکوں میں واپس چلے جائیں ۔ علامہ اپنے اشعار میں کہتے ہیں.....
گنوا دیں ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
آسماں نے دولتِ غرناطہ جب برباد کی
ابن بدروں کے دل ناشاد نے فریا د کی
درد اپنا مجھ سے کہہ ، میں بھی سراپا درد ہوں
جس کی تو منزل تھا میں اُس کارواں کی گرد ہوں
میں ترا تحفہ سوئے ہندوستان لے جاﺅں گا
خود یہاں روتا ہوں ، اوروں کو وہاں رولواﺅں گا
صد افسوس کہ سولھویں صدی کے شروع میں غرناطہ کی تباہی نے یورپ سے مسلمانوں کے انخلا کی نوید دی تو ہندوستان میں بھی مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے کےلئے سازشوں کے جال بُنے گئے ۔ آریا ہندو سماج کا خیال تھا کہ اگر ہسپانیہ سے آٹھ سو برس کے بعد مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہو سکتا ہے تو ہندوستا ن میں بھی یہی تاریخ دھرائی جا سکتی ہے ۔ قرائین یہی کہتے ہیں کہ ہسپانیہ میں مسلمانوں کی شکست کے بعد ہندوستان میں ہندو راجاﺅں اور مہاراجوں نے جنوبی ایشیا میں سولھویں صدی کے دو مسلمان حکمرانوں ، تخت دہلی پر فائز ابراہیم لودھی اور تخت کابل کے فاتح ظہیر الدین بابر کو آپس میں لڑا کر مسلمان قوت کو کمزور کرنے کی سازش کی ۔ ایک سو سے زیادہ راجپوت و دیگر ہندو راجاﺅں نے ہندو راجپوت جنگجو رانا سانگا کی قیادت میں راجپوٹ کنفیڈریسی قائم کی اور ایک لاکھ سے زیادہ جنگجو اکھٹے کئے گئے ۔ راجپوتوں نے کمال ہوشیاری سے کابل کے حکمران بابر کے دربار میں ہندو سفارت بھیجی اور لودھی حکمران سے جنگ کے دوران بابر کو آگرہ کے نواح میں لودھیوں کے خلاف محاذ جنگ کھولنے کا یقین دلایا گیا لیکن بابر اور ابراہیم لودھی کی خوفناک جنگ کے دوران راجپوتوں نے بابر کی مدد نہیں کی کیونکہ اُس وقت ہندو گیم پلان ہندوستان سے مسلمانوں کو دیس نکالا دینا تھا لیکن جب بابر نے کابل واپس جانے کے بجائے ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھ دی تو راجپوتوں نے چند ماہ کے اندر ہی ایک لاکھ سے زیادہ فوجی جنگجوﺅں کو آگرہ کے قریب کنواح میں جمع کر لیا لیکن بابر نے جہادی جوہر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک خونریز جنگ کے بعد راجپوتوں کی ایک لاکھ سے بڑی فوج کو شکست دی ۔ اِس فتح نے ہندوستان پر مغلیہ سلطنت کی شکل میں مسلمانوں کی حکمرانی کو مزید دوسو سال کےلئے آگے بڑھا دیا لیکن اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے بعد مسلم نوابین ہندی ، طورانی اور ایرانی گروپوں میں تقسیم ہو ئے تو راجپوت کنفیڈریسی کی طرز پر مرہٹہ سرداروں نے قوت پکڑی اور دوسری جانب انگریزوں نے بنگال اور میسور کے نوابین کو شکست دے کر ہندوستان پر انگریزوں کے اقتدار کی راہ ہموار کی تو مشہور بزرگ شاہ ولی اللہ نے ہندوستان میں مسلمانوں کو تباہی سے بچانے کےلئے کابل کے حکمران احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملے کی دعوت دی ۔ احمد شاہ ابدالی نے مرہٹو ں کو فیصلہ کن شکست دی ۔ مرہٹوں کی شکست سے ہندوستان پر ہندو حکمرانی کا خواب ایک مرتبہ پھر ٹوٹ پھوٹ گیا لیکن احمدشاہ ابدالی کے تخت دہلی پر برجمان ہونے کے بجائے کابل واپس چلے جانے کے بعد ہندوستان پر انگریزوں کی دو سو سالہ حکمرانی کا راستہ صاف ہو گیا ۔ 1857 میں انگریزوں نے آخری مغلیہ حکمران بہادر شاہ ظفر کو بے دخل کرکے ہندوستان کو تاج برطانیہ کی حکمرانی میں شامل کر لیا تو مسلمانوں کے خلاف قتل و غرت گری کا بازار گرم کیا گیا ، مسلم نوابین وشرفا کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ انگریز چونکہ مسلم نوابین اور تخت دہلی کے مسلمان بادشاہ کو شکست دیکر اقتدار میں آئے لہذا اُنہوں نے ہندو اکثریت کی مدد سے ہندوستان پر حکمرانی قائم کی اور مسلمانوں کو سختی سے کچل دیا ۔
اندریں حالات ، مندرجہ بالا منظر نامے میں ہندوستان میں مختلف لسانی ، علاقائی اور فرقوں میں بٹے اور بکھرے ہوئے مسلمانوں کو ابتدائی طور پر سر سید احمد خان نے انگریزوں کے بدترین انتقام سے بچانے کی کوشش کی لیکن لسانی، علاقائی اور فرقہ وارانہ تفریق اپنی جگہ قائم رہی چنانچہ فکرِ اقبال اور فکر جناح نے ہندوستان میں اِس بکھری ہوئی قوم کو جگانے اور قومی یکجہتی کی لڑی میں پرونے میں مثالی کردار ادا کیا ۔ قراردادِ لاہور گو کہ علامہ اقبال کی وفات کے بعد 1940 میں منظور کی گئی لیکن حقیقت یہی ہے کہ علامہ اقبال 1930 کے خطبہ الہ آباد میں پہلے ہی تصور پاکستان کے خد و خال وضاحت سے بیان کر چکے تھے چنانچہ قائداعظم کے ہندوستان واپس آنے کے بعد علامہ نے شدید بیماری کے باوجود قائداعظم کے ساتھ تحریری مشاورت جاری رکھی ۔ مئی 1936 سے نومبر 1937 تک علامہ اقبال نے قائداعظم کو 13 اہم ، کانفیڈنشل ،خطوط لکھے جنہیں علامہ اقبال کی وفات کے بعد کتابی شکل میں شائع کیا گیا ۔ اِن خطوط کا مقدمہ تحریر کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا \\\" میرے خیال میں یہ خطوط عظیم تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ، خاص طور پر وہ خطوط جن میں مسلم انڈیا کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے علامہ اقبال نے اپنے خیالات کا اظہار بڑی وضاحت سے کیا ہے ۔ اُن کے افکار دراصل ہندوستان کو درپیش آئینی مسائل پر میرے خیالات اور مسلم انڈیا کی مشترکہ خواہش کے مطابق ہیں جس نتیجے پر ہم بڑی سٹڈی اور فکری سوچ بچار کے بعد پہنچے تھے\\\" ۔ علامہ اقبال آج ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن اُن کے افکار آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ۔