فکرِ اقبالؒ سے دورِ حاضر میں رہنمائی

21 اپریل 2011
محمد منیر احمد
اس مضمون میں ہم پیامِ اقبال کے صرف ایک پہلو کا جائزہ لیں گے جس کی طرف ابھی تک بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ علامہ صاحب کی نگاہِ توجہ معاشرے کے کس طبقے کےلئے مخصوص ہے۔ بچے، نوجوان یا بوڑھے لوگ؟ ایک معاشرہ ایسے ہی تین قسم کے افراد پر مشتمل ہوتا ہے‘ چونکہ علامہ صاحب کا پیغام تعلیم و تربیت کا ہے، اس لئے بانگِ درا کی سات نظمیں بچوں کےلئے مخصوص ہیں۔ ظاہر میں یہ کلام روزمرہ کے عام مشاہدات پر مبنی ہے مگر ان میں انسانی زندگی کی بنیادی اقدار کی تربیت مستور ہے۔
پہاڑ اور گلہری میں بچوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ قدرت کے کارخانے میں کوئی چیز نکمی نہیں ہے۔ بچے کا دعا میں علم سے محبت کا درس اور جگنو اور بلبل میں انسانی ہمدردی کی تلقین ہے۔ باقی نظموں میں بھی ایسے ہی Positive Values کا ذکر ہے۔ جس طرح انگریز شاعر Words worth ایک معصوم بچے کو فطرت سے قریب ترخیال کرتے ہیں، اسی طرح اقبال ایک معصوم بچے کو چاقو سے کھیلتا دیکھ کر حقیقتِ عظمتِ آدم سے پردہ اٹھا دیتے ہیں ....
آہ! کیوں دکھ دینے والی شے سے تجھ کو پیار ہے
کھیل اس کاغذ کے ٹکڑے سے یہ بے آزار ہے
زندگانی ہے تیری آزاد قید و امتیاز
تیری آنکھوں پر ہے ہویدا مگر قدرت کا راز
”بچہ اور شمع“ میں جب بچہ روشنی کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ منظر دیکھ کر علامہ صاحب کا تخیل افلاک سے آگے نکل جاتا ہے۔
اس نظارے سے تیرا ننھّا سا دل پریشان ہے
یہ کسی دیکھی ہوئی شے کی مگر پہچان ہے
شمع ایک شعلہ ہے لیکن تو سراپا نور ہے
آہ! اس محفل یہ عریاں ہے تو مستور ہے
نور تیرا چھپ گیا زیر نقاب آگہی
ہے غبار دیدہِ بینا حجاب آگہی
علامہ صاحب کی شاعری میں تربیت کا یہ پہلا مرحلہ ہے جس میں وہ ایک بچے کو شاہین کے بال و پر عطا کر رہے ہیں۔ دوسرا مرحلہ جوش اور ولولہ کا ہے جو انسانی زندگی میں تحریک، غوروفکر اور تحقیق و تجسس کی نئی نئی راہیں کھولتا ہے۔ یہ وہی ولولہ زیست ہے جسے برگساں جوش حیات (Elan Vital) کے نام سے پکارتا ہے۔ اس مقام پر انکے مخاطب نوجوان جن کی منزل بقول اقبال آسمانوں سے آگے ہے۔ حصول مقصد کےلئے ترغیب (Motivation) علامہ اقبال کی شاعری کا طرہ¿ امتیاز ہے‘ جس کےلئے وہ نئے نئے انداز اختیار کرتے ہیں۔
تو راہ نور دِشوق ہے منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشین ہو تو محمل نہ کر قبول
اے آبِ جو اب بڑھ کے ہو جا دریائے تند و تیز
ساحل تجھے عطا تو ساحل نہ کر قبول
نوجوانوں کو خوب سے خوب کی تلاش میں سرگرداں رکھنے کےلئے انہیں عظمتِ انسان سے آگاہ کرنا ہی اقبال کا نورِ بصیرت ہے جسے وہ بچوں اور جوانوں تک پہنچانے کےلئے ہمہ وقت بے تاب رہتے ہیں ....
جوانوں کو میری آہِ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
خدا آرزو میری یہی ہے
میرا نور بصیرت عام کر دے
یہاں پر ایک بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ نورِ بصیرت عام کرنے کےلئے علامہ صاحب مکتب کے رول پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ یہ مدرسہ اور خانقاہ کی تربیت ہی ہے جو ایک بچے کو شاہین کے بال و پر عطا کر سکتی ہے پھر شاہین بچوں کو صحبتِ زاغ میں پروان چڑھا کے انہیں راہ و رسمِ شاہبازی سے دور کر کر سکتی ہے۔ علامہ صاحب نے اپنی شاعری میں ایسے خدشات کا تواتر سے ذکر کیا ہے ....
شکایت ہے مجھے یا رب خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم ناک
نہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہین بچے کو صحبتِ زاغ
آج ہم پھر تحریکِ پاکستان جیسے دور سے گزر رہے ہیں۔ اس وقت ایک ملک کا بنانا تھا اور آج اس ملک کو بچانا اور سنوارنا ہے۔ آج پھر ہمیں بصیرتِ اقبال کی ضرورت ہے جس کےلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے مدرسہ اور خانقاہ کو انہیں خطوط پر قائم کریں جن کی علامہ صاحب نے نشان دہی کی تھی۔ جب ہم اپنے مدرسہ اور خانقاہ میں صداقت، شجاعت اور عدالت کا سبق پڑھانا شروع کر دینگے تو بھٹکے ہوئے آہو کو سوئےِ حرم لے جانے میں کوئی دقت نہیں پیش آئےگی۔