گستاخانہ فلم کیخلاف اسلام آباد آج میدان جنگ بنا رہا۔ پینتالیس پولیس اہلکاروں سمیت ساٹھ افراد زخمی ہو گئے۔

20 ستمبر 2012 (21:10)
گستاخانہ فلم کیخلاف اسلام آباد آج میدان جنگ بنا رہا۔ پینتالیس پولیس اہلکاروں سمیت ساٹھ افراد زخمی ہو گئے۔

یہ منظر ہے اسلام آباد کے ریڈ زون کا جہاں کئی گھنٹے تک پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا، لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور ربر کی گولیوں کا بے دریغ استعمال۔
سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب گستاخانہ فلم کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلباء نے ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی، پولیس نے اگرچہ گذشتہ رات ہی سے کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کر کے ریڈ زون کے پورے علاقے کو سیل کردیا تھا مگر طلباء پولیس کی رکاوٹیں توڑنے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس اور طلبا کے درمیان تصادم کے دوران ہی راولپنڈی اور گردو نواح کے علاقووں سے آنے والی مخلتف ریلیوں کے شرکا ریڈ زون کے قریب پہنچنا شروع ہوگئے، ان ریلیوں میں طلبا کے علاوہ تاجر، مذہبی جماعتوں کے کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے، مختلف راستوں سے آنے والی ریلیوں کے شرکا امریکہ مخالف نعرے لگاتے اور امریکی پرچم نذر آتش کرتے ہوئے ڈپلومیٹک انکلیو کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری کے باجود مظاہرین کو قابو رکھنا کسی کے بس میں نہیں تھا۔
پولیس اور رینجرز نے ہر حربہ استعمال کیا مگر مظاہرین نے پولیس کی دو چوکیوں کو نذرآتش کردیا، پولیس موبائلوں، ایمبولینسوں اور سرینا ہوٹل میں کھری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، سڑک پر کھڑے کنٹینرز ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔
حالات اس قدر کشیدہ ہوگئے کہ وزارت داخلہ کو فوج کی مدد کی درخواست کرنا پڑی، متاثرہ علاقے کی فضائی نگرانی شروع ہوئی مگر فیصلہ بل آخر مذاکرات کے بعد ہی ہوا۔ اُس وقت تک پُرتشدد کارروائیوں میں پینتالیس پولیس اہلکاروں سمیت ساٹھ افراد زخمی ہوچکے تھے، انتظامیہ نے مذاکرات کے بعد گرفتار ہونے والے مظاہرین کو رہا کرنے میں ہی عافیت جانی جس کے بعد گھنٹوں جاری رہنے والی اس محاذ آرائی کا خاتمہ ہوا۔