توہین آمیز فلم کے خلاف احتجاج کے باعث اسلام آباد کا ریڈزون میدان جنگ بن گیا۔مظاہرین ڈپلومیٹک انکلیو تک پہنچ گئے

20 ستمبر 2012 (18:13)

اسلام آباد اورراولپنڈی سے تاجروں، طالب علموں اور مذہبی جماعتون کی جانب سے توہین آمز فلم کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ اسلام آباد کے ریڈ زون کے پاس پہنچ کر مظاہرین مشتعل ہو گئے اور سفارتی انکلیو کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔ پولیس اور رینجرز نے مزاحمت کی اور مظاہرین کو روکنے کیلئےآٓنسو گیس کی شیلنگ اور ربڑ کے فائر کئے گئے ۔تاہم مشتعل مظاہرین نے پیش قدمی کرتے ہوئے پولیس چوکی اور بنکر کو آگ لگا دی جبکہ پولیس موبائل کے شیشے بھی توڑ دیئے۔ اسکے علاوہ سرینا چوک کے اشاروں پر بھی غصہ نکالا گیا۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مظاہرین کے پتھراؤ سے تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او سمیت پندرہ پولیس اہلکار اور چھ مظاہرین زخمی ہو گئے جبکہ متعدد مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ طلباء پولیس کی چوکی پھلانگ کر سفارتی انکلیو میں داخل ہو گئے جبکہ پولیس اور رینجرز کے مکمل طور پر ناکام ہونے پر فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ جو ریڈزون اور سفارتی انکلیو کا دفاع کرے گی۔ ادھرحکام کی جانب سے امریکی قونصلر جنرل کی رہائشگاہ کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔