گستاخانہ فلم کے خلاف ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری۔ مظاہرین کا امریکا سے سفارتی تعلقات ختم کرنے اور او آئی سی اجلاس بلانے کا مطالبہ.

20 ستمبر 2012 (14:22)
گستاخانہ فلم کے خلاف ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری۔ مظاہرین کا امریکا سے سفارتی تعلقات ختم کرنے اور او آئی سی اجلاس بلانے کا مطالبہ.

گستاخانہ فلم کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی میں  تاجروں نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور امریکی صدر اوباما اور امریکی پرچم نذر آتش کیا۔ آل کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر نے امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ اور  شاتم رسول فلم ساز اور اس کی ٹیم کو قتل کرنے والے کو پانچ کروڑ روپے دینے کا اعلان کیاہے۔ملتان میں مذہبی، سیاسی، سماجی جماعتوں، طلبہ اور تاجر برادری نے توہین آمیز فلم کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالیں اور مظاہرے کیے۔ گورنمنٹ ٹیکنالوجی کالج اور گورنمنٹ کالج سول لائنز کے طلبہ نے احتجاجی ریلی نکالی اور  پادری ٹیری جونز کے پتلے اور امریکی پرچم بھی نذر آتش کیے۔ جماعت الدعوۃ، تاجروں اور ڈسٹرکٹ بار کے ملازمین نے بھی احتجاجی ریلی نکالی۔ مظاہرین نے امریکا سے سفارتی تعلقات ختم کرنے اور او آئی سی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ ڈیرہ غازی خان میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔ انجمن تاجران کی اپیل پر شہر کی تمام   چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مل کر احتجاجی ریلی نکالی اور پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ وکلاء نے بھی عدالتی کارروائی سے مکمل بائیکاٹ کیا۔ادھر نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئر پرسن کرسچیئن پرو گریسو موومنٹ  نائلہ جے دیال نے اقوام متحدہ سے کسی بھی مذہب کی توہین کرنے والوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک بھر میں جاری مظاہروں میں شرکت کریں گی۔ پشاور میں آل پاکستان کلاس فور ملازمین نے بھی احتجاجی ریلی نکالی جو سول سیکرٹریٹ سے شروع ہو کر پریس کلب پر ختم ہوئی۔ مظاہرین نے امریکا سے سفارتی تعلقات ختم کرنے اور امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔