خواتین کو بااختیار بنانے کے حکومتی دعووں کے باوجود خواتین کیخلاف تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ

20 ستمبر 2012

لاہور (رفیعہ ناہید اکرام) خواتین کو بااختیار بنانے کے بلند بانگ حکومتی دعوو¿ں کے باوجود پاکستان میں خواتین کیخلاف تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تشدد گھریلو نہیں، سماجی مسئلہ ہے۔ خواتین کے تحفظ کیلئے قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے اور معاشرتی تعصبات کے باعث ہزاروں خواتین مسلسل غیرت کے نام پرقتل، اغوا، جنسی وگھریلو تشدد ، تیزاب پھینکنے کے علاوہ ونی، سوارا، خریدو فروخت،کم عمری کی شادی،،جنسی ہراسیت،خود کشی، بدل صلح اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ویمن پیکج کے اعلان کے باوجود تاحال خواتین پر تشدد کیخلاف بل اسمبلی میں پیش نہیں ہوسکا۔ گزشتہ چاربرسوں کے دوران خواتین پر تشدد کے 32,658 سے زائد واقعات پیش آئے۔ 2010ءمیں خواتین پر تشدد کے 8000، 2009ءمیں8548، 2008ءمیں ان واقعات کی تعداد 7571تھی۔ ملک بھر میں اغوا کے 8096، قتل 5817، گھریلو تشدد 1985،خودکشی 2673، غیرت کے نام قتل 2341، اجتماعی زیادتی 3461، جنسی طور پر ہراساں کرنیکے 630، تیزاب پھینکنا 158، جلانا 178 دیگر7319 واقعات پیش آئے۔ 2011ءمیں عورتوں پر تشدد کی شرح میں2010ءکے مقابلے میںمجموعی طور پر 6.74فیصد ضافہ ہوا جبکہ جنسی تشدد کے واقعات میں 48.65فیصد، تیزاب پھینکنے کے واقعات میں37.5فیصد، غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں26.57فیصد جبکہ گھریلو تشدد کے واقعات میں25.51فیصد اضافہ ہوا۔ 2011ءمیں 8539عورتیں تشدد کاشکار ہوئیں۔ خواتین پر تشدد کے حوالے سے رکن پنجاب اسمبلی ساجدہ میر نے نوائے وقت سے گفتگو میں کہا کہ خواتین پر تشدد انتہائی قابل مذمت ہے، پنجاب حکومت تھانہ کلچر تبدیل کرے تاکہ تشدد کا شکار عورتیں تھانے جا کر رپورٹ درج کروا سکیں۔ عورت فاو¿نڈیشن کی ممتاز مغل اور نبیلہ شاہین نے کہا کہ ہزاروں عورتوں کو ہرسال جرگے اور پنچائےت کے فیصلوں کے تحت غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پنجاب حکومت ایمپاورمنٹ کے بلند بانگ دعوو¿ں کے باوجودکیوں آج تک بل اسمبلی میں پیش نہیں کرسکی؟ نجی سکول کی پرنسپل آمنہ پروین نے کہا کہ خواتین پر تشدد جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ سکول ٹیچر سجیلہ سعید نے کہا کہ مرد اپنی فرسٹریشن اور معاشرتی ناہمواریوں کا غصہ خود سے کمزور مخلوق عورت پر نکالتے ہیںاور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔ طالبہ فاطمہ ریحان نے کہا کہ خواتین تشدد پر خاموش نہ رہیں۔ گھریلو خاتون فائزہ شکیل نے کہا کہ مائیں بیٹوں کو خواتین پر تشدد کے خاتمے کی تربیت دیں۔