بلوچستان پر صدر‘ وزیراعظم کچھ نہیں کرتے تو ہمیں حکم دینا پڑے گا‘ لاپتہ افراد کا معاملہ زیر سماعت ہے ‘ اقوام متحدہ کا وفد بلا کر عدالتی امور میں مداخلت کی گئی : سپریم کورٹ

20 ستمبر 2012
بلوچستان پر صدر‘ وزیراعظم کچھ نہیں کرتے تو ہمیں حکم دینا پڑے گا‘ لاپتہ افراد کا معاملہ زیر سماعت ہے ‘ اقوام متحدہ کا وفد بلا کر عدالتی امور میں مداخلت کی گئی : سپریم کورٹ


اسلام آباد (نوائے وقت نیوز/ ثناءنیوز) سپریم کورٹ نے بلوچستان ٹارگٹ کلنگ کیس کی سماعت کے دوران لاپتہ افراد کے ایشو پر پاکستان میں اقوام متحدہ کے وفد کو بلوانے کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری خارجہ و داخلہ کو مشترکہ بیان داخل کرانے کا حکم دے دیا ہے ۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا ہے کہ اگر بلوچستان کے معاملے میں صدر اور وزیراعظم کچھ نہیں کرتے تو پھر عدالت کو حکم دینا پڑے گا کہ اقوام متحدہ کا وفد بلوانا عدالتی کام میں مداخلت ہے ۔ چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے بدھ کو بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کی تو اس دوران یواین ورکنگ گروپ کے دورہ کا معاملہ بھی عدالتی نوٹس میں آیا۔ عدالت کے پوچھنے پر وفاقی سیکرٹری داخلہ نے بتایاکہ اس وفد کو حکومت پاکستان نے دفترخارجہ کے ذریعے بلوایا ہے ، اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ جب لاپتہ افراد کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے تو انہیں کیسے بلوایا، اس پر سیکرٹری خارجہ کو نوٹس دیں گے۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہاکہ اس وفد کو بلوا کر عدالتی کام میں مداخلت کی گئی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو خطرہ ہے تو پورے پاکستان کو خطرہ ہے ۔ صوبے میں حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں جو عدالتی احکامات کو تسلیم نہیں کرتا اس کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بلوچستان میں حالات کی خرابی کی کیا وجہ ہے اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ حالات حکومت نے خراب کئے ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ حالات آپ کہنا چاہتے ہیں عدالت نے خراب کئے ہیں ۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو اپنی نشست پر بیٹھ جانے کا کہا جس پر وہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پانچ منٹ میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس مقدمہ کی اتنی زیادہ سماعت کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں آگ لگی ہے وہاں حالات بگڑتے جارہے ہیں۔ خضدار میں بھی آگ لگی ہے اس مقدمہ کو سب سے زیادہ اہمیت دیں گے ۔ جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ ہمیں حتمی اقدام کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے اگر حکم نامہ میں لکھوائیں کہ وفاقی حکومت ناکام ہے تو اس کے کیا نتائج ہوں گے ۔ آگاہ رہیں ہم اپنے جذبات کا اظہار دوسروں کی طرح نہیں کر سکتے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت لوگوں کو مروانا چاہتی ہے تو مروائے ذمہ دار بھی حکومت ہو گی ۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ سیکرٹری داخلہ آدھے گھنٹے میں عدالت میں حاضر ہوں بصورت دیگر معطل کروا کر گرفتار کروا دیں گے ۔ جسٹس جواد خواجہ کا کہنا تھا کہ سیکرٹری داخلہ گزشتہ 10 پیشیوں میں پیش نہیں ہوئے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سیکرٹری داخلہ نہ آئے تو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے انہیں معطل کرنے کا کہیں گے جبکہ جسٹس جواد خواجہ کا کہنا تھا کہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پڑیں گے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کے بار بار کہنے کے باوجود بلوچستان کے مسئلہ کے حل کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا جا رہا۔ عدالت نے مسئلہ کے حل کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ چیف جسٹس نے حکومتی عہدیداروں کے وکیل ایس ایم ظفر سے کہا کہ اگر ہم نے ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا تو پھر کچھ بھی باقی نہیں رہے گا ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ کام نہیں کر رہے ۔ آپ خود ان کے خلاف ایکشن لیں ہم بار بار لوگوں کے تبادلے نہیں کر سکتے۔ دوران سماعت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر یاسین آزاد نے بلوچستان کانفرنس کے بارے میں عدالت کو بتایا ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں ہونے والی کانفرنس کا اعلامیہ حکومت اور تمام حکومتی ذمہ داران کو بھجوایا لیکن کسی جانب سے 10 روز گزرنے کے باوجود جواب موصول نہیں ہوا ۔ اس پر جسٹس جواد خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کو اگر اس کیس سے دلچسپی ہوتی تو 10 گھنٹے میں جواب آنا چاہئے تھا ۔ پولیس حکام نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ چیف سیکرٹری اور پولیس حکام نے وزیر اعلیٰ کی زیرصدارت ایک میٹنگ کی ہے جس میں کوئٹہ شہر کو محفوظ بنانے کے لئے منصوبہ بنایا جا رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے دھنجی ، دوری اورعمستان کے علاقوں میں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ابھی تک ان واقعات کے ذمہ داروں کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔ چیف جسٹس نے سعید عمرانی کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اس قتل کی وجوہات تمام لوگ جانتے ہیں لیکن ابھی تک کسی نے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور مشینری کوئٹہ میں ہی امن و امان قائم نہیں کر سکی تو پورا صوبہ میں امن قائم کرنا ان کے بس کی بات نظر نہیں آتی اگر حکومت صرف کوئٹہ کو محفوظ بنائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ پورا بلوچستان محفوظ ہو گیا۔ پورے صوبہ کو پرامن بنانے کی ضرورت ہے ۔ عدالتی حکم پر سیکرٹری داخلہ صدیق اکبر عدالت کے روبرو پیش ہوئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کوئی بلوچستان کے مسئلے کا حل چاہتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بیماری کی وجہ سے وہ چھٹی پر تھے اور عدالت کے طلب کرنے پر گھر سے پہنچے ہیں جبکہ لیٹ آنے پر انہوں نے عدالت سے معذرت بھی کی ۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ حکومت مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ ہے اور بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے ۔ عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ بلوچستان کے حالات دن بدن بگڑتے جارہے ہیں ۔ حالات پر قابو پانے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں تو سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ صوبائی مشینری بلوچستان کے مسئلہ کے حل کے لئے اقدامات کر رہی ہے ۔ اس موقع پر جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ اپریل کے مہینے میں اس کیس میں کچھ پیش رفت ہوئی تھی جس کے بعد کوئی اہم اقدامات نہیں کئے گئے ۔ عدالت کو بتایا جائے کہ اقوام متحدہ کے مشن کو پاکستان میں کس نے بلایا ہے ۔عدالت کی ہدایت پر اٹارنی جنرل نے دفاع اور داخلہ امور کے وفاقی سیکرٹریز اور چیف سیکرٹری بلوچستان کا مشترکہ بیان پیش کیا ۔جس کے مطابق78 افراد میں سے کوئی بھی ایف سی ہاکس اور ایجنسی کی حراست میں نہیں ہے۔80افراد کو حراست میں لئے جانے کی بات بھی درست نہیں ۔ عدالت نے اس بیان کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس بیان کو تسلیم نہیں کرتے۔ اسے بیشک فائل نہ کیا جائے عدالت ہر کیس کو انفرادی طور پر سنے گی۔کیس کی مزید سماعت آج ملتوی کردی گئی ۔ قبل ازیں دفاع اور داخلہ کی وفاقی وزارتوں اور چیف سیکرٹری بلوچستان نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی حراست سے قطعی انکار کر دیا جبکہ سپریم کورٹ نے وفاقی سیکرٹری داخلہ و دفاع کی جانب سے جمع کرائے گئے اس بیان کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہر لاپتہ فرد کا کیس الگ الگ سنیں گے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...