گستاخانہ امریکی فلم کیخلاف لاہور‘سندھ ہائیکورٹس میں درخواستیں دائر‘ پی ٹی اے سے جواب طلب

20 ستمبر 2012

 لاہور/کراچی(وقائع نگار خصوصی +اے پی اے) گستاخانہ امریکی فلم کیخلاف لاہور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کردی گئیں ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے انٹر نیٹ پر گستاخانہ مواد کیخلاف دائر رٹ پر وفاقی حکومت اور چیئر مین پی ٹی اے سے سات اکتوبر کو جواب طلب کرلیا۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت کے روبرو درخواست گزار کے وکیل فہد صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے پی ٹی اے اور وفاقی حکومت کو انٹر نیٹ کی تمام ویب سائٹس پر گستاخانہ مواد مستقبل بنیادوں پر ختم کرنے کا حکم دیا لیکن اس کے باوجود چند روز قبل گستاخانہ امریکی فلم کا مواد انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹس پر اپ لوڈ کردیا گیا جو توہین عدالت ہے۔عدالت نے درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے چیئر مین پی ٹی اے اور وفاقی حکومت سے سات اکتوبر کو جواب طلب کرلیا۔ادھر سندھ ہائیکورٹ میں بھی گستاخانہ فلم کیخلاف درخواست دائر کی گئی ہے جس میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس سے قبل امریکی فوج نے بھی 2004ءمیں قرآن پاک کی بیحرمتی کی،2011ءمیں امریکی پادری ملعون ٹیری جونز نے اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور قرآن کریم کی بیحرمتی کی اور اب گستاخ رسول پادری نے شان رسول میں گستاخی کرتے ہوئے امریکیوں سے فنڈ اکٹھے کرکے جون 2012 میں گستاخی رسول پر مبنی فلم کیلیفورنیا کے سینےما پر دکھائی جس کا سنسر شپ سر ٹیفکیٹ امریکی حکومت نے دیا لہٰذا امریکی حکومت واضح طورپر اس گستاخی میں ملوث ہے۔انجمن اسلامی اصلاح برائے معاشرہ کے امیر حاجی گل احمد کی جانب سے گستاخانہ امریکی فلم کے خلاف،پاکستان میں امریکی مداخلت اور پاکستان توڑنے کی سازشوں،ڈرون حملے روکنے، نیٹو سپلائی پر پابندی عائد کرنے سے متعلق دائر آئینی درخواست کی ایک دوسری درخواست کیساتھ مشترکہ سماعت جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس فاروق علی پر مشتمل بینچ نے کی۔ دوران سماعت معزز عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں، ہمارے بھی یہی جذبات ہیں جس کے جواب میں درخواست گزار نے کہا کہ حکومت میری درخواستوں کا جواب ہی دیدے تو معزز عدالت نے کہا کہ حکومت اس قابل کہاں کہ جواب دے اور جواب طلبی کیلئے وفاق پاکستان، وزارت داخلہ جبکہ ملک توڑنے کی امریکی سازش سے متعلق متحدہ کے لیڈر الطاف حسین،ذوالفقار مرزا، پیر مظہر الحق کو نوٹس جاری کرنے کے احکامات صادر فرما دئیے جبکہ وفاق پاکستان، صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان،آرمی چیف،IB چیف،نیول چیف،ISI چیف، سپیکر قومی اسمبلی، چیئر مین سینٹ، امریکی قونصلیٹ و دیگر کو پہلے ہی نوٹس جاری کردئیے گئے ہیں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کمنٹس فائل کرنے کیلئے مزید وقت طلب کیا جس پر عدالت نے 4ہفتوں کا وقت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ درخواست گزار نے آئینی درخواست کی سپورٹ میں بطور ثبوت امریکی صدر کا پاکستان توڑنے سے متعلق انٹرویو، الطاف حسین ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنسوں کی ریکارڈنگ، امریکی سفیر ” سٹیفن“ کا بیان،مہران بیس میں حملے کے وقت 16 امریکیوں کی موجودگی،شہباز ائر بیس اور شمسی ائر بیس میں امریکی فوجیوںکی موجودگی اور حملہ کرنے سے متعلق پروازوں کی روانگی، اسامہ بن لادن کی لاش سمندر برد کرنے سے متعلق امریکی حکومت کا بیان،ڈاکٹر قدیر کو امریکی سازش کے تحت نظر بند کئے جانے اور پرویز مشرف کی پاکستان کے خلاف سازشوں کیمپ ڈیوڈ سازش سے متعلق ریکارڈ اور امریکہ سے دہشت گردی کیلئے پاکستان بھیجی گئی رقوم کی تفصیل اور یہاں ادائیگی کے ثبوت شامل ہیں۔