بھارت کا دوسرے طویل مار ایٹمی اگنی میزائل کا تجربہ

20 ستمبر 2012

نئی دہلی (ثناءنیوز) بھارت نے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت رکھنے والے اگنی چہارم میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو چار ہزار کلو میٹر کی دوری تک مار کر سکتا ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق بدھ کے روز اس کا تجربہ ریاست اڑیسہ کے ساحل سے کیا گیا۔ اس سے قبل اپریل میں بھارت نے جوہری ہتھیار لے جانے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل اگنی پانچ کا تجربہ کیا تھا جس کی مار پانچ ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے۔ اس میزائل کو اڑیسہ کے وہیلر جزیرہ سے موبائل لانچر کی مدد سے لانچ کیا گیا۔ حکام کے مطابق اسے منزل تک گائیڈ کرنے کے لیے کمپیوٹر کے ڈیجیٹل کنٹرول سسٹم کو استعمال کیا گیا۔بھارتی محکمہ دفاع کے حکام کا کہنا تھا کہ یہ میزائل کمپیکٹ ایونیک جیسی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے جس پر حد درجہ بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا یہ اگنی چہارم میزائل دوسرے میزائلوں کے مقابلے میں کافی ہلکا ہے۔اس میں ایندھن بھرنے کا بھی دو طرح کا انتظام ہے اور ماہرین کے مطابق حدت برداشت کرنے کے لیے جو شیلڈ اس میں لگی ہے وہ تین ہزار ڈگری سیلسیس تک کی حدت کو برداشت کر سکتی ہے۔ڈیفینس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ اورگنائزیشن بھارتی محکمہ دفاع کا وہ شعبہ ہے جو میزائل ٹیکنالوجی کی ڈیویلپمنٹ کے لیے کام کرتا ہے اور وہ اس میزائل کا ابھی ٹرائل کر رہا ہے۔اپریل میں جو تجربہ کیا گیا تھا اس کے ساتھ بھارت ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا جن کے پاس بین البراعظمی میزائل بنانے کی صلاحیت ہے۔ اے ایف پی کے مطابق بھارت سے ماہ اپریل میں 5 ہزار کلو میٹر تک مارکرنیوالے اگنی پنجم میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ اس تجربہ سے بھارت کی علاقائی سطح پر بڑی طاقت کے طورپر ابھرنے کی خواہشات کا اظہار ہوتا ہے۔ بھارت نے دوسری طویل فاصلہ تک مار کرنے والے اگنی چہارم میزائل کا تجربہ کیا۔ یہ تجربہ پاکستان کی جانب سے سٹیلتھ خصوصیات کے حامل ایٹمی میزائل کے تجربے کے دور روز بعد کیا گیا۔ پاکستان نے پیر کے روز تجربہ کیا تھا۔