ٹارگٹ کلنگ کا واحد حل متحدہ کو حکومت سے الگ کرنا ہے: منور حسن

20 ستمبر 2012

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے کہا ہے کہ اگر حکمران اسلام مخالف گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج کرنے میں مخلص ہیں تو صدر اور وزیراعظم احتجاجی ریلیوں کی خود قیادت کریں، حقیقت میں حکمرانوں نے صرف اپنی کھال بچانے کےلئے احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے تین روز کا نوٹس دیا جائے کہ امریکہ اس فلم پر معافی مانگے ورنہ امریکی سفیر سمیت تمام امریکی سفارتی اہلکاروں کو ملک بدر کر دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس میں انسانی روپ میں درندوں کو بھرتی کر لیا گیا ہے ۔ جماعت اسلامی نے احتجاجی ریلی کی کال دی تو جماعت اسلامی کے ناظم کراچی محمد حسین محنتی سمیت 100 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ پولیس نے عبدالواحد کو براہ راست گولی مارکے قتل کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانی قتل و غارت میں ملوث پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جماعت اسلامی کے گرفتار تمام رہنماو¿ں و کارکنوں کو رہا اور ان کے خلاف مقدمات کو واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے جن افراد کے چہرے دیکھے گئے ہیں انہیں شامل تفتیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گارمنٹس فیکٹری کے معاملہ پر سندھ حکومت کو مستعفی ہو جانا چاہئے تھا۔ سندھ کے حالات کو سمجھنے اور ان کو درست کرنے کےلئے ارباب اختیار کو پالیسی بنانا ہو گی۔ ٹارگٹ کلنگ ختم کرنے کا واحد حل متحدہ کو حکومت سے الگ کرنا ہے۔ نارتھ ناظم آباد کو ڈیتھ سنٹر بنا دیا گیا ہے ۔