پاکستان اور تیونس کے درمیان تجارتی و صنعتی تعلقات بڑھانے پر اتفاق

20 ستمبر 2012

اسلام آباد(اے پی پی) پاکستان اور تیونس کے مشترکہ کمیشن کا دو روزہ اجلاس اسلام آباد میں شروع ہوگیا۔ بدھ کو اجلاس کے پہلے روز تین مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیئے گئے جو ترجیحی تجارت کے معاہدہ ‘ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون اور دونوں ممالک کے درمیان زیر التواءمعاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے اس حوالے سے سفارشات تیار کریں گے۔ دو روزہ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت ‘ سرمایہ کاری ‘ توانائی ‘ فناسنگ ‘ زراعت اور مواصلات کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اجلاس میں دوطرفہ تجارت ‘ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے شعبہ میں صنعتی تعاون اور پاکستان کے ایکسپورٹ پروسنگ زونز میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ تیل و گیس ‘ کان کنی ‘ پانی و بجلی اور بینکنگ و مالیاتی شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے طریقہ تلاش کئے جائیں گے ۔اس موقع پر اسلامی بینکنگ کے شعبہ میں تربیت کورسوں کے انعقاد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ دو روزہ اجلاس میںپاکستان اور تیونس کے مرکزی بینکوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کے علاوہ ایک دوسرے کے ہاں بینکوں کی شاخیں کھولنے کے معاملہ پر بھی غور ہوگا۔ پاک تیونس مشترکہ کمیشن کے دو روزہ اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خارجہ امور نوابزادہ ملک احمد خان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات قائم ہیں تاہم ان کے درمیان معیشت کے مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کو اپنے عوام کے مفاد میں باہمی تعاون نئے راستے تلاش کرنے چاہئیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دو روزہ مذاکرات سے حاصل ہونے والی سفارشات دو طرفہ تعلقات باالخصوص تجارت ‘ تعلیم ‘ زراعت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے میں مدد گار ثابت ہوگی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھی ہے لیکن یہ موجود صلاحیت سے کم ہے ۔ ہمیں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو تجارتی وفود کے تبادلہ کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ہاں تجارتی میلوں اور نمائشوں میں بھی بھرپور شرکت کرنی چاہئے۔