فرانسیسی جریدے نے گستاخانہ خاکے شائع کر دئیے ‘20 ممالک میں آج سفارتخانے بند رہیں گے

20 ستمبر 2012

پیرس (نیٹ نیوز/ ایجنسیاں) فرانس کے ایک ہفت روزہ جریدے نے گستاخانہ خاکے شائع کر دئیے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرانسیسی زبان میں چھپنے والے میگزین 'چارلی ایبڈو' کے ایڈیٹر انچیف چارب نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے پرچے میں ایک صفحہ ان خاکوں کے لئے مختص کیا ہے۔ فرانسیسی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے جریدے کے ایڈیٹر نے کہا کہ “جو لوگ ہمارے میگزین سے نفرت کرتے ہیں اسے پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور ہمارے ساتھ لڑائی پر اتر آتے ہیں، یہ خاکے ان کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔ ہم لڑائی کرنے والوں کے ساتھ اسی طرح لڑ سکتے ہیں۔ فرانسیسی وزیر اعظم جان مارک آئرویلٹ نے میگزین کے چیف ایڈیٹر کے بیان کے ردعمل میں کہا کہ وہ میڈیا کی آزادی کی آڑ میں کسی کو حدود سے تجاوز کی اجازت نہیں دیں گے ، گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے متعلق سوال پر فرانسیسی وزیر اعظم نے کہا کہ تمام ادارے اور شہری احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ ادھر پیرس میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں لیکن وہ حدود سے تجاوز کو پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے تمام اشاعتی اور نشریاتی اداروں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اورکسی نئی اشتعال انگیز کارروائی سے گریز کریں۔ وزیراعظم آئرویلٹ کا کہنا تھا کہ فرانس سیکولر ملک ہے جہاں تمام مذاہب کو یکساں احترام حاصل ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ لوران فائیبوس نے کہا کہ ہر ایک کو اپنی رائے کے اظہار کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ 20 ستمبر کو 20 ممالک میں فرانسیسی سفارتخانے بند رہیں گے ۔ فرانس نے کچھ ممالک میں اپنے بعض سفارتخانوں کے گرد سکیورٹی بڑھا دی ہے۔ فرانس کے وزیر خارجہ لارون فابیوس نے کہا کہ جریدے کے نیوز سٹینڈز پر آنے کے بعد انہیں تشویش ہے۔ اس لئے احتیاط کے طور پر تقیرباً 20 ممالک میں فرانسیسی سفارتخانے، قونصل خانے، ثقافتی مراکز جمعہ کو بند رہیں گے ۔ جریدے کے پیرس میں دفاتر کے باہر بھی پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ فرانس کے دفتر خارجہ کی ویب سائٹ پر فرانس کے وزیراعظم ژان مارک ایرو کی طرف سے شائع کئے جانے والے ایک بیان کے مطابق ’اظہار آزادی فرانس کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے‘ جس طرح سیکولرا زم اور دوسرے مذہب کے لئے احترام، اور اس لئے حالیہ تناظر میں وزیراعظم کسی بھی قسم کی زیادتی پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔ فرانس کے مسلمان رہنماﺅں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔ فرانس میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد فرانس میں ہے جوکہ کل آبادی کا دس فیصد ہے۔ پیرس کی مرکزی مسجد کے ریکٹر جلیل ابوبکر نے کہا کہ ’یہ ایک شرمناک، فضول اور احمقانہ اشتعال انگیزی ہے۔ ہم پاولو کے جانوروں کی طرح نہیں کہ ہر ہتک پر بھڑک اٹھیں۔ مصر میں اخوان المسلمون کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے رہنما اعصام اریان نے ان خاکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ دوسری جانب فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ اسلام ان لوگوں سے زیادہ بردبار مذہب ہے جو آج اس کے جھوٹے دعویدار بنے پھرتے ہیں۔ فرانس کے شہر لوور میں اسلامی ورثہ میوزیم کے افتتاح کے موقع خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام اور انتہاءپسندی کو خلط ملط کرنا درست نہیں۔" اسلام ایک تہذیب نہیں بلکہ تہذیبوں کا مجموعہ ہے۔ یہ کسی ایک کلچر کا نام نہیں بلکہ متعدد ثقافتوں کا آئینہ ہے۔ اسلامی تہذیب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ اپنے ان جھوٹے ترجمانوں سے زیادہ تحمل مزاج اور زندہ دل ہے۔ اسلامی تہذیب، نفرت اور انتہاء پسندی کی ضد ہے۔ اسلام کو متعصب دین قرار دینے کا علاج خود اسلامی تعلیمات میں موجود ہے۔ فرانسیسی صدر نے یورپ میں عیسائیت اور اسلام کے درمیان روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم تہذیب تعمیرات کے نادر نمونے تاج محل سے لیکر ابن رشد جیسی شخصیات کی صورت میں بین الاقوامی تہذیب سے کئی درجے بہتر ہے۔ عربوں نے یونانی فلسفے کو فاطمی مصر میں رواج دیکر اپنی علمی برتری ثابت کر دی ہے۔ پیرس کے جنرل سٹور میں دھماکے سے 4افراد زخمی ہو گئے۔ عینی شاہد کے مطابق دو کالے لباس میں ملبوس نوجوانوں نے بم پھینکا۔ خاکوں کے بعد مصر میں فرانس کے سکول بند کر دئیے گئے ہیں۔ وائٹ ہاﺅس کے ترجمان جے کارن نے کہا ہے کہ ہم نے خاکوں کی اشاعت کے بارے میں پوچھا ہے تاہم تشدد کا کوئی جواز نہیں۔