گستاخانہ فلم کیخلاف احتجاج جاری‘ اسلام آباد میں وکلا ڈپلومیٹک انکلیو میں داخل‘ لاٹھی چارج: لاہور میں جمعیت کی ریلی

20 ستمبر 2012
گستاخانہ فلم کیخلاف احتجاج جاری‘ اسلام آباد میں وکلا ڈپلومیٹک انکلیو میں داخل‘ لاٹھی چارج: لاہور میں جمعیت کی ریلی

 لاہور + اسلام آباد + کابل + پیرس (وقائع نگار + آن لائن + اے ایف پی + نوائے وقت نیوز) گستاخانہ امریکی فلم کیخلاف پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ گذشتہ روز بھی جاری رہا۔ کئی شہروں میں دوسرے روز بھی شٹر ڈاﺅن رہا۔ اسلام آباد میں وکلا مارچ کرتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہو گئے اور ڈپلومیٹک انکلیو کا مرکزی دروازہ توڑ دیا۔ اس موقع پر پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹس سے وکلا کی احتجاجی ریلی نے جناح ایونیو سے ڈپلومیٹک انکلیو کی طرف مارچ کیا۔ ریلی کے شرکا گستاخانہ فلم بنانے والوں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔ اس موقع پر پولیس کے اضافی دستے تعینات تھے۔ مظاہرین نے ریڈ زون میں داخل ہو کر ڈپلومیٹک انکلیو کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے لاٹھی چارج کیا لیکن مظاہرین رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے ڈپلومیٹک انکلیو کے داخلی مقام تک جا پہنچے۔ انہوں نے وہاں لگائے گئے گیٹ کو اکھاڑ دیا۔ وکلا کو دوسرے گیٹ پر روک لیا گیا۔ اس موقع پر وکلا رہنماﺅں نے انتہائی پرجوش تقاریر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ امریکی سفیر کو ملک سے نکال دیا جائے، امریکہ نوازی بند کی جائے۔ وکلا نے امریکی پرچم کو پاﺅں تلے روندا اور پھر نذر آتش کر دیا، شرکا نے ”توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں پر لعنت“ ”امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے“ اور ”نبی اکرم کی حرمت پر جانیں نثار کرنے کو تیار ہیں“ کے پرجوش نعرے لگائے۔ انہوں نے انکلیو کا گیٹ توڑ کر اندر داخل ہو کر امریکی سفارتخانہ کو احتجاجی قرارداد دی۔ مذہبی و سیاسی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کی طرف سے گستاخانہ فلم کےخلاف 21 ستمبر کو ہڑتال اور احتجاج کی کال کے بعد امریکی سفارتخانے اور قونصل خانوں کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ کابل میں پانچویں روز بھی توہین آمیز فلم کیخلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ صوبہ ننگر ہار میں ایک ہزار مشتعل افراد اور طلبا نے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکہ کیخلاف نعرے درج تھے مظاہرین نے اس موقع پر دارالحکومت کابل میں اہم قومی شاہراہ کو بلاک کر کے ٹائر جلائے۔ انڈونیشیا، مقبوضہ کشمیر، فلسطین اور دیگر ملکوں میں بھی گستاخانہ فلموں کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے گستاخانہ فلم پر تشدد آمیز احتجاج قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ہر صورت اپنے سفارتکار اور عملے کی حفاظت کرنے میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ صدر بارک اوباما نے مسلم دنیا سے امریکی شہریوں کو تحفظ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سفارت خانوں کے تحفظ کی خاطر جارحانہ اقدامات سے گریز نہیں کریں گے اور تمام سفارت خانوں میں سکیورٹی کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سفارت کاروں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ 4 امریکی سفارت کاروں کی ہلاکت کے بعد سفارت خانوں کی سکیورٹی انتظامات پر تشویش ہے۔ جکارتہ میں سینکڑوں مظاہرین نے امریکی پرچم پھاڑ ڈالا۔ مالدیپ میں گستاخانہ فلم پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ جرمنی کے سیاستدانوں اور مسلم گروپوں نے گستاخانہ فلم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ”گوگل“ نے گستاخانہ فلم کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ یو ٹیوب پر لوڈ کردہ تمام لنکس سعودی عرب میں بلاک کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ العربیہ کے مطابق گوگل نے یہ اقدام سعودی حکومت کی جانب سے اس مطالبے کے بعد اٹھایا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ مملکت میں انٹرنیٹ صارفین کے لئے جلد از جلد گستاخانہ فلم تک رسائی بند کرے ورنہ یوٹیوب بند کر دی جائے گی۔ اوباما نے کہا ہے کہ اس فلم سے امریکی حکومت کا کوئی تعلق نہیں، فلم بنانے والا تاریک کردار کا حامل ہے۔ امریکہ نے انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر میدان میں قونصلیٹ عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ مصر کے سلفی عالم احمد فواد اشوش نے گستاخانہ فلم کے اداکاروں کے قتل کا فتویٰ جاری کیا ہے۔
لاہور + فیصل آباد (خصوصی نامہ نگار + خبرنگار+ اپنے نمائندے سے + نمائندگان + نوائے وقت نیوز) گستاخانہ فلم کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری رہا کئی شہروں میں مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں جبکہ کئی شہروں میں ہڑتال بھی جاری رہی۔ اس موقع پر امریکی پرچم ملعون امریکی پادری اور صدر اوباما کے پتلے نذر آتش کئے گئے۔ لاہور میں اسلامی جمعیت طلبہ نے لاہور پریس کلب کے باہر بھرپور احتجاج کیا اور دھرنا دیا۔ مظاہرین نے گستاخ فلم ساز کے پتلے بھی نذر آتش کئے، پولیس نے رات گئے کنٹینرز لگا کر امریکی قونصلیٹ کو جانے والے راستے سیل کردئیے تاہم کئی مشتعل طلبہ نے کنٹنیرز پر چڑھنے کی کوشش کی اور پولیس پر ڈنڈے اور بوتلیں بھی برسائیں، طلبہ نے قونصلیٹ کی عمارت پر پتھراﺅ بھی کیا جبکہ صحافتی تنظیموں نے بھی پریس کلب کے باہر شدید احتجاج کیا۔ مسلم لیگ (ن) اور سول سوسائٹی کے افراد نے بتی چوک سے مینار پاکستان تک ریلی نکالی۔ ڈیرہ غازی خان میں طلبا نے ریلی نکالی۔ مظاہرین نے امریکی پرچم اور صدر اوباما کا پتلا بھی جلایا۔ تھرپارکر کے کئی علاقوں میں شٹر ڈا¶ن ہڑتال کی گئی۔ پشاور میں سرکاری ملازمین نے احتجاجی ریلی نکالی جبکہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام بھی ریلی نکالی گئی۔ پشاور، شیخوپورہ، حافظ آباد ، جلالپور بھٹیاں، کنگن پور، جنڈیالہ شیر خان، فیصل آباد سمیت کئی شہروں میں مظاہرے کئے گئے اور ہڑتال کی گئی۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں شٹر ڈا¶ن ہڑتال کے دوران انجمن تاجران کی اپیل پر احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ لوئر دیر میں ہڑتال کے باعث دوسرے روز بھی دکانیں اور بازار بند رہے۔ سکھر میں بھی گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور ہڑتال کی گئی۔ سکندر آباد دا¶د خیل میں بھی شدید احتجاج کیا گیا۔ حویلی لکھا میں بھی شٹر ڈا¶ن رہا اور احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مظفر آباد اور کوٹلی میں بھی طلبا نے احتجاجی کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں تجارتی مراکز اور بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے لاڑکانہ میں احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ فیصل آباد میں تاجروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ریلی نکالی، منڈی بہاﺅالدین، سیالکوٹ، جھنگ، پاکپتن، حجرہ شاہ مقیم، چیچہ وطنی، اوکاڑہ، بوریوالہ، میانوالی، بھکر اوردیگر شہروں میں بھی زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیوں کے دوران امریکی پرچم اور ملعون پادری کے پتلے نذر آتش کئے گئے۔ لاہور میں اسلامی جمعیت طلبہ نے پریس کلب کے باہر احتجاجی ریلی نکالی اور دھرنا دیا جس میں لاہور کے مختلف چھوٹے بڑے تعلیمی اداروں کے طلبہ کی ایک کثیر تعداد نے بھرپور شرکت کی ۔ رہنماﺅں مدثر شاہ اور رسل خان سمیت دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت تین دن کے اندر اندر امریکہ کے سفیر کو ملک بدرکرے بصورت دیگر طلبہ کی ایک بڑی تعداد اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے پرمجبور ہو گی۔ اس موقع پر متعلقہ اطراف سے نکلنے والے راستے خاردار تاروں سے بند کردئیے گئے اور سکول و کالج کے اوقات کے وقت ٹریفک بری طرح جام رہی اور گھنٹوں گاڑیاں پھنسی رہیں۔ مظاہرین امریکہ مخالف نعرے بلند کرتے رہے اور امریکی پرچم سمیت اہل مغرب کے پتلے جلائے اور نماز بھی بھی پریس کلب کے باہر ادا کی ۔ دھرنا ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ طلبہ نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور احتجاجی بنیرز اٹھا رکھے تھے اس موقع پر امریکی قونصلیٹ کے باہر پولیس فورس کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ طلبہ نے ہاکیاں اور ڈنڈے اٹھا رکھے تھے۔ علاوہ ازیں پی یو جے، ایپنک،لاہور پریس کلب، پی یو جے (دستور)، فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن، پیمجا، پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی، ایمرا، اینکاکی اپیل پر لاہور کے صحافیوں نے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں تمام صحافتی تنظیموں کے عہدیداران اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے میں صحافیوں نے گستاخانہ فلم بنانے والوں اور امریکہ کی شدید مذمت کی اور اسے ایک بد ترین اخلاقی دہشت گردی سے تعبیر کیا۔ رہنماﺅں نے کہا کہ لاہور پریس کلب آئندہ پاکستان کے تمام پریس کلبوں اور صحافتی تنظیموں سے رابطہ کرکے امریکہ کے خلاف ایک بڑا احتجاجی پروگرام تشکیل دے گا جس کیلئے ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے۔مقررین نے کہا کہ گستاخانہ فلم دنیا میں مذہبی بنیادوں پر ایک بڑی جنگ شروع کروانے کی خوفناک سازش ہے۔ نمائندگان کے مطابق شاہکوٹ میں بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ حافظ آباد میں پاورلومز فیکٹریوں کے مزدوروں نے تحفظ ناموس رسالت ریلی نکالی جو محلہ میاں داکوٹ سے شروع ہو کر مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی وینکے چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر شرکاءنے امریکہ کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ۔ جلالپور بھٹیاں میں احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت لیاقت علی نے کی جبکہ گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول اور شیراز کالج کے اساتذہ اور طلبا نے بھی احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ کنگن پور میں ادارہ صراط مستقیم کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں ادارہ جماعت اہلسنت کے کارکنوں نے بھی شرکت کی ۔ جنڈیالہ شیرخان اور منڈی جھبراں میں سیاسی، سماجی، دینی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی ریلی نکالی گئی اور شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی گئی۔ ریلی کے باعث منڈی جھبراں میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا، مقررین نے کہاکہ بدبختوں کا ٹولہ عالمی امن کو تار تار کرنے کیلئے جو گھناﺅنی سازشیں کررہا ہے۔ وہ قابل مذمت ہی نہیں بلکہ قابل گرفت ہیں۔ شیخوپورہ میں موبائل مارکیٹ سے تحفظ ناموس رسالت ریلی نکالی گئی جو لاہور سرگودھا روڈ سے چکر لگا کربتی چوک پہنچ کر جلسہ کی شکل اختیارکرگئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا فیاض الحسن جمیل،رانا محمد سلیم نقشبندی، محمد وسیم نقشبندی نے کہاکہ حکومت پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ امریکی پادری کوسزا ملنے تک امریکہ کیساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کیساتھ ساتھ اپنے ممالک سے ان کے سفیروں کو ملک بدرکریں۔ پشاور میں پریس کلب کے سامنے زبردست احتجاج کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور طلبہ نے امریکی پرچم بھی نذرآتش کیا۔ علاوہ ازیں تحریک حرمت رسول، جماعة الدعوة اور دیگر تنظیموں کی طرف سے بھی احتجاج کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا۔ لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد ، گوجرانوالہ، حافظ آباد سمیت دیگر شہروں میں حرمت رسول کانفرنسوں، مظاہروں، جلسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر امریکہ و یورپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی جبکہ کل 21 ستمبر جمعتہ المبارک کو توہین آمیز امریکی فلم کے خلاف پورے ملک میں یوم احتجاج منایا جائے گا۔ لاہور سمیت ہر چھوٹے بڑے شہر میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ ریلیاں نکالی جائیں گی۔ تحریک حرمت رسول کی طرف سے بدھ کو فیصل آباد میں حرمت رسول کانفرنس ہوئی جس میں فیصل آباد و گرد و نواح سے تاجروں، طلباء وکلاءسمیت بڑی تعداد میں محبان رسول نے شرکت کی ۔ حافظ سیف اللہ منصور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توہین آمیز امریکی فلم بنانے اور چلانے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جائے۔ عالمی سطح پر تمام انبیاءکی شان میں گستاخی کی سزا موت کا قانون پاس کیا جائے۔ شیخوپورہ میں حرمت رسول کانفرنس سے مولانا خالد سیف الاسلام، مولانا عمر ربانی و دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ پورا پاکستان امریکہ میں بننے والی گستاخانہ فلم پر سراپا احتجاج ہے۔ گوجرانوالہ میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ملعون پادری ٹیری جونز کو امریکی حکومت اور یورپ کی سرپرستی حاصل ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں احمد سعید ملتانی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر ادارے توہین رسالت کی سزا کا قانون پاس نہیں کرتے تو مسلمانوں کو ان اداروں کی ضرورت نہیں۔