کراچی میں ٹارگٹ کلنگ‘ مزید 12 افراد جاں بحق ‘ جماعت اسلامی کی ہڑتال ‘توڑ پھوڑ گرفتاریاں

20 ستمبر 2012

کراچی + لاہور (کرائم رپورٹر + خصوصی نامہ نگار + خبرنگار + کامرس رپورٹر) کراچی میں پُرتشدد واقعات کے دوران فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں 12 افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔ ایک ٹرک اور منی بس کو نذر آتش کئے جانے کے علاوہ ٹھیلوں اور پتھاروں کو بھی آگ لگائی گئی۔ ملیر میں فائرنگ کے نتیجے میں دکان کا مالک غلام سرور اور اس کا دوست عبدالغنی ہلاک ہو گئے دونوں متحدہ کے کارکن تھے۔ ادھر ملیر ملت گارڈن میں مسجد قباءکے قریب نامعلوم افراد نے ایک شخص محمد سلیم کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، سعود آباد میں بھی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک ہو گیا نارتھ ناظم آباد کے بلاک ایس میں فائرنگ سے ایک شخص 35 سالہ وحید ولد یعقوب ہلاک ہو گیا، نارتھ ناظم آباد ہی میں 30 سالہ بہادر مارا گیا۔ لیاری کی بہار کالونی میں ایک خواجہ سرا 35 سالہ ثناءکی لاش ملی ہے رنچھوڑ لائن میں بھی پاکستان مسجد کے قریب سے ایک نوجوان کی لاش ملی جسے سر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ کلری میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک عورت ہلاک ہو گئی جبکہ بن قاسم کے علاقے شاہ کالونی میں مسلح افراد نے ایک شخص 45 سالہ وزیر داد ولد سید داد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس انسپکٹر اور ایک کانسٹیبل بھی جاں بحق ہوا۔ جماعت اسلامی کی اپیل پر ہڑتال ہوئی اور شہر کے تمام تجارتی مراکز‘ تھوک و خوردہ مارکیٹیں‘ بازار‘ شاپنگ سینٹرز‘ پٹرول پمپس‘ سی این جی اسٹیشنز اور پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہی۔ کراچی کے ساتھ ملک کے دیگر شہروں میں بھی یوم احتجاج منایا گیا اور کراچی میں ہونے والی قتل و غارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ئے گئے، جن میں گورنر سندھ کی برطرفی کامطالبہ کیا گیا۔ نماز جنازہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ عبدالواحد جرات مند اور باحوصلہ نوجوان تھا جس نے ہمیشہ بھتہ خوری اور دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کی ۔ متحدہ کی گولیاں ہمارا راستہ نہیں روک سکتیں دہشت گردوں کا بیڑا غرق ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن ہڑتال حکمرانوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف ریفرنڈم ہے، عوام نے پرامن اور کامیاب ہڑتال کرکے دہشت گردوں کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔ اس موقع مظاہرے کئے گئے۔ بعض مقامات پر مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی ۔ ہڑتال کے باعث مارکیٹیں اور دکانیں بند جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہی، مشتعل افراد نے ٹائر جلا کر روڈ بلاک کردیئے۔ جماعت اسلامی کے رہنماﺅں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر 100 سے زائد کارکنوںکو حراست میں لے لیا گیا۔ پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے سے سکول و کالج اور دفاتر جانے والے لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی کو ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا لیکن طبعیت کی خرابی کے بعد انہیں گھر منتقل کرکے نظر بند کردیا گیا۔ دریں اثناءجماعت اسلامی کے جاں بحق کارکن عبدالواحد کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، ا±ن کی نماز جنازہ نیو ایم اے جناح روڈ پرجماعت اسلامی کے رہنما مولانا اسداللہ بھٹو نے پڑھائی۔ دریں اثنا حیدری مارکیٹ میں وہنے والے بم دھماکوں میں ملوث ملزمان کا سراغ مل گیا ہے اور ایک مبنیہ دہشت گرد کے دو بھائیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دریں اثنا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی، ڈاکٹر عارف علوی، شفقت محمود نے حیدری نارتھ ناظم آباد میں بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی شدید مذمت کی اور ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔